دریاؤں کے کنارے تعمیرات پر پابندی عائد کر دی گئی: خیبر پختونخواہ حکومت

خیبرپختونخواہ حکومت کے مطابق صوبے میں دریاؤں، آبپاشی کی نہروں اور دیگر آبی گزرگاہوں کے کنارے تمام نئی تعمیرات پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔

حکام نے بتایا کہ وزیرِاعلیٰ خیبرپختونخواہ محمود خان نے پہلے سے موجود تجاوزات کے خلاف مؤثر کریک ڈاؤن کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ کسی قسم کی مداخلت برداشت نہیں کی جائے گی۔

وزیراعلیٰ نے حکام کو سوات، پنجکوڑہ اور دریائے کنہار سمیت آبی گزرگاہوں کے ساتھ نئے مکانات، ہوٹلوں اور دیگر تجارتی و غیر تجارتی انفراسٹرکچر کی تعمیر کے خلاف دفعہ 144 نافذ کرنے کی بھی ہدایات دیں۔

وزیر اعلیٰ نے کہا کہ تجاوزات کو روکنے کے لیے متعلقہ قواعد و ضوابط پر عمل پیرا ہونا ضروری ہے۔

مزید برآں، وزیرِاعلیٰ نے ہزارہ اور مالاکنڈ ڈویژن میں دریاؤں کے کنارے تجاوزات کے خاتمے کے لیے مختصر، درمیانی اور طویل مدتی منصوبہ بندی کی بھی ہدایت کر دی۔

حکام کا کہنا تھا کہ کالام، مدین، بحرین، فضا گھاٹ اور مینگورہ میں پانچ الگ الگ آپریشنز کیے گئے جن میں دریائے سوات کے کنارے 100 سے زائد غیر قانونی تعمیرات کو ہٹا دیا گیا۔

علاوہ ازیں کالام بازار میں دوبارہ تعمیر کیے گئے ہوٹلوں اور چار دیواری کو بھی مکمل طور پر مسمار کر دیا گیا۔

مزید خبروں اور اپڈیٹس کے لئے وزٹ کیجئے گرانہ بلاگ۔

About Rizwan Ali Shah

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے