چین کا سیلاب متاثرہ علاقوں میں تعلیم اور صحت کی سہولیات کے لیے بڑی تعداد میں خیموں کا عطیہ

وفاقی حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان میں حالیہ سیلاب کی تباہ کاریوں کے بعد دوست ملک چین کی جانب سے سیلاب زدہ علاقوں میں تعلیم اور صحت کی سہولیات کے لیے بڑی تعداد میں خیموں کا عطیہ دیا گیا ہے۔

حکام کے مطابق چین کی طرف سے عطیہ کیے گئے خیمے واٹر پروف ہیں اور گرمی کے خلاف مزاحمت رکھتے ہیں۔ انہیں اس طرح ڈیزائن کیا گیا ہے کہ ہوا کی آمد و رفت باآسانی ممکن ہو سکے۔

نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق سندھ ملک کا سب سے زیادہ متاثرہ صوبہ ہے جہاں جون کے وسط سے سیلاب کی وجہ سے کم از کم 759 افراد ہلاک اور 8,422 زخمی ہوئے جبکہ 366,000 سے زائد سیلاب زدگان اس وقت کیمپوں میں مقیم ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ ماتلی ضلع بدین کے سب سے نشیبی علاقوں میں سے ایک ہے اس لیے اس علاقے کے بیشتر اسکول بھی سیلابی پانی میں ڈوب گئے جس کے نتیجے میں انہیں نقصان پہنچا۔

حکام نے بتایا کہ ان بچوں کے تعلیمی سال کو بچانے کے لیے انہیں وسیع و عریض چینی خیموں کا استعمال کرتے ہوئے تعلیم کی سہولت فراہم کی گئی ہے اور خیمہ اسکول میں چند اساتذہ کو بھی تفویض کیا گیا ہے۔

اس علاقے میں لگ بھگ 95 خیمے لگائے گئے تھے جہاں اس وقت 581 افراد رہائش پذیر ہیں جن میں 379 بچے بھی شامل ہیں۔

حکام نے بتایا کہ سیلاب کے بعد پانی سے پیدا ہونے والی بیماریوں کے سبب متاثرین کی بڑی تعداد بیمار ہے۔ صحت کے موجودہ بحران کے پیشِ نظر ضلع بدین کے ماتلی ٹاؤن کے خیمہ کیمپ میں چین کے عطیہ کردہ خیموں میں سے دو خیموں کو صحت کی سہولیات کے فراہمی کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔

حکام نے بتایا کہ ایک خیمے میں کلینک قائم کیا گیا ہے جس کو مریضوں کے معائنے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے جبکہ دوسرے خیمے کو عارضی فارمیسی کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے جہاں سیلاب سے متاثرہ بیمار افراد کو تمام ادویات مُفت فراہم کی جا رہی ہیں۔

مزید خبروں اور اپڈیٹس کیلئے وزٹ کیجئے گرانہ بلاگ۔

About Zeeshan Javaid

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے