ای سی سی نے 5 برآمدی صنعتوں کیلئے گیس اور بجلی پر سبسڈی کی منظوری دے دی

اسلام آباد: اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے برآمدی شعبے کو بجلی اور گیس پر 60 ارب روپے کی سبسڈی فراہم کرنے کی منظوری دے دی۔

ٹیکسٹائل، لیدر، کارپٹ، سرجیکل اور کھیلوں کے سامان کی صنعت کو درآمدی گیس 9 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو جبکہ بجلی 9 سینٹ فی یونٹ فراہم کی جائے گی۔

وفاقی کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی کا اجلاس وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کی زیر صدارت منعقد ہوا۔

ای سی سی نے علاقائی تقابلی ریٹس کے مطابق موجودہ مالی سال کے دوران برآمدی شعبے کیلئے بجلی اور گیس کی نئی قیمتوں کی منظوری دے دی۔

ای سی سی کے مطابق ٹیکسٹائل، لیدر، کارپٹ، سرجیکل آلات اور کھیلوں کے سامان سمیت 5 برآمدی شعبوں کو آر ایل این جی درآمدی گیس 9 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو فراہم کی جائے گی جبکہ مقامی گیس بھی 1350 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو کے حساب سے مہیا کی جائے گی۔

یاد رہے کہ نئے بجٹ میں گیس پر سبسڈی کی مد میں 40 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔

ای سی سی کے مطابق اس کے علاوہ 5 برآمدی شعبوں کو بجلی بھی 9 سینٹ فی یونٹ کے ریٹ پر فراہم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

وزارت خزانہ کے مطابق نئے ریٹس کا اطلاق یکم اگست 2022ء سے یوگا۔

بجلی پر سبسڈی کیلئے 20 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں جبکہ سبسڈی کا سہ ماہی بنیاد پر جائزہ بھی لیا جائے گا۔

رپورٹ کے مطابق اس فیصلے سے مینوفیکچرنگ سیکٹر کی لاگت میں کمی اور ملکی برآمدات میں اضافہ ہوگا۔

ای سی سی کے حالیہ فیصلے کے بعد برآمدی شعبے کو بجلی اور گیس کی فراہمی کا اطلاق ملک بھر میں یکساں طور پر ہوگا۔

پیٹرولیم ڈویژن اگلے ایک مہینے کے دوران بجلی اور گیس پر سبسڈی حاصل کرنیوالے صنعتی یونٹس کی فہرست ای سی سی کو فراہم کرے گی۔

ای سی سی نے وزارت اطلاعات کیلئے 75 کروڑ روپے کی ضمنی گرانٹ کی بھی منظوری دے دی۔ یہ رقم 75 ویں یوم آزادی کی تقریبات پر خرچ کی جائے گی۔

اقتصادی رابطہ کمیٹی نے وزارت داخلہ کو اپنے بجٹ سے ملازمین کو معاوضے اور پیکیج کی ادائیگی کی منظوری بھی دے دی ہے۔

مزید خبروں اور اپڈیٹس کیلئے وزٹ کیجئے گرانہ بلاگ۔

About Zeeshan Javaid

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔