روپے کے استحکام کے لئے فارکس مارکیٹ میں مداخلت کرتے رہیں گے، گورنر اسٹیٹ بنک

روپے کے استحکام کے لئے فارکس مارکیٹ میں مداخلت کرتے رہیں گے، گورنر اسٹیٹ بنک

اسلام آباد: گورنر اسٹیٹ بینک ڈاکٹر مرتضٰی سید کا کہنا ہے کہ روپے پر دباؤ کی صورت میں مرکزی بنک ماضی میں اپنا کردار ادا کرتا رہا ہے اور آئندہ بھی کرتا رہے گا۔

حالیہ انٹرویو میں گورنر اسٹیٹ بینک نے فارکس مارکیٹ میں مرکزی بنک کی مداخلت  کا بھرپور دفاع کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ بعض اوقات ترسیلاتِ زر اور ایکسپورٹ محصولات اچھی ہوتی ہیں، مگر کسی روز برآمد کنندگان کا شدید دباؤ آ جاتا ہے۔ ایسے میں روپے  پر دباؤ بڑھ جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ افواہ سازوں کے خلاف سخت ایکشن لیا جا رہا ہے۔ اسٹیٹ بنک نے فارکس کمپنیوں اور بنکوں کو جرمانے بھی کیے ہیں۔

روپے کے استحکام کے لئے فارکس مارکیٹ میں مداخلت کرتے رہیں گے، گورنر اسٹیٹ بنک

گورنر اسٹیٹ بنک نے بتایا کہ آئی ایم ایف نے چار ارب ڈالر کی فنانسنگ اکٹھی کرنے کی شرط رکھی ہے جس کو جلد پورا کر لیں گے۔ چین، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے پہلے بھی پاکستان کی مدد کی اب بھی وہ فنانسنگ کے حصول میں مدد کر رہے ہیں۔ اگلے بارہ ماہ میں پاکستان کو 34 ارب ڈالر کی ادائیگیاں کرنی ہے۔ حکومت اسکا انتظام کر لے گی۔

ڈاکٹر مرتضٰی سید نے ایک سوال  کے جواب میں کہا کہ  ہمیں سبسڈیز کے اسٹرکچر کا ازسرِنو جائزہ لینا ہو گا۔ ہر سیکٹر میں ہر کسی کو سبسڈی دینے کی بجائے جو اچھا پرفارم کر رہا ہے اس کے لیے مراعات دینے کا کلچر اپنانا ہو گا۔ ان کا کہنا تھا کہ جہاں بھی سبسڈی دی جاری ہے اس کا بغور مطالعہ کیا جانا چاہیے اگر اس سے مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہو رہے تو کسی اور سیکٹر میں اس کا اطلاق کیا جانا چاہیے جس سے ملکی معیشت کو فائدہ پہینچے۔

معیشت  کو مستحکم بنیادوں پر آگے لے جانے کے حوالے سے انکا کہنا تھا کہ مالیاتی نظام کا بھرپور جائزہ لینے کے ضرورت ہے۔ زراعت اور صنعت کے فروغ کے بنا، ترقی کا خواب کبھی حقیقت کا روپ نہیں دھار سکتا۔ علاوہ ازیں براہِ راست بیرونی سرمایہ کاری اور ایکسپورٹ بڑھانے کی بھی اشد ضرورت ہے۔

مزید خبروں اور اپڈیٹس کیلئے وزٹ کیجئے گرانہ بلاگ۔