بہاولپور کے 10 تاریخی مقامات کی سیر

بہاولپور کے 10 تاریخی مقامات کی سیر

پاکستان کے علاقے جنوبی پنجاب کا شہر بہاولپور تاریخی اعتبار سے نہایت اہمیت کا حامل ہے۔ آج کے بلاگ میں ہم آپ کو بہاولپور کے 10 تاریخی مقامات کی سیر کرائیں گے جس سے آپ کو اندازہ ہو گا کہ تاریخی اعتبار سے جنوبی پنجاب کسی سے کم نہیں۔

بہاولپور پاکستان کے صوبہ پنجاب کا وہ ضلع ہے جو مختلف تاریخی مقامات پر مشتمل ہے۔ اسے 1748ء میں نواب بہاول خان نے دریافت کیا۔ یہ صحرائے چولستان کے قریب واقع ہے۔ اس شہر میں 10 ایسے تاریخی مقامات موجود ہیں جو کہ عالمی سطح پر بہاولپور کی ایک منفرد پہچان کو اجاگر کرنے میں کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں۔

عباسی مسجد

دورِقدیم کے دلفریب فنِ تعمیر کی شاہکار عباسی مسجد کو 1849ء میں ریاست کے نواب بہاول خان نے تعمیر کروایا تھا۔ تاریخ کے جھروکوں میں یہ بات عیاں ہے کہ نواب آف بہاولپور بہاول خان فنونِ لطیفہ، ثقافت اور شاہی طرزِ تعمیر کے ذوق کے حوالے سے اس وقت کے سماجی حلقوں میں اپنی ایک منفرد پہچان رکھتے تھے۔ مسجد کے میناروں میں زمانہ قدیم سے نصب شدہ اعلیٰ معیار کا سنگِ مرمر آج بھی اس دور کے طرزِ تعمیر کی بھرپور عکاسی کرتا ہے۔ اس مسجد کو کچھ دیر اگر آپ تکتے رہیں تو یقین کیجیے کہ آپ برِصغیر کے انیسویں صدی کے اس سحرانگیز دور میں لوٹ جائیں گے۔

عباسی مسجد کی شاہکار تصویر

سینٹرل لائبریری

اطالوی فنِ تعمیر کا شاہکار بہاولپور کی سینٹرل لائبریری پنجاب کی دوسری بڑی لائبریری ہے۔ اس میں ایک لاکھ قیمتی کتابوں کا خزانہ موجود ہے اور 1947ء سے لے کر اب تک کے تمام بڑے اخبارات کا اعزازی ریکارڈ بھی اس لائبریری کا حصہ ہیں۔ یہ لائبریری بصارت سے محروم اور دیگر معذور افراد کو بھی مطالعے کی سہولت فراہم کرتی ہے جو کہ مطالعے کے شوقین افراد کے لئے کسی نعمت سے کم نہیں۔

سینٹرل لائبریری بہاولپور

قلعہ ڈیراور

یہ بہاولپور شہر سے 130 کلومیٹر دور جنوب کی سمت میں واقع ہے۔ اس قلعے کی خوبصورتی دیکھنے کے لائق ہے۔ اس کے چالیس برج ہیں جو صحرائے چولستان میں چاروں اطراف میلوں تک نظر آتے ہیں۔ یہ دراصل راجپوتوں کا قلعہ تھا اور اس کی تعمیر 9 ویں صدی عیسوی میں کی گئی۔ پانچ فٹ موٹی دیواریں اس قلعے کو آج بھی مضبوط اور قائم و دائم رکھے ہوئے ہیں۔ صدیاں بیت جانے کے باوجود اس قلعے کی مضبوطی اور پائیداری سیاحوں اور ماہرینِ آثارِقدیمہ کے لئے آج بھی دلچسپی کا محور ہیں۔

قلعہ ڈیرآور، بہاولپور

نور محل

نواب آف بہاولپور کی شاہانہ طرزِ زندگی کا عکاس نور محل بہاولپور شہر سے گزرتی کنال روڈ کے قریب واقع ہے۔ اسے بہاولپور کے نواب صادق محمد خان نے 1872ء میں اپنی اہلیہ کے لئے تعمیر کروایا تھا۔ اس کا آرکیٹکچر اطالوی فنِ تعمیر سے مشابہت رکھتا ہے۔ محل کا مخصوص حصہ عوام کی سیروتفریح کے لئے کھولا گیا ہے جبکہ اس محل کو سرکاری گیسٹ ہاؤس کے طور پر بھی استعمال کیا جاتا ہے۔

نور محل، بہاولپور کا رات کا خوبصورت منظر

دربار محل

دربار روڈ پر واقع یہ خوبصورت محل دیکھنے والوں کو دنگ کر دیتا ہے۔ یہ محل بھی محبت کی داستان کا عکاس ہے۔ اسے 5 ویں نواب آف بہاولپور نے اپنی اہلیہ سے لازوال محبت کی یاد میں تعمیر کروایا تھا۔ یاد رہے کہ اس محل کی تعمیر 1905ء میں مکمل ہوئی جبکہ 1971 کے بعد سے اسے عام عوام کی تفریح اور سیاحت مکمل طور پر بند کر دیا گیا ہے تاہم عمارت کے بیرونی حصے سے آپ اس خوبصورت محل کا بھرپور نظارہ کر سکتے ہیں۔

مقبرہ بی بی جیوندی

یہ بہاولپور کے قریب اوچ شریف کے مقام پر واقع ہے۔ یہ مقبرہ 1493ء میں ایرانی بادشاہ دلشاد نے مشہور صوفی بزرگ خاتون کی قبر پر تعمیر کروایا تھا۔ صوفیاء کی طرف مائل افراد کے لئے یہ مقبرہ دلچسپی کا حامل ہے۔ قبروں کے درمیان موجود یہ خوبصورت قدیم مقبرہ ایک الگ ہی منظر پیش کرتا ہے۔

لال سہانڑا نیشنل پارک

لال سہانڑا نیشنل پارک بہاولپور سے تقریبا 25 کلومیٹر دور مشرق کی سمت میں واقع ہے اور یہ پارک ایک لاکھ ستائیس ہزار 480 ایکڑ رقبے پر محیط ہے۔ اس پارک کا شمار جنوبی ایشیا کے چند بڑے نیشنل پارکس میں شمار ہوتا ہے۔ مذکورہ نیشنل پارک میں دیگر جانوروں کے ساتھ ساتھ نایاب کالے ہرن کی بہتات پائی جاتی ہے۔

ہرن کی ایک نایاب قسم چنکارہ بھی آپ کو یہاں دوڑتی اور پھدکتی ملے گی۔ دوسری جانب پارک میں موجود خوبصورت جھیلیں یہاں آنے والے سیاحوں، فیملیز اور بچوں کی تفریح کو چارچاند لگا دیتی ہیں۔

گلزار محل

گلزار محل خوبصورتی کے لحاظ سے تاریخی عمارتوں میں اپنا ایک منفرد مقام رکھتا ہے۔ اس کی تعمیر یورپین طرزِ تعمیر سے کسی حد تک متاثر ہو کر عمل میں لائی گئی ہے جبکہ اس محل کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ یہ بہاولپور کی واحد عمارت ہے جہاں زمانہ قدیم میں ہی انڈر گراؤنڈ بجلی کی تاروں کا جدید نظام نصب تھا۔

صادق ڈین ہائی اسکول

صادق ڈین ہائی اسکول جو کہ آج صادق پبلک اسکول کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، اس کی تعمیر 1911ء میں اس وقت کے نواب آف بہالپور نے کروائی تھی۔ اس کے خوبصورت طرزِ تعمیر میں گھنٹہ گھر بھی شامل کیا گیا ہے جس سے یہ مزید پُرکشش دکھائی دیتا ہے۔ اسکول میں تقریبا 2000 طلباء آج بھی سالانہ بنیادوں پر تعلیم کے زیور سے آراستہ ہو رہے ہیں۔

فرید گیٹ

بہاولپور ایک ایسی تاریخی ریاست تھی جہاں شہر میں داخلے کے لئے 7 دروازے تھے اور فرید گیٹ ان 7 دروازوں میں سے وہ واحد دروازہ ہے جو آج بھی پورے جاہ و جلال کے ساتھ قائم و دائم ہے۔ رات کی روشنیوں میں دمکتا ہوا یہ تاریخی دروازہ آپ کو سحر انگیز کیفیت میں مبتلا کر دیتا ہے۔

فرید گیٹ، بہاولپور

تاریخی شہر کی ترویج کے لئے مفید اقدامات

بہالپور کے محلات، صحرا، مساجد، لائبریری اور تاریخی عمارتوں سمیت الغرض ہر طرح کی ثقافت اور ورثہ اس شہر کا خاصہ ہے۔ نہ صرف ملکی بلکہ غیر ملکی سیاح بھی اس تاریخی اور ثقافتی شہر کی سیر اور تحقیق کو کسی بھی صورت نظرانداز نہیں کر سکتے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ان تاریخی اثاثوں کو محفوظ اور برقرار رکھنے لے لئے بین الاقوامی ترقیاتی ادارے جیسا کہ یونیسکو مربوط اقدامات اٹھائیں۔ اس شہر کے محلات کی تاریخ پر دلچسپ ڈاکومینٹریز بنا کر دنیا بھر میں اس شہر کی تاریخی اہمیت، ثقافت اور ورثہ کو اجاگر کیا جا سکتا ہے۔

بین الاقوامی سطح پر اس تاریخی ورثے کی بھرپور تشہیر بین الاقوامی سیاحوں کو یہاں کا رخ کرنے کی جانب مائل کر سکتی ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ انٹرنیشنل فلم فیسٹیولز میں اس شہر کے تاریخی مقامات پر بنائی جانے والی ڈاکومینٹریز دنیا بھر میں پاکستان کی مثبت تصویر کو اجاگر کرنے میں کلیدی کردار ادا کر سکتی ہے۔ بین الاقوامی سیاحوں کی پاکستان آمد سے نہ صرف امن کے حوالے سے ایک مثبت پیغام جائے گا بلکہ پاکستان اس سے غیرملکی زرِمبادلہ کما کر ملکی معیشت کو مستحکم کر سکتا ہے۔

مزید خبروں اور اپڈیٹس کیلئے وزٹ کیجئے گرانہ بلاگ