کم قیمت رہائشی منصوبہ، کنسٹرکشن میٹیریل کی جانچ کے لیے لیبارٹری قائم

وزارتِ ہاؤسنگ اینڈ ورکس نے علی پور فراش میں سرکاری ملازمین کے لیے تعمیر کیے جانے والے کم قیمت رہائشی منصوبے کی سائٹ پر لیبارٹری قائم کر لی تاکہ کنسٹرکشن میٹریل کی کوالٹی کا بغور معائنہ کیا جا سکے۔

وزارتِ ہاؤسنگ اینڈ ورکس کے حکام کا کہنا ہے کہ 2400 فلیٹس کی تعمیر کے منصوبے میں 400 فلیٹس وفاقی دارالحکومت کی کچی آبادی میں مقیم افراد کے لیے مختص کیے گئے ہیں۔

حکام کے مطابق کم آمدنی والے افراد کی سہولت کے لیے وزارتِ ہاؤسنگ اینڈ ورکس نے تعطل کا شکار رہائشی منصوبوں کو نہ صرف دوبارہ شروع کیا بلکہ نئے اپارٹمنٹس کی تعمیر بھی کی جا رہی ہے جس پر کُل 109 ارب روپے لاگت آئے گی۔

حکام کے مطابق وزارتِ ہاؤسنگ اینڈ ورکس نے اسلام آباد میں کُری روڈ، جی 10 ٹو، آئی 16 تھری، آئی 12 ون اور وفاقی کالونی لاہور میں تعطل کا شکار منصوبوں پر تعمیر کا دوبارہ آغاز کروایا۔ حکام کا کہنا تھا کہ رکے ہوئے منصوبوں پر پاکستان ہاؤسنگ اتھارٹی (پی ایچ اے) کی جانب سے تعمیرات مکمل کی گئیں۔

بلوچستان میں کیے گئے اقدامات کے حوالے سے آگاہ کرتے ہوئے حکام کا کہنا تھا کہ کُچلاک روڈ کوئٹہ پراجیکٹ 1350 ہاؤسنگ یونٹس پر مشتمل تھا جس کے لیے حکومتِ بلوچستان کی جانب سے زمین فراہم کی گئی۔

علاوہ ازیں خیبر پختونخواہ میں کیے گئے اقدامات کے حوالے سے حکام نے بتایا کہ پی ایچ اے ریزیڈینشیا سورازئی پراجیکٹ کے لیے 8500 کنال زمین حکومتِ خیبر خیبرپختونخواہ کی جانب سے دی گئی۔ مذکورہ منصوبے کے تحت ابتدائی مرحلے میں 10 ہزار ہاؤسنگ یونٹس تعمیر کیے جائیں گے۔

حکام کا کہنا تھا کہ وزیر برائے ہاؤسنگ اینڈ ورکس مولانا واسع کی جانب سے تمام کنٹریکٹرز کو ہدایت کی گئی ہے کہ سرکاری تعمیرات پر کام تیز کیا جائے تاکہ محدود عرصے میں سرکاری تعمیرات مکمل کر کے سرکاری ملازمین کو جدید رہائشی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔

مزید خبروں اور اپڈیٹس کیلئے وزٹ کیجئے گرانہ بلاگ۔

About Rizwan Ali Shah

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے