سینٹرل ڈویلپمنٹ ورکنگ پارٹی نے کراچی سرکلر ریلوے پراجیکٹ کی منظوری دے دی

سینٹرل ڈویلپمنٹ ورکنگ پارٹی (سی ڈی ڈبلیو پی) نے وفاقی وزیرِ برائے منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال کی زیرِصدارت ہونے والے اجلاس میں 2 کھرب اور 92 ارب روپے سے زائد لاگت پر مشتمل کراچی سرکلر ریلوے منصوبے کی منظوری دے دی۔

حکام کے مطابق سی ڈی ڈبلیو پی نے بروز منگل ہونے والے اجلاس میں مذکورہ منصوبے کی منظوری دی۔

حکام نے بتایا کہ کراچی سرکلر ریلوے میں 44 کلومیٹر طویل ٹریک تعمیر کیا جائے گا جو دریغ روڈ سے شروع ہو کر گلشن اقبال، فیڈرل بی ایریا، لیاقت آباد، نارتھ ناظم آباد، ناظم آباد، سندھ انڈسٹریل ٹریڈنگ اسٹیٹ اور لیاری سمیت مختلف علاقوں سے گزرے گا۔

حکام کے مطابق مذکورہ منصوبہ کراچی میں ٹرانسپورٹ کے بنیادی ڈھانچے کی بہتری کے لیے ایک مجموعی منصوبے کا حصہ ہے جس میں روڈ نیٹ ورک، پبلک ٹرانسپورٹ/ماس ٹرانزٹ سہولیات کی فراہمی اور کراچی میں ٹریفک مینجمنٹ کی بہتری شامل ہے۔

کراچی سرکلر ریلوے ایک جدید ریلوے کے طور پر کراچی میں موجودہ پبلک ٹرانسپورٹ کی سہولیات میں اضافہ کرے گی جو کہ جدید ماس ٹرانزٹ سہولیات کی عدم دستیابی اور بڑی بسوں کی گرتی ہوئی سپلائی کی وجہ سے گزشتہ چند دہائیوں میں شہر کی بڑھتی ہوئی طلب کو پورا کرنے میں ناکام رہی ہیں۔ جبکہ شہری آبادی کا بڑھنا اور شہری علاقے کی توسیع کا عمل مسلسل جاری ہے۔

حکام نے بتایا کہ اس منصوبے کا بنیادی مقصد میٹروپولیٹن شہر کراچی کو قابل اعتماد، محفوظ اور ماحول دوست پبلک ٹرانسپورٹ فراہم کرنا ہے۔ اس منصوبے میں دوہرے ٹریک پر مشتمل اربن ریل ماس ٹرانزٹ سسٹم کی تعمیر شامل ہے جس کی تعمیر آئندہ چار سالوں میں متوقع ہے۔

اس منصوبے سے روزانہ 4 لاکھ 57 ہزار افراد مستفید ہوں گے جن کی تعداد مستقبل میں بڑھ کر 10 لاکھ تک بھی جا سکتی ہے۔ اس منصوبے میں الیکٹرک ٹرینیں استعمال کی جائیں گی جو پورا ہفتہ روزانہ بِلا ناغہ 17 گھنٹے چلا کریں گی۔ اس منصوبے کے تحت شہر کے گنجان آباد علاقوں کے اطراف 30 اسٹیشن بنائے جائیں گے۔

حکام کے مطابق اجلاس میں وفاقی وزیر احسن اقبال نے متعلقہ حکام کو پی سی ون میں معاملات کو فوری طور پر حل کرکے دو دن میں رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی۔

اجلاس میں سیکرٹری وزارت پلاننگ کمیشن، چیف اکانومسٹ، وزارت ریلوے کے حکام اور سندھ حکومت کے نمائندوں نے شرکت کی۔

مزید خبروں اور اپڈیٹس کے لئے وزٹ کیجئے گرانہ بلاگ۔

About Rizwan Ali Shah

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے