سی ڈی اے کا سیکٹر ڈی 13 میں جعلی پلاٹس کی الاٹمنٹ کے معاملے پر انکوائری کا فیصلہ

اسلام آباد: وفاقی ترقیاتی ادارے کیپیٹل ڈیویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) میں مبینہ طور پر جعلی پلاٹوں کی الاٹمنٹ کے معاملے پر اتھارٹی نے انکوائری کا فیصلہ کیا ہے۔

شہری سہولیات کے وفاقی ترقیاتی ادارے کے سیکورٹی ڈائریکٹو ریٹ نے سی ڈی اے کے سیکٹر ڈی 13 میں ایک کنال کے 7 پلاٹوں کی جعلی الاٹمنٹ اور 2 پلاٹوں کی ٹرانسفر میں دھوکہ دہی کی نشاندہی کی ہے۔

رپورٹس کے مطابق سی ڈی اے کی سابق ایڈیشنل ڈائریکٹر لینڈ ثوبیہ طورو جو اس وقت ڈپٹی کمشنر سی ڈی اے کے طور پر اپنی خدما ت سرانجام دے رہی ہیں، انہوں نے سیکورٹی ڈائریکٹوریٹ کو بتایا ہے کہ سی ڈی اے کے سیکٹر ڈی 13 میں دو پلاٹس ان کے جعلی دستخطوں کے ساتھ الاٹ کیے گئے ہیں۔

سی ڈی اے حکام کے مطابق جب یہ معاملہ چیئرمین سی ڈی اے عامر احمد علی کے نوٹس میں لایا گیا تو انہوں نے سیکورٹی ڈائریکٹوریٹ کو ہدایات جاری کیں کہ حقائق فوری سامنے لائے جائیں اور اس مبینہ جعل سازی میں ملوث افسران کو بے نقاب کیا جائے۔

ابتدائی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی کہ جعلی دستخطوں سے کم از کم 7 پلاٹ فروخت کیے گئے۔

تحقیقاتی کمیٹی نے انکشاف کیا ہے کہ یہ پلاٹ زمین کے جعلی دعوؤں کے ساتھ فروخت کیے گئے کیونکہ الاٹیز کے پاس شاہ اللہ دتہ میں کوئی زمین ہی نہ تھی لیکن فرضی دعوؤں کے ساتھ متبادل پلاٹ الاٹ کیے گئے۔

رپورٹس کے مطابق سی ڈی اے کے لینڈ ڈائریکٹوریٹ سے 7 پلاٹوں کی فائلیں بھی غائب ہیں۔

تحقیقاتی کمیٹی نے سی ڈی اے انتظامیہ سے سفارش کی ہے کہ پلاٹوں کی منسوخی کے لئے فوری احکامات جاری کیے جائیں اور باضابطہ انکوائری کرائی جائے۔

دو ماہ قبل قومی احتساب بیورو نے بھی سی ڈی اے کے سیکٹر ڈی 13 میں دو پلاٹوں کا ریکارڈ طلب کیا تھا۔

اس حوالے سے سی ڈی اے کے ایک سینئر آفسر کا کہنا ہے کہ ابتدائی تحقیقات میں 7 پلاٹوں کی فروخت میں مبینہ دھوکہ دہی سامنے آئی ہے۔ سی ڈی اے کی جانب سے جلد ہی باضابطہ تحقیقات شروع کرنے کے لئے حکم نامہ جاری کر دیا جائے گا تاکہ ذمہ داروں کو سامنے لایا جا سکے۔

مزید خبروں اور اپڈیٹس کیلئے وزٹ کیجئے گرانہ بلاگ۔

 

About Zeeshan Javaid

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔