چین اور پاکستان کا سی پیک کے دوسرے مرحلے پر عملدرآمد کے آغاز پر اتفاق

پاکستان اور چین کی حکومت کے مابین مشترکہ ورکنگ گروپ کا اجلاس گذشتہ روز منعقد ہوا جس میں سی پیک کے طویل المدتی منصوبے کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں چین اور پاکستان نے سی پیک کے دوسرے مرحلے پر عملدرآمد کے آغاز پر اتفاق کیا۔

حکام کے مطابق اجلاس کی مشترکہ صدارت سیکرٹری وزارتِ منصوبہ بندی، ترقی اور خصوصی اقدامات سید ظفر علی شاہ اور چین کے نیشنل ڈویلپمنٹ اینڈ ریفارمز کمیشن کے ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل پین جیانگ نے ویڈیو کانفرنس کے ذریعے کی۔

اجلاس میں سی پیک منصوبوں کے نفاذ کی صورتحال کا جائزہ لیا گیا اور سی پیک کے طویل مدتی منصوبے پر عمل درآمد کے حوالے سے مستقبل کے لائحہ عمل پر غور کیا گیا۔

دونوں اطراف نے مختلف منصوبوں پر ہونے والی مسلسل پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کیا اور دوسرے مرحلے پر عملدرآمد شروع کرنے پر اتفاق کیا۔ حکام نے بتایا کہ دوسرے مرحلے میں زرعی تعاون، صنعتی تعاون، سائنس و ٹیکنالوجی، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور سماجی اقتصادی ترقی پر غور کیا جائے گا۔

اجلاس میں کارکردگی کا جائزہ لیتے ہوئے بریفنگ میں بتایا گیا کہ سی پیک کے 26 منصوبوں میں سے 14 منصوبے مکمل کیے جا چکے ہیں جن میں کراچی لاہور موٹر وے، ملتان سکھر سیکشن، قراقرم ہائی وے (فیز 2) کی براستہ مانسہرہ رائے کوٹ تا اسلام آباد توسیع و تعمیرِ نو، ایسٹ بے ایکسپریس وے، 1320 میگاواٹ پورٹ قاسم پاور پلانٹ، 1320 میگاواٹ ساہیوال پاور پلانٹ اور 720 میگاواٹ کا کیروٹ ہائیڈرو پاور پلانٹ شامل ہیں۔

اجلاس میں بتایا گیا کہ اس وقت نیو گوادر انٹرنیشنل ایئرپورٹ، 873 میگاواٹ پر مشتمل سوکی کناری ہائیڈرو پاور پراجیکٹ اور دیگر سمیت پانچ منصوبے زیرِ تعمیر ہیں۔

حکام نے بتایا کہ دونوں فریقین نے مضبوط باہمی تعاون کو بروئے کار لاتے ہوئے کارکردگی مزید بہتر بنانے پر اتفاق کیا۔ اجلاس میں اس بات کو ممکن بنانے کا بھی عزم کیا گیا کہ سی پیک سے مختلف شعبوں میں وسیع پیمانے پر پیدا ہونے والے مواقع سے عوام بھرپور مستفید ہوں۔

مزید خبروں اور اپڈیٹس کے لئے وزٹ کیجئے گرانہ بلاگ۔

About Rizwan Ali Shah

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے