مستحکم باؤنڈری وال کی تعمیر کیلئے غور طلب عوامل

کسی بھی گھر یا عمارت کی تعمیر اگرچہ آسان کام نہیں۔ تاہم ہر مشکل کام کے لیے احتیاط اور معاملہ فہمی کی ضرورت درپیش ہوتی ہے۔ منصوبہ بندی، مٹیریل اور معماروں کی محنت ایک گھر کو مضبوط بنیادوں پر کھڑا کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ گھر کی دیواروں اور دیگر تمام حصوں کی تعمیر میں مختلف عوامل کارفرما ہوتے ہیں۔ جن پر عمل کر کے تعمیراتی مراحل پایۂ تکمیل تک پہنچتے ہیں۔ مزید یہ کہ اعلیٰ مٹیریل کے ساتھ ساتھ طرزِ تعمیر خاص اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔ اسی طرح باقی دیواروں کی مانند گھر کی بیرونی حفاظتی دیوار بھی اتنی ہی توجہ طلب ہوتی ہے۔ لہٰذا، مستحکم باؤنڈری وال کی تعمیر کے لیے غور طلب عوامل کا جائزہ ضروری ہے۔ تاکہ وہ مستقل بنیادوں پر اپنی جگہ قائم رہ سکے۔

 

گھر کی مستحکم باؤنڈری وال

 

مستحکم باؤنڈری وال کیلئے غور طلب عوامل

کمزور بنیاد، غیر مضبوط ستون اور بیشتر دیگر عوامل غیر مستحکم بیرونی دیوار کی وجہ بنتے ہیں۔ لہٰذا، مستحکم باؤنڈری والز بناتے وقت جن عوامل پر غور کرنا چاہیے ان میں مندرجہ ذیل قابلِ ذکر ہیں۔ جن پر عمل کر کے آپ اپنی جائیداد اور گھر کو کسی بھی قسم کے نقصان سے بچا سکتے ہیں۔

 

باؤنڈری وال کی اونچائی

مناسب باؤنڈری وال کیا ہے؟

باؤنڈری وال کی مضبوط بنیاد

نکاسی آب کا بہترین انتظام

مستحکم باؤنڈری وال میں نصب ویپ ہول

باؤنڈری وال میں ستون اور توسیعی جوڑ کا کردار

باؤنڈری وال میں گیلا پن یا نمی کتنی خطرناک

اینٹوں پر مشتمل گھر کی بیرونی دیوار

 

باؤنڈری وال کی اونچائی

عام طور پر پاکستان میں بیرونی دیوار کی اونچائی مختلف نوعیت کی بناء پر رکھی جاتی ہے۔ جبکہ زیادہ تر اونچائی 4 یا 5 فٹ سے بلند ہی رکھی جاتی ہے۔ جس کی وجوہات پر نظر ڈالی جائے تو سیکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر ایسا کیا جاتا ہے۔ مزید یہ کہ حفاظت قائم کرنے کے لیے اکثر بیرونی دیواروں پر خاردار تاریں بھی نصب کی جاتی ہیں۔ علاوہ ازیں، کچھ افراد گھر کی بیرونی دیوار الگ سے تعمیر نہیں کرواتے۔ دوسرے الفاظ میں ان کے گھر یا رہائشی ایریا میں غلام گردش جیسی تعمیرات کا تصور نہیں ہوتا۔ بلکہ اس کے برعکس، کمرے، باغیچے، یا باتھ روم کی بیرونی دیوار ہی باؤنڈری وال کا کردار ادا کرتی ہے۔

 

باؤنڈری وال کی اونچائی

 

مناسب باؤنڈری وال کیا ہے؟

اونچائی، معاون ستونوں کا درمیانی فاصلہ اور موٹائی باؤنڈری وال کے استحکام کا تعین کرتی ہے۔ بیرونی دیوار کی معیاری اونچائی 1.5 میٹر سے 2.5 میٹر کے درمیان مختلف ہو سکتی ہے۔

تاہم غور طلب پہلو یہ ہے کہ باؤنڈری وال کے سائز سے گھر کے ماحول میں کیا تبدیلیاں رونما ہو سکتی ہیں۔ بیرونی دیوار گھر کے اندرونی درجہ حرارت اور ہوا کے گزر پر بھی اثر انداز ہوتی ہے۔ علاوہ ازیں، دن کی روشنی اور سورج کی شعاعیں گھر کے لیے انتہائی ضروری قرار دی جاتی ہیں۔لہذا، کسی بھی گھر کی تعمیر میں باؤنڈری والی کی تعمیر اولین ترجیح ہونی چاہیئے۔ اور ساتھ ہی اس کی مناسب اونچائی پر عملدرآمد ضروری ہے۔

 

گھر کے باغیچے کی مناسب اونچائی پر مشتمل بیرونی دیوار

 

باؤنڈری وال کی مضبوط بنیاد

باؤنڈری وال گھر کی وہ دیوار ہوتی ہے جسے ہر طرح کے شدید موسمی حالات کا سامنا رہتا ہے۔ اور گھر کی یہ بیرونی دیوار عمومی طور پر بغیر کسی سہارے کے اپنی جگہ قائم ہوتی ہے۔ لہٰذا، فری اسٹینڈنگ باؤنڈری وال کے لیے مناسب بنیاد بنانا بہت ضروری ہے۔اس لیے اچھی کوالٹی کی اسٹیل ری انفورسمنٹ بارز کو شامل کرنا یقینی بنائیں۔ مزید برآں، عام اصول کے طور پر، مضبوط اور مستحکم باؤنڈری وال کے لیے ایک وسیع اور گہری بنیاد تعمیر کریں۔

 

مضبوط بنیاد پر مشتمل باؤنڈری وال

 

 

نکاسی آب کا بہترین انتظام

بیرونی دیوار کو موسمی شدت کے علاوہ دیگر کئی زمینی خطرات لاحق ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر، گھر کے باہر گلی یا سڑک میں موجود پانی۔ جیسا کہ بارش کے بعد کئی دنوں تک موجود رہنے والا پانی جو باؤنڈری وال کی معیاد کے لیے انتہائی خطرناک ہے۔ یا پھر دیوار کے ساتھ موجود باغیچے کی گھاس اور کیاریوں کے باعث مسلسل نمی ایک خطرناک اشارہ ہے۔ علاوہ ازیں ناقص سیوریج سسٹم بھی دیوار گرنے یا اس کی معیاد کم کرنے کا باعث بنتا ہے۔ اور اس کے سبب کسی بھی نقصان سے دوچار ہوا جا سکتا ہے۔ لہٰذا، برقرار رکھی جانے والی دیوار میں ویپ ہولز یعنی ایسے سوراخوں کا بنایا جانا ضروری ہے۔ جن کی بدولت پانی بہہ جائے۔ اور دیوار نمی یا پانی کے باعث ہونے والے نقصان سے محفوظ رہے۔

 

نکاسی آب نظام پر مشتمل گھر کی بیرونی وال

 

مستحکم باؤنڈری وال میں نصب ویپ ہول

طوفانی اور کئی دنوں تک جاری رہنی والی بارشوں کے علاقے میں ویپ ہولز کی تنصیب ضروری ہے۔ یعنی بارش کے دوران جمع ہونے والے پانی کو نکالنےکے لیے دیوار میں مناسب سوراخ بنانے چاہئیں۔

لہٰذا، برقرار رکھنے والی دیوار میں ویپ ہولز کا نصب کیا جانا بہترین ہے۔ جو 50 ملی میٹر پلاسٹک پائپ کا استعمال کرتے ہوئے بنائے جا سکتے ہیں۔ یہ تمام برقرار رکھنے والی دیواروں میں ایسی اونچائی پر بنائے جانے چاہیئں جو نچلی سطح سے 300 ملی میٹر سے زائد نہ ہو۔

 

ویپ ہولز پر مبنی دیوار

 

مستحکم باؤنڈری وال میں ستون اور توسیعی جوڑ کا کردار

بیرونی دیوار گھر کے اندرونی تعمیراتی حصے کا بارڈر ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس کی مضبوطی اور پائیداری پر کوئی سوالیہ نشان باقی نہیں رہنا چاہیئے۔ علاوہ ازیں دیوار چاہے لمبی ہو یا چھوٹی، مستحکم باؤنڈری وال میں ستون اور توسیعی جوڑ کا کردار بہت اہم ہے۔ دیوار میں چند میٹر کے فاصلے پر تعمیر کیے جانے والے ستون پائیداری کی ضمانت ہوتے ہیں۔ اس کے برعکس، اگر باؤنڈری وال میں ستون یا سوراخ نہیں ہیں، تو اس کے نتیجے میں دیواریں پھٹ سکتی ہیں۔ باؤنڈری وال بناتے وقت سوراخ یا ستون نہ بنانا سب سے عام غلطیوں میں سے ایک ہے۔ توسیعی جوڑوں یا سوراخوں کی کمی بیرونی دیوار کے لیے ایک متزلزل بنیاد بناتی ہے۔

 

ستون کے ساتھ تعمیر شدہ بیرونی دیوار

 

مستحکم باؤنڈری وال میں گیلا پن یا نمی کتنی خطرناک

گھر، سکول، شادی ہال یا دیگر کسی بھی عمارت کی بیرونی دیوار گرنے جیسے واقعات اکثر ہماری نظروں سے گزرتے ہیں۔ علاوہ ازیں، بھاری کیاریاں یا درختوں کے بوجھ کے باعث بھی نازک اور کمزور دیوار زمیں بوس ہو جاتی ہے۔ اگر ایک گھر کی بیرونی دیوار فری اسٹینڈنگ ہے۔ جس کا مطلب ہے کہ وہ دوسری دیواروں کے ڈھانچے سے منسلک یا معاون نہیں ہیں۔ چونکہ وہ فری اسٹینڈنگ ہیں۔ لہٰذا باؤنڈری میں نم پروف یعنی ڈیم پروف کورس کا استعمال ضروری ہے۔ تاکہ نمی یا گیلا پن دیوار کی کمزوری اور گرنے کا باعث نہ بن سکے۔

مزید خبروں اور اپڈیٹس کیلئے وزٹ کیجئے گرانہ بلاگ۔

About Farah Rehman

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے