آر ڈی اے نے 104 غیرقانونی تعمیرات سربمہر کر دیں

راولپنڈی ڈویلپمنٹ اتھارٹی (آر ڈی اے) حکام کے مطابق ڈائریکٹر جنرل آر ڈی اے محمد سیف انور جپہ کی ہدایت پر غیر قانونی کمرشل عمارتوں کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے 104 غیر قانونی عمارات سربمہر کر دی گئیں۔

آر ڈی اے ترجمان نے بتایا کہ آر ڈی اے کے لینڈ یوز اینڈ بلڈنگ کنٹرول (ایل یو اینڈ بی سی) ونگ نے غیر قانونی اور غیر مجاز کمرشل عمارتوں کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے چکری روڈ پر بنی اسٹاپ اور موری غزن کے علاقے میں پانچ مارکیٹوں میں 100 دکانوں کو سربمہر کر دیا۔ علاوہ ازیں ایک نجی ہاؤسنگ سوسائٹی میں چار دُکانیں اور ایک زیرِتعمیر رہائشی عمارت سربمہر کر دی گئی۔

آر ڈی اے ترجمان نے بتایا کہ متعلقہ حکام انسداد تجاوزات مہم کے تحت قواعد کی خلاف ورزی کرنے والوں اور غیر قانونی کمرشل اور رہائشی عمارتوں کے خلاف آپریشن کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایل یو اینڈ بی سی ونگ کے عملہ بشمول دو اسسٹنٹ ڈائریکٹرز، بلڈنگ انسپکٹرز اور دیگر نے غیر قانونی کمرشل عمارتوں کے خلاف آپریشن کیا اور مذکورہ غیر قانونی کمرشل عمارتوں کو سربمہر کیا گیا۔

آر ڈی اے ترجمان کا کہنا تھا کہ جائیدادوں کے مالکان نے منظور شدہ پلانز/نقشہ کی خلاف ورزی کی تھی اور پنجاب ڈویلپمنٹ آف سٹیز ایکٹ 1976 اور آر ڈی اے بلڈنگ اینڈ زوننگ ریگولیشنز 2021 کی خلاف ورزی کے مرتکب ہوئے تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ مالکان کی درخواست پر ڈی جی نے مالکان کو عمارات ریگولرائز کرنے کے لیے منظور شدہ نقشے دو ہفتے میں جمع کروانے کی ہدایت کی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر ان عمارتوں کو دو ہفتوں کے اندر ریگولرائز نہیں کیا گیا تو انہیں دوبارہ سربمہر کر دیا جائے گا اور ایف آئی آر بھی درج کروائی جائے گی۔

آر ڈی اے ترجمان کا کہنا ہے کہ ڈی جی کی جانب سے متعلقہ حکام کو غیر قانونی رہائشی و کمرشل عمارات اور تجاوزات کے خلاف بِلا امتیاز سخت کارروائی کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈی جی نے شہریوں کو تجاوزات ہٹانے کا مشورہ بھی دیا۔

علاوہ ازیں ڈی جی آر ڈی اے کی جانب سے شہریوں کو متنبہ کیا گیا کہ کسی بھی سرمایہ کاری سے قبل ہاؤسنگ پراجیکٹس کی قاونی حیثیت کی تصدیق لازمی کی جائے۔

مزید خبروں اور اپڈیٹس کے لئے وزٹ کیجئے گرانہ بلاگ۔

About Rizwan Ali Shah

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے