سپریم کورٹ نے سرحدی علاقوں کو آبادیوں سے خالی رکھنے کی حکمت عملی مانگ لی۔

سپریم کورٹ نے متعلقہ اتھارٹیز کو حکم دیا ہے کہ سرحدی علاقوں پر موجود آبادیوں کو منتقل کرنے کی حکمت عملی تیار کی جائے ۔ قائم مقام چیف جسٹس گلزار احمد نے بدھ کو سرحدی علاقے پر زمین کے تنازعے کےایک کیس کی سماعت کے دوران یہ ریمارکس دیے کہ سرحدی علاقے ہمیشہ سے بہت حساس رہے ہیں اور سرحد کے نزدیک آباد لوگ کسی بھی وقت ملکی مفاد پر سمجھوتہ کرسکتے ہیں اور یہ عمل دراندازی اور سمگلنگ کا باعث بن سکتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جنگ کی صورت میں آپ ایسے علاقے میں کیسے زندگی بسر کریں گے۔ چیف جسٹس نے واضح کیا کہ کسی بھی شخص کو سرحد ی علاقے میں رہنے کی اجازت نہیں اور حکومت کسی بھی وقت سرحدی زمین کو اپنے قبضے میں لے سکتی ہے۔

About Maham Tahir

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔