فنِ تعمیر: پاکستان دیگر ممالک سے الگ پہچان کیسے رکھتا ہے؟

کسی بھی ملک کے فنِ تعمیر کا ورثہ اس کا اثاثہ ہوتا ہے۔ یہ ورثہ مختلف عوامل کی بنیاد پر وجود میں آتا ہے۔ ان عوامل میں ثقافت، مذہب، تہزیب اور تاریخ، یہ سب شامل ہیں۔

پاکستان کے فنِ تعمیر کے ورثے کی خاص بات یہ ہے کہ اس میں آپ کو ان تمام عوامل کا رنگ دکھائی دیتا ہے۔ ثقافت، مختلف مذاہب، تہزیب اور تاریخ پر مبنی قدیم فنِ تعمیر کا یہ خوبصورت ورثہ ایک گلدستے کی صورت پاکستان کا فخر ہے۔ دنیا بھر سے سیاح ثقافتی ورثے کو تسخیر کرنے پاکستان آتے ہیں۔

آیئے آج کی تحریر میں ان تمام عوامل پر غور کرتے ہیں اور آپ کو بتاتے ہیں کہ ہمارا فنِ تعمیر منفرد کیسے ہے۔

 

ثقافت، حویلی سوجن سنگھ کی سحر انگیز داستان

پاکستان کے مختلف شہروں کی تنگ گلیوں میں آپ کو پاکستان کی ثقافت کی اعلیٰ مثالیں دیکھنے کو ملتی ہیں۔ انہی تاریخی شہروں میں ایک شہر راولپنڈی بھی ہے۔ شہرِ راولپنڈی کے بھابھڑہ بازار کی تنگ گلیوں کے بیچوں بیچ واقع ہے حویلی سوجن سنگھ۔ پرانے دور میں حویلیوں کی تعمیر کا رواج ہوا کرتا تھا اور حویلیوں میں رہنا ثقافت کا حصہ ہوا کرتا تھا۔ حویلی سوجن سنگھ بھی اسی دور کے فنِ تعمیر کا حسین شاہکار ہے۔ یہ حویلی رائے بہادر سوجن سنگھ نے 1853 میں اپنے خاندان کی رہائش کے لئے بنائی تھی۔

یہ ایک چار منزلہ عمارت ہے جس کے کُل پینتالیس کمرے ہیں جو شام میں بڑے بڑے چراغوں اور فانوسوں سے جگمگ جگمگ کرتی ہے۔ اس کی چھت، فرش اور کھڑکیوں پر لکڑی کا خوبصورت کام کیا گیا ہے۔ لکڑی اور مڈگارڈ کے سہارے بنی چھت پرانے طرزِ تعمیر کی عکاسی کرتی ہے۔ یہ حویلی 24000 مربع فُٹ کے رقبے پر محیط ہے۔

عرفِ عام میں مشہور حویلی سوجن سنگھ حویلیوں میں رہائش پذیر ہونے کی ثقافت کی زندہ مثال ہے۔

 

مذہب، کٹاس راج مندر جو ہے ایک دلکش مذہبی مقام

کٹاس راج مندر یا عرفِ عام میں مشہور قلعہ کٹاس راج پاکستان کے صوبہ پنجاب کے شہر چکوال کے قریب واقع ہے۔ اس قلعہ کا فنِ تعمیر اپنی مثال آپ ہے۔ یہ قلعہ کئی مندروں پر مشتمل ہے جو ایک دوسرے کے ساتھ ملحقہ ہیں۔ اس قلعے کے عین مرکز میں ایک خوبصورت تالاب ہے جس کا پانی قریبی دریا سے آتا ہے۔ اس کی تاریخ 900 سال پرانی ہے۔ قلعہ کٹاس راج کا فنِ تعمیر نہایت منفرد ہے۔

یہ قلعہ پہاڑی نہیں بلکہ سیدھی زمین پر بنایا گیا ہے اور اس طریقے سے تعمیر کیا گیا ہے کہ اس کے بیچ میں پانی کی جگہ آسانی سے بن سکے اور اس بات کا بھی خاص دھیان رکھا گیا ہے کہ پانی کی موجودگی سے آس پاس موجود مندروں کو کوئی نقصان نہ ہو۔ پرانے دور کے پتھروں سے تعمیر کئے گئے یہ ملحقہ مندر آنکھوں کو خوب بھلے لگتے ہیں۔ مذہبی ورثے کے اس کمال فنِ تعمیر کی انفرادیت لاجواب ہے۔

گندھارا تہزیب، جو لے جائے ماضی کے جھروکوں میں

گندھارا تہزیب کم و بیش تین ہزار سال پہلے پائی جاتی تھی۔ اس کا تعلق شہر تکشاشیلا یا تکساسیلا سے تھا جو بعد میں ٹیکسلا بن گیا۔ یہ تہزیب مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والوں کا منبع تھی۔ ٹیکسلا میں گندھارا تہزیب کے حوالے سے مختلف مقامات ہیں جو دلچسپی کے حامل ہیں۔ خان پور غار میں آپ کو چار مختلف مذاہب کے نمونے دیکھنے کو ملتے ہیں۔

بھیر مونڈ کی دیواریں پتھروں کی بنی ہیں۔ اس میں گھروں کی بنیادوں اور گلیوں کے آثار آپ کو ملیں گے۔ یہ حصہ شہر کی شہری آبادی کی نمائندگی کرتا ہے۔ سرکاپ کا علاقہ گھروں اور مندروں کی باقیات کا منظر پیش کرتا ہے۔ اس کا فنِ تعمیر پرانی مغربی تہزیب کے گندھارا تہزیب پر اثرات کی عکاسی کرتا ہے۔ ٹیکسلا شہر آپ کو بدھ مذہب سے متعلق بے شمار جگہوں کی سیر کرواتا ہے۔ الغرض گندھارا تہزیب کے فنِ تعمیر کا اگر عظیم شاہکار دیکھنا ہو تو ٹیکسلا کا رخ کیجئے۔

بادشاہی قلعہ، ایک خاص تاریخی ورثہ

بادشاہی قلعہ مغل دور کا ایک خاص تاریخی ورثہ ہے۔ یہ قلعیہ مغلیہ دور کے فنِ تعمیر کی عظیم مثال ہے۔ بادشاہی قلعے کے دو داخلی دروازے ہیں، اکبری دروازہ اور عالمگیری دروازہ۔ اس کے اندر بے شمار باغ موجود ہیں۔ مغلیہ حکومت کے مختلف ادوار میں قلعہ کے اندر خوبصورت تعمیرات وقت کے ساتھ ساتھ ہوتی رہیں۔ ان تعمیرات میں دولت خانہ خاص و عام، مکتب خانہ، کالا برج، لال برج، مسجد مریم زمانی بیگم ، شیش محل، شاہ برج، سفید موتی مسجد، عالمگیری دروازہ وغیرہ شامل ہیں۔

قلعے کی دیوار خاصی چوڑی اور موٹی بنائی گئی تھی۔ اس کے مضبوط بنانے کے پیچھے یہ مقصد کارفرما تھا کہ اگر کوئی دشمن باہر سے حملہ آور ہو تو مضبوط دفاع کے طور پر قلعے کی دیوار پہلے سے موجود ہو۔ قلعے کے اندر کی عمارات بادشاہوں کے گھر ہوا کرتے تھے۔ اندر موجود خوبصورت باغ ماحول کو فرحت و تازگی بخشتے ہیں۔ اس قلعے کی دیواریں گرمیوں میں نہایت گرم ہوتی ہیں۔ فنِ تعمیر کے لحاظ سے مغل دور کے شاہکار کا رخ اگر کرنا ہو تو بادشاہی قلعہ لاہور کا رخ کیجئے۔

 

قصہ مختصر یہ کہ پاکستان فنِ تعمیر کے حوالے سے انفرادیت کا حامل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مخلتف ثقافتوں میں دلچسپی رکھنے والے سیاح دنیا بھر سے پاکستان آتے ہیں اور منفرد اور خوبصورت فنِ تعمیر کا دلچسپ ورثہ دیکھ کر وہ تعریف کئے بنا نہیں رہ سکتے۔

مزید خبروں اور اپڈیٹس کیلئے وزٹ کیجئے گرانہ بلاگ۔

About wasib imdad

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے