حکومت کی رواں مالی سال کے دوران دوست ممالک سے 8 ارب ڈالر مالی امداد کی پیشگوئی

اسلام آباد: وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا ہے کہ ملکی معیشت بہتری کی راہ پر گامزن ہے اور رواں مالی سال کے دوران دوست ممالک سے 8 ارب ڈالر کے فنڈز پاکستان کو موصول ہو جائیں گے جس کے بعد معاشی حالات معمول پر آ جائیں گے۔

ایک پریس کانفرنس کے دوران اپنے بیان میں ان کا کہنا تھا کہ ملک میں 60 دن کے لیے ڈیزل کا ذخیرہ موجود ہے جبکہ ایک دوست ملک نے پاکستان میں 1.2 ارب ڈالرز کی آئل فنانسنگ کی پیشکش کر دی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ درآمدات کے حجم میں اضافے کی وجہ سے گذشتہ مالی سال کے آخری 6 ماہ کے دوران روپے کی قدر پر دبائو بڑھا کیونکہ گذشتہ مالی سال کے دوران مجموعی طور پر 80 ارب ڈالر کی درآمدات ریکارڈ کی گئیں۔

گذشتہ مالی سال کے آخری ماہ جون کے دوران 7.4 ملین ڈالر کی درآمدات ریکارڈ کی گئیں جبکہ رواں ماہ کے دوران اب تک 6 ملین ڈالر کی درآمدات سامنے آئی ہیں۔

مفتاح اسماعیل نے کہا کہ پچھلے 3 مہینوں میں کوشش رہی کہ درآمدات کم کریں۔ 18 جولائی تک درآمدات کا حجم 2.6 ارب ڈالر رہا اور اس ماہ درآمدات میں 2 ارب ڈالر کمی آئے گی۔ ماہانہ درآمدات 7.25 ارب ڈالر سے کم ہو کر 5.5 ارب ڈالر رہ جائیں گی۔

گذشتہ مالی سال کے دوران 80 ارب ڈالرز کی درآمدات ریکارڈ کی گئیں اور اس کی وجہ سے روپے پر دبائو پیدا ہوا تاہم مارچ میں زرمبادلہ کے ذخائر میں 5.3 ارب ڈالر کی کمی آئی ہے۔

وزیر خزانہ نے بتایا کہ آج 2 لاکھ ٹن یوریا کھاد درآمد کرنے کی منظوری دی ہے جب کہ 3 لاکھ ٹن گندم بھی خریدنے کی ای سی سی نے منظوری دی ہے۔

مفتاح اسماعیل کا کہنا تھا کہ ایک دوست ملک 2 ارب ڈالر کے ڈیپازٹس دے گا جبکہ ایک اور ملک سے 2.4 ارب ڈالر کی ادھار گیس کی سہولت فراہم کرے گا۔

انہوں نے کہا کہ ایک دوست ملک سے 2 ارب ڈالر کے مساوی ایس ڈی آرز ملیں گے جبکہ مجموعی طور پر رواں مالی سال کے دوران 8 ارب ڈالر حاصل ہوں گے۔

مزید خبروں اور اپڈیٹس کیلئے وزٹ کیجئے گرانہ بلاگ۔

About Zeeshan Javaid

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔