روس کے ساتھ 20 لاکھ ٹن گندم کی درآمد کا معاہدہ آخری مرحلے میں داخل

اسلام آباد: پاکستان اور روس کے مابین 20 لاکھ ٹن گندم کی درآمد کا معاہدہ آخری مرحلے میں داخل ہو گیا ہے۔ وزیراعظم روس کے ساتھ گندم کے درآمدی معاہدے کی جلد از جلد تکمیل کے ساتھ ساتھ نے گندم کی آئندہ فصل تک بفر اسٹاک کو یقینی بنانے کی ہدایات جاری کر دیں۔

وزیر اعظم شہباز شریف کی صدارت میں گندم کے ذخائر کے حوالے سے جامع منصوبہ بندی، ملک میں گندم کے موجودہ ذخائر، ممکنہ طلب اور درآمد کے ٹینڈرز سے متعلق اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا۔

وزارتِ خوراک کی جانب سے دی گئی بریفنگ پر وزیر اعظم نے متعلقہ حکام کو روس کے ساتھ گندم کی درآمد کے معاہدے کو جلد از جلد مکمل کرنے کی ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں دستیاب اسٹاک سے گندم کے اجراء کے ساتھ ساتھ متعلقہ ادارے گندم کے بفر اسٹاک کو یقینی بنائیں۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ ملک میں حالیہ گندم کی پیداوار کا تخمینہ 26.389 ملین میٹرک ٹن لگایا گیا جبکہ پچھلے سال کے 1.806 ملین میٹرک ٹن ذخائر موجود ہیں۔

علاوہ ازیں ملک میں 30.79ملین میٹرک ٹن کی مجموعی قومی طلب کے مقابلے کُل ذخائر 28.199ملین میٹرک ٹن ہیں۔

طلب اور ذخائر میں فرق کو ختم کرنے کیلئے حکومت نے اقتصادی رابطہ کمیٹی کے ذریعے بروقت گندم کی درآمد کا فیصلہ کیا ہے۔

حکومتی فیصلے کے مطابق پہلی کھیپ کے بعد دوسرے ٹینڈر میں 300000 میٹرک ٹن پر فی میٹرک ٹن 34.54 ڈالر اور مجموعی طور پر قومی خزانے کا 1 کروڑ 3 لاکھ امریکی ڈالر بچایا گیا۔

اس کے علاوہ اجلاس کو گوادر بندرگاہ کے ذریعے گندم کی درآمد پر پیش رفت پر بھی تفصیلی طور پر اگاہ کیا گیا۔

وزیرِ اعظم نے ہدایات جاری کیں کہ گندم کی گوادر بندگاہ کے ذریعے درآمد کو یقینی بنانے کیلئے اقدامات کو جلد یقینی بنایا جائے۔

وزیرِ اعظم نے خصوصی ہدایات جاری کیں کہ  بفر اسٹاک متعین کر کے جلد اس پر رپورٹ پیش کی جائے۔

مزید خبروں اور اپڈیٹس کیلئے وزٹ کیجئے گرانہ بلاگ۔

About Zeeshan Javaid

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔