ایف ڈبلیو او اور این ایل سی کا کچہری چوک توسیعی منصوبے کی بولی میں حصہ لینے کا فیصلہ

راولپنڈی: نیشنل لاجسٹک سیل (این ایل سی) اور فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن (ایف ڈبلیو او) نے کچری چوک توسیعی منصوبے کے ٹھیکے کی بولی میں حصہ لینے کا فیصلہ کر لیا۔

راولپنڈی ڈویلپمنٹ اتھارٹی (آر ڈی اے) حکام کے مطابق این ایل سی اور ایف ڈبلیو او کے ساتھ ریل کاپ پرائیویٹ لمیٹڈ اور نیشنل کنسٹرکشن لمیٹڈ (این سی) کو 5.1 ارب روپے کے منصوبے کی بولی میں حصہ لینے کے لیے مدعو کیا گیا تھا۔

تاہم ریل کوپ اور این سی نے ٹینڈرنگ کے عمل میں حصہ نہیں لیا۔ ریل کوپ نے آر ڈی اے کو مطلع کیا کہ اسے 6 ارب روپے سے زائد کے منصوبے پر کام کرنے کا تجربہ نہیں ہے جبکہ این سی کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا۔

آر ڈی اے حکام کے مطابق منصوبہ کا ٹھیکہ حاصل کرنے والی کمپنی کسی بھی نجی شراکت دار کے بغیر اپنے وسائل کا استعمال کرتے ہوئے منصوبے کی تکمیل کرے گی۔

آر ڈی اے کے چیف انجینئر ڈاکٹر حبیب الحق رندھاوا کا کہنا تھا کہ منصوبے کی کُل لاگت 6 ارب روپے سے زائد ہے۔ تاہم تعمیراتی لاگت 5.1 ارب روپے ہے جبکہ باقی رقم یوٹیلیٹی سروسز کی منتقلی اور زمین کے حصول پر خرچ کی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ اس سے قبل اسکیم کو دو سطحی انڈر پاس کے ڈیزائن کے ساتھ منظور کیا گیا تھا لیکن تمام اسٹیک ہولڈرز سے تفصیلی بات چیت کے بعد روٹ کی حفاظتی ضروریات کو مدِنظر رکھتے ہوئے ڈیزائن میں قدرے ترمیم کرکے ایک انڈر پاس کے ساتھ ایک فلائی اوور تعمیر کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

چیف انجینئر آر ڈی اے ڈاکٹر حبیب الحق رندھاوا کا کہنا تھا کہ ترمیم شدہ ڈیزائن زیادہ فائدہ مند ہو گا کیونکہ اس میں تعمیراتی رکاوٹیں نہیں ہیں۔ علاوہ ازیں ٹریفک کے نظام کو بہتر بنانے میں بھی مدد ملے گی۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ آر ڈی اے افتخار جنجوعہ روڈ کے لیے پرانے ائیرپورٹ جانے والی ٹریفک کے لیے 3.6 میٹر سے 5.3 میٹر تک کے مجوزہ انڈر پاس کی منظوری پر دوبارہ غور کرے گا۔

مزید خبروں اور اپڈیٹس کیلئے وزٹ کیجئے گرانہ بلاگ۔

About Rizwan Ali Shah

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے