چوبیس سو میگاواٹ سولر منصوبے کے لیے 9 ہزار 6 سو ایکڑ زمین خریدی جائے گی: پنجاب حکومت

حکومتِ پنجاب کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت کی جانب سے پنجاب میں 9 ہزار 6 سو ایکڑ اراضی پر مشتمل رقبے پر 2400 میگاواٹ کا سولر منصوبہ شروع کیا جائے گا۔

حکام کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت پنجاب کے تین اضلاع میں 2400 میگاواٹ کے سولر پاور پلانٹس کی تنصیب کے لیے 9600 ایکڑ اراضی کے حصول کا آغاز کرے گی۔

حکام نے بتایا کہ حکومت نے پنجاب کے تین اضلاع بشمول ضلع لیہ، مظفر گڑھ اور جھنگ میں زمین کے حصول کے لیے تین الگ الگ منصوبے شروع کرنے کے لیے ابتدائی کام مکمل کر لیا ہے۔

پنجاب کے تین اضلاع میں ایک 1200 میگاواٹ اور 600 میگاواٹ کے دو سولر جنریشن پلانٹس لگانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ اس منصوبے پر کُل ساڑھے 6 ارب روپے سے زائد لاگت آئے گی۔ زمین کے حصول کے لیے فنڈز وفاقی حکومت فراہم کر رہی ہے اور زمین نیشنل ٹرانسمیشن اینڈ ڈسپیچ کمپنی (این ٹی ڈی سی) کے ذریعے حاصل کی جا رہی ہے۔ سولر پاور پلانٹس کی تنصیب متبادل توانائی ترقیاتی بورڈ کے ذریعے کی جائے گی۔

حکام نے مزید بتایا کہ منصوبے کے مطابق لیہ میں 1200 میگاواٹ کے سولر پاور پلانٹ کی تنصیب کے لیے شیر گڑھ تحصیل چوبارہ ضلع لیہ میں 4800 ایکڑ اراضی حاصل کی جائے گی جس پر 2 ارب 60 کروڑ سے زائد لاگت آئے گی۔ اسی طرح مظفر گڑھ میں 600 میگاواٹ کے سولر پاور پلانٹ کے لیے تحصیل چوک منڈا ضلع مظفر گڑھ میں 2400 ایکڑ اراضی حاصل کی جائے گی جس پر 1 ارب 40 کروڑ روپے لاگت آئے گی۔

علاوہ ازیں 600 میگاواٹ کے سولر پاور پلانٹ کی تنصیب کے لیے تریموں ضلع جھنگ میں 2400 ایکڑ اراضی حاصل کی جائے گی۔ اس منصوبے کی 2400 ایکڑ اراضی کے حصول کے لیے منصوبے کے پی سی ون کا کُل تخمینہ ڈھائی ارب روپے سے زائد لگایا گیا۔

حکام نے بتایا کہ زمین کے حصول کا عمل مالی سال 2022 تا 2023 کے دوران مکمل کر لیا جائے گا۔

مزید خبروں اور اپڈیٹس کے لئے وزٹ کیجئے گرانہ بلاگ۔

About Rizwan Ali Shah

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے