دو کھرب آٹھ ارب روپے لاگت پر مشتمل ترقیاتی منصوبوں کے فنڈز غیرمنجمند کر دیے گئے: حکومتِ سندھ

حکومتِ سندھ کا کہنا ہے کہ سیلاب کے باعث 4 ہزار 1 سو 58 ترقیاتی منصوبوں کے دو کھرب آٹھ ارب روپے کے فنڈز غیرمنجمند کر دیے گئے۔

حکام کے مطابق وزیرِاعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے سوموار کے روز دو کھرب آٹھ ارب روپے کے ترقیاتی فنڈز غیرمنجمند کرنے کا اعلان کیا۔ یہ فنڈز ملک میں حالیہ سیلاب کے باعث منجمند کیے گئے تھے۔

حکام نے بتایا کہ اجلاس میں وزیراعلیٰ سندھ نے مختلف محکموں کی جاری ترقیاتی اسکیموں کا جائزہ لینے کا فیصلہ کیا۔

چیئرمین سندھ پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ بورڈ سید حسن نقوی نے وزیراعلیٰ سندھ کو بتایا کہ منجمد ہونے سے قبل 4 ہزار 158 اسکیموں پر کام جاری تھا جس کے لیے مذکورہ بالا رقم مختص کی گئی تھی۔ کُل رقم میں سے 1 کھرب 99 ارب روپے جاری کیے گئے  تھے جو بعد ازاں منجمند کر دیے گئے۔

علاوہ ازیں حکام نے بتایا کہ مذکورہ بالا ترقیاتی منصوبوں کے علاوہ 1 ہزار 3 سو 24 دیگر ترقیاتی سکیموں کے لیے بھی 1 کھرب 94 ارب روپے مختص کیے گئے تھے جو بعد ازاں منجمند کر دیے گئے۔

اجلاس میں وزیرِاعلیٰ سندھ کو سیلاب کے بعد بحالی کے منصوبوں کی کُل لاگت سے متعلق آگاہ کیا گیا۔ حکام نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ تباہ کن سیلاب کے بعد بحالی کے ہنگامی منصوبوں کے لیے 3 کھرب 36 ارب روپے درکار ہوں گے۔ اس میں بڑی شاہراہوں کی بحالی، پانی کی فراہمی اور نکاسی آب کے نظام کے لیے 22 ارب روپے، آبپاشی کے منصوبوں کی بحالی کے لیے 48 ارب روپے، ریسکیو 1122 ایمرجنسی سروسز کے لیے 9 ارب روپے، مویشیوں کے لیے 16 ارب 90 کروڑ روپے اور 1 کھرب 10 ارب روپے گھروں کی تعمیرِ نو کے لیے درکار ہوں گے۔

وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ سندھ میں کاشتکار برادری سیلاب کی وجہ سے اپنی فصلوں سے محروم ہوگئی ہے۔ اس مشکل وقت میں ان کا ساتھ دینے کے لیے حکومتِ سندھ نے 11 ارب روپے لاگت پر مشتمل گندم اور تیل کے بیج مختص کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

مزید خبروں اور اپڈیٹس کیلئے وزٹ کیجئے گرانہ بلاگ۔

About Rizwan Ali Shah

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے