ترکی نے سیلاب متاثرہ علاقوں میں خیمہ بستیاں قائم کر دیں

ترکی کی سرکاری ڈیزاسٹر اینڈ مینجمنٹ ایجنسی نے پاکستان میں آنے والے حالیہ سیلاب کے باعث ہونے والی انفراسٹرکچر کی تباہی کے پیشِ نظر سیلاب زدہ علاقوں میں خیمہ بستیاں قائم کر دیں۔

حکام کے مطابق ڈیزاسٹر اینڈ ایمرجنسی مینجمنٹ اتھارٹی (اے ایف اے ڈی) نے پاک فضائیہ اور بیت الاسلام ٹرسٹ کے اشتراک سے کراچی سے تقریباً 98 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ایک دور افتادہ گاؤں بھولاری میں حالیہ خیمہ بستی قائم کی۔

ترکی کے قونصل جنرل کیمل سانگو، اے ایف اے ڈی کے ڈپٹی ہیڈ اینڈر بوزکرٹ اور پاک فضائیہ کے ایئر وائس مارشل زعیم افضل نے بروز اتوار نئی خیمہ بستی کا افتتاح کیا۔

حکام کا کہنا ہے کہ اس وقت 200 خیموں پر مشتمل یہ خیمہ بستی گزشتہ ماہ آنے والے تباہ کن سیلاب سے بے گھر ہونے والے 500 سے زائد افراد کو رہائش فراہم کر رہی ہے۔

یہ ترک ڈیزاسٹر اینڈ ایمرجنسی مینجمنٹ اتھارٹی (اے ایف اے ڈی) کی جانب سے پاکستان میں سیلاب زدگان کی عارضی رہائش کے لیے قائم کی گئی دوسری خیمہ بستی ہے۔ گزشتہ ماہ سندھ ضلع دادو میں خیمہ بستی قائم کی گئی تھی۔

خیمہ بستی کے افتتاح کے موقع پر ترک قونصل جنرل کا کہنا تھا کہ ترک حکومت صوبہ سندھ کے ضلع ٹھٹھہ میں تیسری خیمہ بستی قائم کرنے کا ارادہ رکھتی ہے، جو سیلاب کے باعث شدید متاثر ہوا ہے۔

اس موقع پر اے ایف اے ڈی کے نائب سربراہ بوزکرٹ نے کہا کہ اے ایف اے ڈی کی طرف سے 19 مختلف علاقوں میں 30,000 سے زیادہ خیمے پہلے ہی تقسیم کیے جا چکے ہیں، جو تقریباً 200,000 بے گھر افراد کو عارضی رہائش فراہم کر رہے ہیں۔

اے ایف اے ڈی کے نائب سربراہ بوزکرٹ نے مزید کہا کہ اب تک ترکی نے امدادی سامان سے لدے 14 طیارے اور 13 "گڈنیس ٹرینیں” بھیجی ہیں، جن میں خیمے، کھانے پینے کی اشیاء، ادویات، باورچی خانے کی اشیاء، ویکسین اور دیگر سامان شامل تھا۔

ایئر وائس مارشل زعیم افضل نے اس موقع پر ترک صدر طیب اردگان اور ترک عوام کا اس مشکل گھڑی میں پاکستان کے ساتھ کھڑے ہونے پر شکریہ ادا کیا۔

انہوں نے کہا کہ حال ہی میں قائم ہونے والے ٹینٹ سٹی کی گنجائش 500 خیموں تک بڑھا دی جائے گی۔ آزمائش کی اس گھڑی میں ترک عوام کی جانب سے جو فراخدلی اور یکجہتی کا مظاہرہ کیا گیا ہے وہ دونوں ممالک کے مابین دیرینہ دوستی کی مثال ہے۔

مزید خبروں اور اپڈیٹس کیلئے وزٹ کیجئے گرانہ بلاگ۔

About Rizwan Ali Shah

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے