پشاور، ایک تاریخی و ثقافتی شہر

پشاور کی تاریخ صدیوں پُرانی ہے۔ یہ شہر اپنے تاریخی مقامات اور ثقافت کے اعتبار سے دنیا بھر میں اپنا ایک منفرد مقام رکھتا ہے۔ آج کے بلاگ میں ہم آپ کو شہرِ پشاور کی تاریخ و ثقافت سے متعلق دلچسپ معلومات فراہم کریں گے جسے جاننے کے بعد آپ بھی اس شہر کی سیر کیے بغیر نہیں رہ سکتے۔

قصہ خوانی بازار

اگر آپ نے شہرِ پشاور میں گہما گہمی سے بھرپور زندگی سے لطف اندوز ہونا ہے تو قصہ خوانی بازار ایک بہترین انتخاب ہو سکتا ہے۔ یہ بازار پشاور کے تاریخی مقامات میں شمار ہوتا ہے۔ اپنے نام کی طرح دلچسپ بازار کی تاریخ یہ ہے کہ پرانے وقتوں میں دن کے وقت یہاں کاروبارِ زندگی میں ایک خاص تیزی ہوتی تھی جبکہ موسمِ سرما میں رات کے وقت آس پاس مقیم افراد آگ کا الاؤ جلا کر اردگرد بیٹھ جاتے تھے اور چائے کا دور چلتا تھا۔ اس پُر لطف ماحول میں قصہ خواں تاریخی قصے سنایا کرتے تھے اور یوں اس بازار کا نام قصہ خوانی بازار پڑ گیا۔

اگر کھابوں کی بات کی جائے تو یہاں آپ کو نمکین گوشت، دمپخت، سری پائے کے ناشتوں سے لے کر ڈرائی فروٹ، چائے، پشاوری قہوہ اور روایتی کھانوں کے بہترین مقامات میسر آئیں گے۔ اس کے ساتھ ساتھ ضروریاتِ زندگی سے متعلق تقریبا ہر طرح کے سامان کی دکانیں آپ کو اس بازار میں ملیں گی۔

پشاور میوزیم

پشاور میوزیم شہر کا ایک اور انتہائی اعلیٰ شہرت کا حامل تاریخی مقام ہے۔ یہ میوزیم 1907 میں تعمیر کیا گیا تھا جس میں گندھارا تہزیب کے مجسمے سجائے گئے تھے۔ دنیا بھر سے بدھ مت کے پیروکار اس میوزیم کا رخ کرتے ہیں۔

اس کے ساتھ ساتھ میوزیم میں مغلیہ دور کے نوادرات بھی موجود ہیں۔ ان نوادرات میں سِکے، شاہی دستاویزات، پرانے زمانے کے ہتھیار، شاہی پہناوے، جیولری اور تصویری شاہکار میں شامل ہیں۔

تاریخ میں دلچسپی رکھنے والے افراد کے لئے پشاور میوزیم بھرپور دلچسپی کا حامل سمجھا جاتا ہے۔

مہابت خان مسجد

یہ مسجد 1670ء میں مغلیہ دور کے دوران اس وقت پشاور کے گورنر مہابت خان کے نام پر تعمیر کی گئی تھی۔ تاریخ کے مطابق پشاور کے گورنر مہابت خان نے اس مسجد کی تعمیر کے لئے مالی معاونت بھی فراہم کی تھی۔ مغلیہ دور کے دلچسپ طرزِ تعمیر کی عکاسی کرتی یہ مسجد آج بھی قائم و دائم ہے اور سیاحوں کے لئے دلچسپی اور بھرپور توجہ کا مرکز ہے۔

قلعہ بالا حصار

یہ قلعہ بھی پشاور کی تاریخی ثقافت کا حصہ ہے اور اس کے نام کے معنی ہیں اونچا قلعہ۔ یہ قلعہ مغل بادشاہ ظہیر الدین بابر نے پشاور شہر فتح کرنے کے بعد 1526ء میں تعمیر کروایا تھا۔ اس کا نام افغانستان کے بادشاہ تیمور شاہ درانی نے رکھا تھا۔ اس قلعے کے اندر  ایک چھوٹا سا میوزیم بھی موجود ہے جو شہر کے تاریخی جنگی دور کے نوادرات سے بھرپور ہے۔

قلعہ جمرود

قلعہ جمرود پشاور کے تقریباً 18 کلومیٹر مشرق میں واقع ہے۔ سکھ رہنما ہری سنگھ نلوا نے یہ شاہکار قلعہ تعمیر کروایا تھا اور اس قلعے میں ہی انہوں نے اپنی آخری سانس لی۔ قلعے اور اس کے گرد و نواح میں  سکھوں اور افغانوں کے درمیان لاتعداد جنگیں ہوئیں۔ یہ قلعہ اپنی جنگی تاریخ کے حوالے سے خاصی اہمیت کا حامل ہے۔

دلیپ کمار اور راج کپور کا آبائی گھر

مرحوم بالی وڈ لیجینڈری اداکار دلیپ کمار اور راج کپور کے آبائی گھر بھی پشاور کے قصہ خوانی بازار میں واقع ہیں۔ ان دوںوں گھروں کی ملکیت خیبر پختونخواہ کے آرکیالیوجی اور میوزیم ڈیپارٹمنٹ کو ٹرانسفر ہو چکی ہے۔

تاریخی اعتبار سے یہ دونوں گھر سرحد کے دونوں اطراف ہمسایہ ممالک کے بسنے والوں کے لئے تاریخ کے جھروکوں میں تقیسمِ ہند سے قبل باہمی پیار اور حسنِ سلوک کی یاد دلاتا ہے۔ فلمی دنیا سے دلچسپی رکھنے والے سیاح اور مقامی افراد ان گھروں کا رخ کرتے ہیں اور تصاویر بھی بنواتے ہیں۔

چار مرلے کے رقبے پر محیط دلیپ کمار کا گھر قصہ خوانی بازار کے محلہ خداداد میں واقع ہے جبکہ راج کپور کا آبائی گھر چھ مرلے پر محیط ہے اور قصہ خوانی بازار کے علاقے ڈھکی ڈلگراں میں آج بھی قائم و دائم ہے۔

شہرِ پشاور کے کھابے

کھابوں کی بات کی جائے تو یہ شہر اپنی مثال آپ ہے۔ پشاور شہر کے کھانوں کا ذائقہ باقی شہروں کے کھانوں کے ذائقوں سے منفرد اور لاجواب ہے۔ پشاور کے لوگ زیادہ تر گوشت میں پکے کھانے پسند کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ شہر میں داخل ہوتے ہی آپ کو نمکین تکہ، کڑاہی، دمپخت، سری پائے، مغز اور دنبہ کے گوشت کی جگہ جگہ  دکانیں اور ریسٹورانٹس ملیں گے۔ اس کے علاوہ چپلی کباب نہ صرف پشاور کے مکینوں بلکہ دنیا بھر میں مرغوب غذا کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ آئیے آپ کو پشاور کے مختلف ریسٹورانٹس کی سیر کرواتے ہیں جہاں سے آپ اپنے من پسند خوشبو اور ذائقہ دار کھانوں سے لطف اٹھا سکتے ہیں۔

چرسی تکہ

یہ پشاور کے معروف علاقے نمک منڈی میں واقع ہے اور اس ریسٹورنٹ میں آپ کو دنبے کا معیاری گوشت کے نمکین تکے اور چٹ پٹے ہلکے مسالوں میں پکی کڑاہی میسر آئے گی۔ یہاں دنبے کا گوشت کا آرڈر کلو کے حساب سے دیا جاتا ہے اور اس کے تکے اور کڑاہی بنوائی جاتی ہے۔ کوئلوں پر دھیمی آنچ پر بننے والے یہ تکے اور کڑاہی بننے میں تو وقت لیں گے لیکن پک کر تیار ہونے یہ پکوان کھا کر آپ انگیاں چاٹتے رہ جائیں گے۔ کُھلے اور پُرفضاء ماحول میں باہر چارپائیوں پر بیٹھ کر آپ شہر کی ثقافت اور روایات سے لطف اندوز ہوتے ہوئے کھانوں کا مزہ دوبالا کر سکتے ہیں۔

جلیل کباب ہاؤس

یہ ریسٹورانٹ پشاور میں حیات آباد کے علاقے میں واقع ہے۔ یہاں آپ کو باریک کٹے ہوئے پیاز، ٹماٹر، سبز مرچ اور دیگر مسالوں سے تیار کردہ لذیذ چپلی کباب ملیں گے۔ اگر آپ دوسرے کسی صوبے کے شہر سے پشاور کی سیر کو آئے ہیں تو تازہ نان، رائتہ اور سلاد کے ساتھ آپ تازہ چپلی کباب کھا کر اس لذیذ سوغات سے لطف اندوز ہو سکتے ہیں۔ اس شہر کی یہ سوغات اتنی مشہور ہے کہ یہ آپ کو پاکستان کے دوسرے صوبوں میں بھی باآسانی دستیاب ہے لیکن یہی ذائقہ میسر آئے یا نہیں، اس بارے میں یقین سے نہیں کہا جا سکتا۔

چوک یادگار کا کلفی فالودہ

چوک یادگار کا کلفی فالودہ پشاور شہر کی مشہور سوغات ہے۔ دودھ سے بنا یہ قلفی فالودہ میٹھے میں منفرد اور ذائقے میں لاجواب ہے۔ چوک یادگار کے قلفی فالودہ کی تاریخ 60 سال پرانی ہے۔

گولڈن جوس شاپ

یہ جگہ اندرون گنج گیٹ پشاور میں واقع ہے۔ اس جگہ کا پنگا شیک اپنے نام کی طرح پورے شہر میں مشہور ہے۔ پنگا شیک کریم، دودھ، فروٹ اور ڈرائی فروٹ سے ملا کر تیار کیا جاتا ہے۔ یہ سوغات بالخصوص موسمِ سرما میں سردی کی یخ بستہ راتوں میں آپ کو بھرپور توانائی فراہم کرتی ہے۔

مزے مزے کے ان تمام روایتی کھانوں کے علاوہ دمپخت اور کابلی پلاؤ کا اگر یہاں ذکر نہ کیا گیا تو زیادتی ہو گی۔ شہرِ پشاور کے خوش ذائقہ کھانے پاکستان سمیت دنیا بھر اپنا ایک منفرد مقام رکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب پشاور سے روزگار اور کاروبار کی تلاش میں بیرون اور اندرون ملک سفر کرنے والے مقامی افراد جب دوسرے مقامات کا رخ کرتے ہیں تو اکثر یہ سوغاتیں بھی وہاں جا کر متعارف کرواتے ہیں۔

مزید خبروں اور اپڈیٹس کیلئے وزٹ کیجئے گرانہ بلاگ۔

About Rizwan Ali Shah

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔