وفاقی دارالحکومت میں ماحول دوست بسیں متعارف کروائی جائیں گی: سی ڈی اے

اسلام آباد: وفاقی ترقیاتی ادارے کیپٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) نے شہر میں دو ماحول دوست الیکٹرک فیڈر بسیں چلانے کی تیاریاں مکمل کر لی ہیں۔ یہ بسیں مسافروں کو گرین اور بلیو لائن میٹرو ٹرمینلز تک پہچانے میں سہولت فراہم کریں گی۔

گرین لائن سروس بہارہ کہو (جیلانی اسٹاپ) سے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) تک سفری سہولت فراہم کرے گی۔

سی ڈی اے حکام کا کہنا ہے کہ بہارہ کہو کے علاقے میں دو رویہ مری روڈ پر پہلے ہی ٹریفک کی بندش کا سامنا ہے یہی وجہ ہے کہ ابتدائی طور پر جیلانی اسٹاپ سے ٹرانسپورٹ سروس شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مسافروں کو گرین لائن سروس کے لیے بہارہ کہو (اٹل چوک) سے اٹھایا جائے گا جبکہ بلیو لائن سروس کے لیے پی ڈبلیو ڈی سے مسافروں کو یہ سفری سہولت فراہم کی جائے گی۔

سی ڈی اے حکام کا کہنا ہے کہ دونوں روٹس پر بس سٹیشنز کی تعمیر کا کام جاری ہے اور اگست میں مکمل ہو جائے گا، تاہم سی ڈی اے جلد ہی دونوں بس سروسز کو ایک نان سٹاپ ایکسپریس سروس (بھارہ کہو سے پمز اور کورال سے پمز) کے طور پر شروع کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے۔

یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ بس سروس فی الحال موجودہ سڑکوں پر مکس ٹریفک میں شروع کی جائے گی اور مستقبل میں سی ڈی اے ان کے لیے الگ الگ اور مخصوص کوریڈور بنائے گا۔

رواں مالی سال کے لیے وفاقی حکومت نے دونوں خدمات کے لیے 1 ارب 50 کروڑ روپے کے فنڈز مختص کیے ہیں۔

بجٹ دستاویزات کے مطابق حکومت نے روات-فیض آباد میٹرو بس منصوبے (بلیو لائن) کے لیے 1 ارب روپے اور بہارہ کہو فیض آباد میٹرو (گرین لائنز) کے لیے 50 کروڑ روپے مختص کیے ہیں۔

بجٹ دستاویزات میں بتایا گیا ہے کہ دونوں منصوبوں کو آنے والے سالوں میں 10 ارب روپے (ہر ایک) کے فنڈز دیئے جائیں گے، تاہم آئندہ سال کے لیے بلیو لائن سروس کے لیے ایک ارب روپے اور گرین لائن سروس کے لیے 50 کروڑ روپے دیے جائیں گے۔

حال ہی میں سی ڈی اے ہیڈ کوارٹر میں ہونے والی میٹنگ کے دوران اس بات پر تبادلہ خیال کیا گیا کہ چین سے آنے والی 30 میٹرو بسوں میں سے 10 بلیو لائن سروس، 5 گرین لائن اور 15 پشاور موڑ سے ایئرپورٹ پر چلائی جائیں گی۔

سی ڈی اے راولپنڈی-اسلام آباد میٹرو بس سروس کی مستعار بسوں کے ذریعے ایئرپورٹ بس سروس چلا رہا ہے۔

مزید خبروں اور اپڈیٹس کیلئے وزٹ کیجئے گرانہ بلاگ۔

About Zeeshan Javaid

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔