سیلاب کی تباہ کاریوں سے 80 لاکھ ایکڑ رقبے پر مشتمل فصلیں متاثر

وزارت نیشنل فوڈ سیکیورٹی اینڈ ریسرچ کے حکام کا کہنا ہے کہ ملک بھر میں سیلاب کی تباہ کاریوں کے باعث 80 لاکھ ایکڑ رقبے پر مشتمل فصلوں کو نقصان پہنچا۔

وزارت نیشنل فوڈ سیکیورٹی اینڈ ریسرچ کے اعداد و شمار کے مطابق سیلاب کے باعث چاول، کپاس، دالوں، تیل کے بیجوں اور سبزیوں سمیت 80 لاکھ ایکڑ سے زائد فصلیں تباہ ہوئیں۔ ان نقصانات کا تخمینہ 1.34 ارب ڈالر لگایا گیا ہے۔

پاکستان ایگریکلچرل ریسرچ کونسل کے چیئرمین محمد عظیم خان نے بتایا کہ ملک بھر میں تمام بڑی فصلیں تباہ ہو چکی ہیں۔ پاکستان دنیا میں چاول کا چوتھا اور کپاس کا پانچواں برآمد کنندہ ہے لیکن حالیہ سیلاب نے ان فصلوں کو تباہ کر دیا ہے جس کے باعث ملک کی برآمدی آمدن اور عالمی رسد متاثر ہوئی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ان نقصانات کے باعث ملک میں کاشتکار برادری کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس کمیونٹی کے لیے رزق کا واحد ذریعہ ان کی فصلیں اور مویشی تھے جو کہ حالیہ سیلاب کی نظر ہو گئے۔

پاکستان ایگریکلچرل ریسرچ کونسل کے چیئرمین کا کہنا تھا کہ اب ذمہ داری حکومت پر عائد ہوتی ہے کہ وہ کسانوں کو ان کے نقصانات کو پورا کرنے کے لیے خصوصی مراعات فراہم کرے تاکہ انھیں دوبارہ اپنے پیروں پر کھڑا کیا جا سکے۔

انہوں نے تجویز دیتے ہوئے کہا کہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں کاشتکاروں کی طرف سے مانگے گئے قرضوں کو ری شیڈول کیا جانا چاہیے اور زرعی قرضوں پر سود بھی معاف کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ حکومت کاشت کاروں کی بحالی کے لیے اقدامات کر رہی ہے اور دانشمندانہ پالیسیاں اپنا رہی ہے۔

راولپنڈی میں پیر مہر علی شاہ ایریڈ ایگریکلچر یونیورسٹی کے پروفیسر محمد اعظم خان نے کہا کہ بہت سے اضلاع میں سیلاب نے قابلِ کاشت زمینیں تباہ کر دی ہیں کیونکہ مسلسل ڈوبنے سے وہ موسم سرما کی فصلیں، خاص طور پر گندم، جو کہ روزانہ کیلوریز کی مقدار میں 72 فیصد حصہ ڈالتی ہے، لگانے کے لیے نا مناسب ہو جاتی ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اگر قبل از وقت اقدامات نہ کیے گئے تو ملک کو خوراک کے بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

مزید خبروں اور اپڈیٹس کیلئے وزٹ کیجئے گرانہ بلاگ۔

About Rizwan Ali Shah

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے