اگست کے دو ہفتوں میں روپے کی قدر میں 9.77 فیصد کا تاریخی اضافہ

کراچی: رواں ماہ کے پہلے دو ہفتوں میں روپے کی قدر میں 9.77 فیصد کا تاریخی اضافہ، ڈالر 215 روپے 49 پیسے کا ہو گیا۔

اگست شروع ہوتے ہی جیسے روپیہ کی آزادی اور استحکام کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ انٹر بنک میں روپے کے مقابلے میں ڈالر تقریباً 240 روپے پر پہنچنے کے بعد تنزلی کا شکار ہوتا ہوا 215 روپے 49 پیسے تک آ گیا۔

بارہ اگست کے روز ڈالر کی مقابلے میں روپے کی قدر میں 1.57 فیصد کا اضافہ ہوا۔  جبکہ 12 روز کا مجموعی اضافہ تقریباً دس فیصد ہو گیا، ڈالر کے مقابلے میں روپے کی یہ ریکوری تاریخی ہے جس کے لئے سیاسی اور عسکری قیادت نے مل کر کام کیا۔

حکومت کی جانب سے آئی ایم ایف کی  شرائط پر سختی سے عمل درآمد کے ساتھ ساتھ درآمدات کو کنٹرول کرنے کی پالیسی نے رنگ دکھایا، جس سے آئی ایم ایف نے بالآخر لیٹر آف انٹینٹ جاری کر دیا۔

آئی ایم ایف کے گذشتہ ہفتے کے بیان کے بعد دوست ممالک کی طرف سے بھی یقین دہانیاں شروع ہو گئیں۔ بالخصوص متحدہ عرب امارات اور جاپان کی جانب سے پاکستان میں ایک ایک ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی پیشکش خوش آئند اور نہایت اہم ہے۔

مرکزی بنک کی طرف سے بنکوں اور فارکس کمپنیوں کے ساتھ سخت پالیسی نے بھی روپیہ کی قدر میں استحکام لانے میں اپنا کردار ادا کیا۔

اوپن مارکیٹ میں بھی روپیہ کی قدر میں بھرپور اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ آج بروز جمعہ 12 اگست کو اوپن مارکیٹ میں ڈالر 213 روپے میں فروخت کیا جا رہا ہے جو انٹربنک کی نسبت دو روپے کم ہے۔ فارکس ایکسچینج کمپنیز ایسوسی ایشن کے سیکرٹری ظفر پراچہ کے مطابق اگست کے آخر تک ڈالر کے مقابلے میں روپیہ دو سو روپے تک آنے کا امکان ہے۔ گرانہ ڈاٹ کام سے بات کرتے ہوئے انکا کہنا تھا کہ بین الاقوامی ممالک اور آئی ایم ایف کی جانب سے مثبت وعدوں کے بعد ڈالر 213 روپے پر آگیا۔ فنڈز آنے کے بعد روپیہ مزید مستحکم ہونے کا امکان ہے۔

مزید خبروں اور اپڈیٹس کیلئے وزٹ کیجئے گرانہ بلاگ۔

About Rizwan Ali Shah

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔