حالیہ سیلاب کے نتیجے میں مجموعی طور پر 20 لاکھ گھروں کو نقصان پہنچا

نیشنل ڈیزاسٹر اینڈ مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق مون سون بارشوں کے باعث ملک میں آنے والے سیلاب کی تباہ کاریوں سے 20 لاکھ سے زائد گھروں کو نقصان پہنچا۔

این ڈی ایم اے کی رپورٹ کے مطابق تباہ شدہ مکانات کی تعداد 20 لاکھ سے زائد ہے جن میں تقریباً 12 لاکھ گھروں کو جُزوی نقصان پہنچا اور 827003 گھر تباہ ہوئے۔ سندھ میں تقریباً 18 لاکھ گھروں کو نقصان پہنچا جن میں 10 لاکھ کو جزوی اور 742695 مکمل طور پر نقصان پہنچا۔

این ڈی ایم اے کے اعداد و شمار کے مطابق سیلاب کے باعث پنجاب میں 67981 گھروں کو نقصان جن میں سے 25854 گھر مکمل طور پر تباہ ہوئے۔ کے پی میں 91463 کو نقصان پہنچا اور 37525 گھر تباہ ہوئے۔ صوبہ بلوچستان میں مجموعی طور پر 20027 گھر مکمل طور پر تباہ اور مجموعی طور پر 72235 گھروں کو نقصان پہنچا۔

نیشنل ڈیزاسٹر اینڈ مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) نے ملک میں ہونے والے دیگر نقصانات کے بھی اعداد و شمار جاری کیے۔ رپورٹ کے مطابق سیلاب کی تباہ کاریوں کے باعث ملک بھر میں ہلاک ہونے والے مویشیوں کی تعداد 11 لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے۔ سیلاب کے باعث سندھ میں 414869، پنجاب میں 205106 اور خیبر پختونخواہ میں 21328 مویشی ہلاک ہوئے۔ صوبہ بلوچستان میں گمشدہ مویشیوں کی تعداد 322393 ہے۔

رپورٹ کے مطابق انفراسٹرکچر کی بات کی جائے تو سیلاب کے باعث ملک بھر میں 13074 کلومیٹر سڑکیں متاثر ہوئیں۔ آزاد جموں و کشمیر میں مزید 18 پُلوں کو نقصان ریکارڈ کیا گیا جس سے ملک بھر میں متاثرہ پلوں کی تعداد 410 ہو چکی ہے۔

این ڈی ایم اے کے مطابق پاکستان میں سیلاب اور بارشوں سے جان بحق ہونے والوں کی تعداد 1663 ہو چکی ہے۔ ہلاک ہونے والے افراد میں 614 بچے، 716 مرد اور 333 خواتین شامل ہیں۔

سندھ میں بچوں کی اموات کی تعداد 319 ہو چکی ہے۔ ہلاک ہونے والوں میں 292 مرد اور 136 خواتین شامل ہیں۔ پنجاب میں 26 بچوں کی اموات ریکارڈ کی گئیں۔ جس سے صوبے میں ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 216 ہوچکی ہے۔ ان ہلاکتوں میں 76 بچے، 92 مرد اور 48 خواتین شامل ہیں۔

رپورٹ کے مطابق بلوچستان میں اب تک 323 اموات ریکارڈ کی گئیں جن میں 97 بچے، 80 خواتین اور 146 مرد شامل ہیں۔ کے پی میں 306 جانیں گئیں جن میں 116 بچے، 41 خواتین اور 149 مرد شامل ہیں۔ زخمیوں میں 12865 افراد میں سے 4006 بچے، 5407 مرد اور 3452 خواتین شامل ہیں۔

این ڈی ایم اے کی رپورٹ کے مطابق یہ ہلاکتیں 23 سے 24 ستمبر کے دوران راجن پور، میانوالی، لاہور، لیہ، جھنگ، قصور، پاکپتن، ساہیوال، جامشورو، سکھر، گھوٹکی، نوشہرو فیروز، بارکھان اور کچی میں ریکارڈ کی گئیں۔ اموات کی وجوہات میں ڈوبنا، بجلی کا کرنٹ لگنا اور مکان گرنا شامل ہیں۔

مزید خبروں اور اپڈیٹس کیلئے وزٹ کیجئے گرانہ بلاگ۔

About Rizwan Ali Shah

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے