فلورنس گیلریا – انٹر نیشنل ہوٹل اور لگژری شاپنگ مال کا دلفریب امتزاج

یورپ کی نشاۃ ثانیہ کا دور یورپی تہذیب، حسن فن، سیاسی فراست، سماجی تشخص اور کمال معاشی  منصوبہ بندی کے حیات نو سے منسوب ہے ۔  عمومی طور پر یہ دور چودھویں صدی سے لیکر سترھویں تک محدود سمجھا جاتا ہے، مگر جس انداز سے قدیم یونانی اور رومی فلسفے، ادب، حسن تعمیر اور فن کو فروغ ملا، اس کے خوش نما اثرات آج تک کسی نہ کسی تہذیب، عمارت، یاانداز میں جھلکتے نظر آتے ہیں ۔ بلکہ یوں کہنا بے جا نہ ہوگا کہ فن کے اس حیات نو نے  زندگی کے بیشتر پہلووں کو اساس فراہم کی۔

اس دور کو اس لحا ظ سے بھی یاد رکھا جائےگا کہ اس میں کچھ عہد سازمفکرین، مصنفین، سیا ست دان، انجنیئرز،  سائنس دان اور شہرہ آفاق فنکاروں نے آنکھ کھولی جنہوں نے اپنے  اپنےشعبوں میں  کمال فن کی میراث قائم کی۔ اس کے  ساتھ ساتھ  اقوام عالم کی کھوکھ میں چھپے خزینوں کی کھو ج شروع ہوئی جس سے باالخصوص یورپی کاروبار کےلیئے نئی جہتیں کھل گئیں۔

مختصرا، نشاۃ ثانیہ نے یورپ کی قدیم  تہذیبی ظلمتوں کو  جدید دور کی تمدنی  کمالات سے جوڑ دیا جسے انسانی تاریخ ہمیشہ یاد رکھے گی۔اس دور کی چیدہ چیدہ خصوصیات میں  حسن فن تعمیرسر فہرست  ہےجسے کوئی بھی حسن کی متلاشی آنکھ قطی طور پر نظرانداز نہیں کر سکتی۔اس لیے یہ بات ہر لحاظ سے قابل فخر ہے کہ پاکستان بھی ان چند ممالک کی فہرست میں آچکا ہے جنہوں نے اس طرز تعمیر سے ملک کی تعمیری شناخت کو روشناس کیا۔

پاکستان میں اس وقت مختلف طرز تعمیر سے بنائے گئے عمارات موجود ہیں جو کبھی ہمیں مغل دور کے تعمیری  ذہانت سے روشناس کراتے ہیں، تو کبھی گوتھیک اسٹائل کا جاہ و جلال جھلکتا ہے، اور کہیں  جدید طرز تعمیر کی دلنشینی دل موہ لیتی ہے۔تاہم،  ایک معروف آرکیٹیکٹ ،کامل خان ممتاز کے نزدیک جدید طرز تعمیر نے خوبصورتی کے ساتھ ساتھ کہیں کنفیوژن کو بھی جنم دیا ہے۔ جس سے عمارت  کی مجموعی تھیم یا کیریکٹر معدوم ہو گئی ہے۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا واقعی  کسی عمارت کا کیریکٹر ہوتا ہے؟

جی ہاں، جو عمارت بظاہر تو خوبصورت لگے مگر اجتماعی نقطہ نظر سے کسی معروف خیال کو منعکس نہ کرے، وہ در حقیقت تھیم سے محروم ایک کوشش ہے جو حسن پرستوں کو متاثر نہیں کرتیں۔

پاکستان میں پچھلے دو دہائیوں سے مقامی آرکیٹیکٹس مغربی طرزو تعمیر کو بڑے تواتر سے رہائشی اور کمرشل  تعمیر میں استعمال کر رہے ہیں مگر بیشر وقت ایک مجموعی تھیم فراہم کر نے سے قاصر رہتے ہیں۔  نتیجتا، تعمیر سے حسن تعمیر تک کا سفر ادھورا  رہ جاتا ہے۔مشاہدے میں ہے کہ عمارتوں کی وسعت اور منازل تو تیزی سے بڑ ھ رہے ہیں مگر خوبصورتی ، استحکام، اور دلاویزی دھیرے دھیرے کم ہو رہی ہے۔

اسی اثنا میں چند ڈیولپرز  ایک نئی سوچ لے کر  رئیل اسٹیٹ ڈیولپمنٹ سیکٹر  میں آئے اور تعمیر کو باقاعدہ ایک فن اور سماجی  بہبود کے طور پر متعارف کرایا۔ اب چاہے جنوبی امریکہ کے ایمزون تھیم پر بنی عمارت ہو یا عربی طرز تعمیر کا  کوئی شاہکار ہو، ہمیں عمارتی خوبصورتی ایک نئے دور میں اترتی نظر آرہی ہے۔

فلورنس گیلریا – یورپی نشاۃ ثانیہ کی طرز تعمیر سے متاثر تعمیراتی خوبصورتی  کے اس دور کا ایک نیا باب ہے۔  جو کہ ایمزون اور ایریبین مالز کے تخلیق کاروں ، عمارت گروپ آف کمپنیز، کے  جدیدیت اور کمال انفرادیت کا ایک اور منہ بولتا ثبوت ہے۔ یہ در حقیقت انٹرنیشنل ہوٹل اور لکژری شاپنگ مال  کا وہ حسین امتزاج ہے  جس  کے ڈیزائن اور  تعمیر میں  یورپی نشاۃ ثانیہ کے تمام تکنیکی پہلووں  کا بطور خاص خیال رکھا گیا ہے۔

فلورنس گیلریا کے لیئے  رینیسنس تھیم کا  انتخاب اس لیئے کیا گیا کہ اس دور کےتخلیقی حسن ظن اور تعمیراتی تکنیکیت نے عمارت  کو  نہ صرف ایک خوبصورتی بخشی بلکہ مناسب استحکام بھی عطا کیا۔ یہی وجہ ہے کہ اس دور میں دنیا کے مختلف ممالک میں وہ لازوال شاہکار بنائے گئے جو آج تک قائم و دائم ہیں۔

دوم، جس طرح شروع میں کہا گیا کہ ہماری روائتی  طرزتعمیر سے جدیدیت کا وہ  پہلو اجاگر نہیں کیا جاسکتا جو کہ ریئل اسٹیٹ  سیکٹر میں بیرونی سرمایہ کاری کے لیئے ایک اہم جز ہے، لہذا، ہمیں ایک ایسی عمارت کی اشد ضرورت تھی جس سے حسن، استحکام، جدیدیت، وسعت،   اور سماجی بہبود کے تمام عناصر کو اس طریقے سے جوڑا جائے جو ہمارے ملک میں موجود  تعمیری جمود کو توڑ سکے۔ یہ پراجیکٹ  جڑواں شہروں کے باسیوں کے لیئے باالخصوص اور دیگر کے لیئے باالعموم ایک  بے مثال  جگہ ہے جس میں زندگی کی ہر آسائش کو بطریق احسن سمو دیا گیا ہے ۔

Florence Galleria

سوئم، اسلام آباد اور راولپنڈی میں عرصہ دراز سے قائم لگژری ہوٹلز  پرانے ہو چکے ہیں جس سے انکی  مقامی اور  بین ا لاقوامی سیاحوں کے لیئے کشش میں خاطر خواہ کمی آئی ہے۔ عمارت گروپ آف کمپنیز چونکہ تعمیری تجربات اور آسائش کو یکجا کرنے میں ایک نام رکھتا ہے اور جسکو ہر سطح پر پذیرائی  بھی ملی، نے ایک اور تجربہ کرنے کا بیڑا اٹھایا جو تکمیل سے بہت پہلے عوام میں مقبول ہو چکا ہے۔

فلورنس گیلریا  ہوٹل اور شاپنگ مال کے اختلاط سے بنائی گئی ایک 15منزلہ عمارت ہے جس میں جدید  دور کے تمام ضروری راحتوں کی دستیابی کا خاص اہتمام کیا گیا ہے۔ جو شائد شائقین کے لیئے نئی تو نہ ہو مگر جس اندازسے پیش کیا جائیگا وہ ہر لحاظ سے صرف اس پراجیکٹ کا خاصہ ہوگی۔

فلورنس گیلریا  ڈی ایچ اے اسلام آباد سے منظور شدہ، ڈی ایچ اے اسلام آباد کے اندر مین جی ٹی روڈ  پر واقع ہے۔ جو جڑواں شہروں سے آنے  والے تمام شاہراہوں اور ذیلی راستوں سے آنے والوں  کو آسان  رسائی فراہم کر تا ہے۔  مزید برآں، چونکہ اسلام آباد کا زون 5جہاں  یہ پراجیکٹ واقع ہے تیزی سے  جدید تعمیراتی سرگرمی کا گڑھ بن رہا ہے،   لہذایہ توقع کی جاتی ہے کہ اس پراجیکٹ کی تکمیل سے  شہر کی اس  اسٹریٹیجک لوکیشن کو چار چاند لگ جایئں گے۔ اور یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کے بہت جلد ہم ایک اور بلیو ایریا بنتا ہوا دیکھیں گے۔

شاپنگ مال

فلو رنس گیلریا کا  دلاویزشاپنگ مال  پراجیکٹ کے لوئر گراونڈ، گراونڈ، میزینائن اور پہلی منزل پر مشتمل ہے۔  اس مال میں  لگژری  مصنوعات  کے حامل  تمام مشہور و معروف ملٹی نیشنل برانڈز کی آوٹلیٹس موجود  ہیں جو  آنے والے سیاحوں اور خریداروں کے لیئے ایک لازوال  اور خوشگوار لائف ٹائم تجربہ ہوگا۔ باالخصوص، ایمیزون آوٹلیٹ مال میں ایک کامیاب تجربے کے بعد فلورنس میں بھی گولڈکو متعارف کرایا جارہا ہے جو مزید آئیڈیاز، مصنوعات اور تجربات سے مزین  مال کی دلنشینی میں خاطر خواہ اضافہ کریگا۔

انٹرنیشنل ہوٹل

فلورنس گیلریا پاکستان میں پہلی مرتبہ بین الاقوامی معیار کا حامل  ایک شہرہ آفاق  انٹرنیشنل ہوٹل متعارف کرا رہا ہے جسکو معروف انٹرنیشنل ہوٹلیئرز کے زیر انتظام چلایا جائیگا۔ ہوٹل فلورنس گیلریا کے چوتھی، پانچویں، چھٹی، ساتھویں اور  آٹھویں منزل پر مشتمل ہوگا جو جدید آسائشات، سہولتوں اور  منفرد لائف اسٹائل سے بھر پور دنیا کی بہترین سروس اپارٹمنٹس  کا ایک دیدہ زیب مرکز  ہوگا۔ ناقدین کا خیال ہے کہ اس انٹرنیشنل ہوٹل  کے قیام سے ہوٹل انڈسٹری میں ایک نئے معیار کا تعین ہوگا جو بلا شبہ عمارت گروپ آف کمپنیز کی محنت، تخلیقی انفرادیت اور شبانہ روز محنت کا ایک  منہ بولتا ثبوت ہوگا۔

Florence Galleria

ہارلےسنٹر –  خوبصورتی کی دیکھ بھال کا ایک منفرد انداز

  عمارت گروپ اپنے ہر پراجیکٹ میں  ایک انوکھے مگر بے حد پر کشش پراڈکٹ کا اضافہ کرتا ہے جو بعد میں   اپنی مثال آپ بن جاتا ہے۔مثال کے طور پر  زرگر   یا  للی پیڈز جہاں  روزمرہ کے اسلوب کار کو تخیلاتی خوبصورتی کے ساتھ جوڑ دیا گیا ہے۔ آپ کھانا کھائیں یا شاپنگ کریں، آپ کو اپنے ارد گرد کے ماحول سے ایک عجیب سی انسیت محسوس ہوگی۔

فلورنس گیلریا میں یہ خوبی ہارلے سنٹر کی نظر کی گئی جو ہر طرح کی جسمانی خوبصورتی کی دیکھ بھال کے لیئے ایک "ون اسٹاپ شاپ” تصور ہوگا۔ ہارلے سنٹر  فلورنس گیلریا کی دوسری منزل پر واقع ہے جس میں پاکستان کے مایہ ناز ما ہر جلد، صحت اور جسمانی افزا ئش اپنی خدمات پیش کرینگے ۔ تاکہ کلائنٹ کیئر کو  ایک نئے اور پر اثر انداز سے نبھایا جا سکے۔

Beauty clinic

دیگر سہولیات

اس کے ساتھ ساتھ ، فلورنس مال چھوٹی بڑی منفرد سہولیات کا  ایک مکمل مجموعہ ہے جس  میں ذائقہ، آرام اور   پرائویسی ہمہ وقت آپکی راہ دیکھ رہی ہونگی۔ چیدہ چیدہ خصوصیات میںان فینٹی پول، ورڈ کلاس جم، وسیع پارکنگ ، بہترین سیکیورٹی اور ائرپورٹ سے ہوٹل تک کی پک اینڈ ڈراپ سہولت موجود ہے۔

فلورنس گیلریا عجوبات سے بھر پور ایک بہترین احساس ہے جس کو ہم دھیرے دھیرے کھوجتے اور بتاتے رہینگے۔ پاکستان میں عمومی طور پر محفوظ اور منافع بخش سرمایہ کاری کے مواقع بہت کم  دستیاب ہوتے ہیں،   فلورنس گیلریا اس لحاظ سے بھی اپنی مثال آپ ہے کہ اس نے قلیل وقت میں قلیل سرمایہ کے ساتھ  ایک مستحکم اور رواں منافع کی لازوال روائت قائم کی ہے جس سے عوام بھر پور فائدہ اٹھا رہی ہے۔

تعمیری جدت کے اس شاہکار کا 11اکتوبر کو ایک پر شکوہ تقریب میں  افتتاح ہوچکاہے۔ اور عوام کو بھر پور فائدہ دینے کیلئے  18اکتوبر تک خصوصی ڈسکاونٹ کی آفر ہو چکی ہے جسکو جڑواں شہروں کی سرمایہ کاری  کے لحاظ سے سب سے بڑا موقع سمجھا جارہا ہے۔

مزید معلومات کیلئے ابھی گراناڈاٹ کام پر رابطہ کریں۔

About Maham Tahir

Comments

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔