سیلاب زدہ علاقوں میں 30 لاکھ بچوں کا تعلیمی سال ضائع ہونے کا خدشہ

نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی اور پلاننگ کمیشن کے حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان میں حالیہ سیلاب کی وجہ سے ہونے والی تباہی کے باعث تقریباً 30 لاکھ بچوں کا کم از کم ایک تعلیمی سال ضائع ہونے کا خدشہ ہے۔

حکام کا کہنا تھا کہ مون سون کی شدید بارشوں کے بعد موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے حالات مزید خراب ہو سکتے ہیں۔

این ڈی ایم اے کے اعداد و شمار کے مطابق جون کے وسط سے آنے والے سیلاب نے تقریباً 3 کروڑ 30 لاکھ سے زائد افراد کو متاثر کیا۔ سیلاب کے باعث لاکھوں ایکڑ اراضی زیر آب آ گئی اور بنیادی ڈھانچے تباہ ہوئے جس سے تعلیم کی سہولیات بھی بری طرح متاثر ہوئیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ سیلاب کے باعث سندھ میں تعلیم کے شعبے کو سب سے زیادہ نقصان پہنچا جہاں مقامی محکمہ تعلیم کے مطابق تقریباً 15,000 اسکول متاثر ہوئے۔ ان اسکولوں میں 24 لاکھ بچے زیرِ تعلیم تھے۔

این ڈی ایم اے اور پلاننگ کمیشن کے حکام نے جمعرات کے روز میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ مقامی حکومتوں نے سیلاب زدہ علاقوں میں عارضی تعلیمی مراکز قائم کیے ہیں تاکہ بچے تعلیم جاری رکھ سکیں۔ تاہم حکام کا کہنا ہے کہ تباہی کے پیمانے کو دیکھتے ہوئے یہ اقدامات کافی نہیں ہیں۔

وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کا کہنا ہے کہ پاکستان، یونیسیف اور دیگر ایجنسیوں نے سیلاب سے متاثر علاقوں میں متعدد عارضی تعلیمی مراکز قائم کیے ہیں۔

این ڈی ایم اے کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق بلوچستان میں 643، پنجاب میں 109 اور خیبرپختونخوا میں 287 سکولوں کو نقصان پہنچا۔

بدھ کو جاری ہونے والی ورلڈ بینک کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سیلاب نے اسکولوں کو بڑے پیمانے پر متاثر کیا۔ ڈیرہ غازی خان میں قائم گورنمنٹ ہائی سکول احمدانی نے 1916 سے طلباء کی کئی نسلوں کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کیا لیکن حالیہ سیلاب کے باعث ہونے والے نقصان کی وجہ سے وہاں تعلیم کا سلسلہ منقطع ہو چکا ہے۔

ورلڈ بینک کی رپورٹ کے مطابق بہت سے سکولوں کو ہنگامی پناہ گاہوں میں منتقل کر دیا گیا ہے جہاں کئی خاندان عارضی طور پر رہائش پذیر ہیں۔

مزید خبروں اور اپڈیٹس کیلئے وزٹ کیجئے گرانہ بلاگ۔

About Rizwan Ali Shah

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے