انسدادِ کرپشن کا عالمی دن، جعلی ریئل اسٹیٹ پراجیکٹس سے ہوشیار رہیں

ہر سال 9 دسمبر کا دن عالمی یومِ انسدادِ کرپشن کے طور پر منایا جاتا ہے۔ عالمی سطح پر اس دن کو کرپشن کے خلاف نفرت کی علامت کے طور دیکھا جاتا ہے۔ یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ بدعنوانی سماجی و اخلاقی حوالوں سے ایک ایسی بیماری ہے کو متاثرہ معاشروں میں سرایت کرتے کرتے بتدریج وہاں کے نظامِ زندگی کے سبھی شعبوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے حتٰی کہ پورے سسٹم کی بنیادوں کو ایک طرح سے کھوکھلا کردیتی ہے۔ شاید یہی وہ وجہ ہے کہ بدعنوانی کے خلاف شعور پیدا کرنے اور مکمل طور پر اُس کے خاتمے کے مقصد کے پیشِ نظر اقوامِ متحدہ ہر سال کی طرح آج بھی اپنے زیر اہتمام نو دسمبر کو انسدادِ کرپشن کے عالمی دن کے طور پر منا رہا ہے۔

یہاں یہ بات ذہن نشین کرنا ضروری ہے کہ کرپشن صرف مالی شکل میں رشوت نہیں (جیسا کہ کچھ لوگ سمجھتے ہیں) بلکہ اِس کی بہت سی صورتیں ہیں جن میں قانون شکنی، عہدے اور اختیار کا ناجائز استعمال، ٹیکس چوری اور ہر طرح کے اخلاقی و قانونی جرائم میں حصہ لینا ہونا شامل ہیں۔ بدقسمتی یہ ہے کہ وطن عزیز میں کرپشن کی یہ تمام اقسام نہ صرف اپنا وجود رکھتی ہیں بلکہ ستر برس سے زائد کی ہماری تاریخ میں اُن کی جڑیں وقت کے ساتھ اِس قدر گہری ہو چکی ہیں کہ معاشی اعتبار سے ہمارا ملک ترقی کی منازل عبور کرنے سے قاصر ہے۔ دیکھا جائے تو شاید ہی کوئی ایسا ملکی شعبہ ہو جہاں کرپشن کے اثرات نہ دیکھے جا سکتے ہوں۔

غیر قانونی ریئل اسٹیٹ پراجیکٹس

مُلکی ریئل اسٹیٹ سیکٹر پاکستان کی ترقی کلیدی کردار ادا کر سکتا ہے۔ اگر اس بے تحاشا پوٹینشل والے سیکٹر کو ہم ایسے ہی غیر مصدقہ اور غیر قانونی پراجیکٹس کی بھینٹ چڑھاتے رہیں گے تو لوگوں کا حق حلال کا سرمایہ ایک ایسے گرداب میں پھنستا رہے گا اور ہم ترقی کی اُس منزل سے محروم ہوجائیں گے جو کہ ریئل اسٹیٹ سیکٹر کے اصل پوٹینشل کے فہم و ادراک سے ہمیں حاصل ہوسکتی ہے۔ پاکستان کا ریئل اسٹیٹ سیکٹر غیر قانونی ہاؤسنگ سوسائٹیز کی ایک ایسی تلخ حقیقت لیے ہوئے ہے جس سے چھٹکارا پانا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق مُلکی ریئل اسٹیٹ کے شعبے میں یومیہ بنیادوں پر تقریباً 5 ارب روپے غیر قانونی منصوبوں کی نظر ہوتے ہیں۔ ایک ایسے فریم ورک کی ضرورت ہے کہ جس سے قانونی اور خلافِ قانون منصوبوں کی پہچان ہوسکے۔

کچھ ضروری اقدامات

کیپیٹل ایڈمینسٹریشن نے دارلحکومت اسلام آباد میں حال ہی میں پاکستان کے پہلے پراپرٹی ویریفیکیشن سینٹر قائم کیا۔ اس سسٹم سے ریئل اسٹیٹ میں غیر قانونی معاملات کی روک تھام یقینی ہوگی۔ شہرِ اقتدار میں سرمایہ کاری کرنے والے ڈپٹی کمشنر اسلام آباد کے آفس سے اُس ریئل اسٹیٹ منصوبے میں سرمایہ کاری کرنے سے قبل اُس متعلقہ پراجیکٹ کی قانونی حیثیت جان سکیں گے۔ اس سے اُنہیں معلوم ہوگا کہ وہ جس پراجیکٹ میں سرمایہ کاری کررہے ہیں، آیا وہ قانونی ہے کہ غیر قانونی، اُس کو متعلقہ اداروں کی منظوری حاصل ہے کہ نہیں اور اس پراجیکٹ کے مالکان کی جانب سے کوئی دروغ گوئی تو نہیں کی جارہی۔ سب سے پہلے آپ کو ڈی سی آفس وزٹ کرنا ہے۔ خریدار ہونے کی صورت میں پراپرٹی کی تفصیلات کا ایک فارم فل کرنا ہے اور اسے پراپرٹی ویریفیکیشن سینٹر میں درج کروانا ہے۔ ویریفیکیشن سینٹر اُس پراپرٹی کی قانونی حیثیت آپ کو 24 گھنٹوں میں بذریعہ میسج بتا دیگا کہ آیا وہ لیگل ہے یا نہیں۔ یاد رہے کہ اس عمل کی کوئی پراسیسنگ فیس نہیں ہے یعنی آپ کسی چارجز کی ادائیگی کے بغیر یہ عمل مکمل کر سکتے ہیں۔ ڈی سی اسلام آباد حمزہ شفقات کے مطابق اس سروس کے قیام پر پہلے دو روز میں ہی 80 فیصد لوگوں کو معلوم ہوا کہ وہ جن پراجیکٹس میں سرمایہ کاری کررہے ہیں وہ خلافِ قانون ہیں۔

حکومتِ وقت اور ریئل اسٹیٹ سیکٹر کی معاملہ فہمی

اس سینٹر کے قیام سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ حکومتِ وقت اس معاملے میں سنجیدہ ہے کہ مُلکی ریئل اسٹیٹ سیکٹر سے ہی پاکستان معاشی قسمت سدھاری جائے۔ کسی بھی مسئلے کو سدھارنے کرنے کے لیے جب تک باقاعدہ اقدامات نہیں اٹھائیں جائیں گے، مسائل پنپتے رہیں گے۔ ہاں، یہ بات مگر دُرست ہے کہ مسائل کا ادراک اُن کے حل کی جانب پہلا قدم ہے۔

صرف کاغذات میں بستے ہاؤسنگ پراجیکٹس

آج ہمارے مُلک میں صرف 0.5 فیصد ڈویلپمنٹس ایک پلاننگ کے تحت بنائی گئی ہیں جبکہ باقی 99.5 فیصد تعمیرات پلاننگ کے بغیر ہیں۔ عموماً تو ہمارے مُلک کی تعمیرات دیکھ کر یہ گمان ہوتا ہے کہ یہ نہ ہی بنے ہیں نہ بنائے گئے ہیں، بس خود ہی بنتے چلے گئے ہیں۔ جس کو جہاں جگہ ملی اُس نے وہاں جگہ گھیر لی۔ یہاں اکثر ہاؤسنگ سوسائٹیاں محض کاغذات میں ہی بستی ہیں اور اس کا زمین پر کوئی وجود نہیں ہوتا۔ لوگ آؤ دیکھا نہ تاؤ، فائلیں خریدنے کی دوڑ میں لگ جاتے اور وہ ایسی دوڑ ثابت ہوتی ہے جس کے اختتام پر معلوم ہوتا ہے کہ سرمایہ اور سرمائے کا تحفظ کہیں پیچھے ہی رہ گیا ہے۔ یعنی لوگ غیر رجسٹرڈ اور غیر تصدیق شدہ پراپرٹیز خرید لیتے ہیں، ڈاکومنٹس کی ویریفیکشن نہیں کرتے، این او سیز کی اہمیت نہیں سمجھتے، اُنہیں بتایا جاتا ہے کہ این او سی جلد ہی ملنے والا ہے، ابھی فائل سستی مل رہی ہے، جب این او سی مل جائیگی تو ریٹ اُوپر ہوجائےگا اور یوں وہ اکیلے رہ جانے کے خوف میں ایک ایسے دلدل میں پھنس جاتے ہیں اور معاملات دُرست ہونے کے بجائے مزید خرابی کی طرف چلے جاتے ہیں۔

مزید خبروں اور اپڈیٹس کیلئے وزٹ کیجئے گرانہ بلاگ۔

About wasib imdad

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے