گھر کی تعمیر کے دوران کونسی عام غلطیوں سے بچا جائے؟

سکون، اپنائیت، محبت، آرام اور اطمینان وہ آسائشیں ہیں جو صرف ایک گھر میں حاصل ہوتی ہیں۔ دنیا کے کسی بھی کونے سے گھر واپس لوٹنے والے انسان کی خوشی جنت کی آغوش میں جانے کے مترادف ہوتی ہے۔ فائیو سٹار ہوٹل میں گزارے ہوئے کئی دن بھی گھر کے ایک پل کے سکون کے برابر نہیں ہوتے۔ یہی وجہ ہے کہ مالکان اپنے گھر کی تعمیر کے دوران بے حد محتاط نظر آتے ہیں۔ اور تمام تعمیر اپنے مطابق کرانے کے خواہاں ہوتے ہیں۔

 بلاشبہ گھر کی تعمیر ایک آسان کام نہیں۔ بہترین نقشے سے لے کر مٹیریل کے تعین تک ایک مشکل مرحلہ ہے۔ گھر کی تعمیر میں سرمایہ لگانے والے اپنا قیمتی وقت بھی تعمیراتی مراحل کی نذر کرتے ہیں۔

یاد رکھیئے، گھر روز روز نہیں بنائے جاتے۔ اسی لیے تعمیر کے دوران ہر ضروری پہلو کو مدِنظر رکھنا نہایت اہم ہے۔تعمیر کے دوران کچھ نکات ایسے ہوتے ہیں جو بظاہر ہمارے سامنے تکمیل پاتے ہیں۔ لیکن ہم ان کے دور رَس نتائج، فوائد یا نقصان کا تخمینہ نہیں لگا پاتے۔ جنہیں تعمیراتی غطیاں بھی کہا جا سکتا ہے۔

کچھ غلطیاں تو بظاہر عام سی ہوتی ہیں لیکن دورانِ رہائش ان کے نتائج بڑے محسوس ہوتے ہیں۔ اور پھر گھر والے یہ سوچتے رہ جاتے ہیں کہ کاش اس پہلو کو بھی مدِنظر رکھا ہوتا۔

 

زیرِ تعمیر مکان اور اس کے باہر موجود تعمیراتی مٹیریل

 

چند غور طلب پہلو

گھر کی تعمیر کے دوران کی جانی والی چند عام غلطیاں جو مستقبل میں پریشانی کا باعث بن سکتی ہیں۔

گھر میں قدرتی روشنی کا حصول ممکن بنائیں

ہوا کا گزر یا وینٹیلیشن یقینی بنائیں

بہترین مٹیریل کا انتخاب

رہائشی ایریا کا زیادہ سے زیادہ استعمال

سوئچ بورڈ یا برقی ساکٹ کی تنصیب

سیوریج سسٹم اور پائپ لائنز کی تنصیب

شمسی توانائی کا حصول

 

قدرتی روشنی کا حصول

محدود سرمایہ، کم وقت، اچھا تعمیراتی مٹیریل، بہترین ٹھیکیدار اور معماروں کی تلاش کچھ غور طلب پہلوؤں پر توجہ نہیں دینے دیتی۔ اس تمام بھاگ دوڑ میں اکثر لوگ جلد بازی سے کام لیتے ہیں۔ اور صرف گھر کی تعمیر مکمل کرنے میں کوشاں ہوتے ہیں۔ اور انہیں یہ خیال بھی چھو کر نہیں گزرتا کہ گھر کو قدرتی روشنی اور سورج کی شعاعوں کے مطابق تعمیر کیا جانا کتنا ضروری ہے۔

لہٰذا، اپنے گھر کے نقشے کو قدرتی روشنی، موسمیاتی تبدیلی اور گرمی سردی کے لحاظ سے تعمیر کرنا نہایت اہم ہے۔ تاکہ روشن گھر میں آپ کو برقی روشنیوں کی کم سے کم ضرورت پڑے۔ سردیوں میں دھوپ کا سامنا ہو اور موسمِ گرما میں کم سے کم سورج کی شعاعیں گھر میں داخل ہونے پائیں۔

 ہر موسم اور سیزن کے فوائد کے ساتھ سورج کی روشنی گھر میں نمی اور سیم پیدا نہیں ہونے دیتی۔ علاوہ ازیں، آپ حشرات اور مختلف کیڑے مکوڑوں سے گھر کو بچا سکتے ہیں۔

 

کشادہ کمرے میں کھڑکی سے آتی سورج کی شعاعیں

 

گھر میں ہوا کا گزر انتہائی ضروری

گھر میں تازہ ہوا کا داخل نہ ہو پانا اور وینٹیلیشن کا ناقص سسٹم تعمیر کے دوران کی جانے والی ایک عام غلطی ہے۔ لیکن اس کی بنا پر بجلی کے بل میں اضافہ ایک بڑی وجہ ہے۔ ہوا کا گزر گھر کے تمام حصوں کے درجہ حرارت کو معتدل رکھتا ہے۔ گرمی کے موسم میں شام کے وقت کم ہوتا ٹمپریچر گھر کی گرمائش کو بھی کم کرتا ہے۔ اسی طرح بارش ہونے کی صورت میں ہوا کے گزر سے درجہ حرارت میں واضح کمی ہو جاتی ہے۔ یہ تب ممکن ہے جب آپ نے تعمیر کے دوران ہوا کے گزر کو مدِنظر رکھا ہو۔

علاوہ ازیں، بڑے حجم کی کھڑکیاں روشنی اور تازہ ہوا کے حصول میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ اسی طرح، دروازوں کو ایسے جگہ پر نصب کرنا ضروری ہے جن کی بدولت زیادہ سے زیادہ ہوا کا گزر ممکن ہو۔

مزید براں، کچن میں بھی کم از کم ایک عدد کھڑکی ضرور نصب ہونی چاہیئے۔

 

بہترین تعمیراتی مٹیریل کا انتخاب

کسی بھی گھر کی تعمیر سے متعلق آپ کو سب سے پہلے بہترین مٹیریل کے انتخاب کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہ فیصلہ آپ جلد اور تنہا نہ کریں تو بہتر ہے۔ گھر بنانے سے قبل کچھ قابل اور تجربہ کار لوگوں سے مشورہ بہتر فیصلے میں آپ کی مدد کرے گا۔ علاوہ ازیں، مٹیریل کے انتخاب میں آپ کا سمجھدار ٹھیکیدار بھی مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ مارکیٹ کا ایک سے زائد بار دورہ آپ کو معیاری مٹیریل کی پہچان اور انتخاب میں یقینی طور پر معاون ہو گا۔

تعمیراتی مٹیریل پر مبنی تصویر

 

گھر کے رہائشی ایریا کا زیادہ سے زیادہ استعمال

گھر کا وہ تمام حصہ یا ایریا جو چھت سے ڈھانپا گیا ہو۔ اور اس میں تمام کمروں، کچن، باتھ روم اور ڈرائنگ روم شامل ہو، اس طرح تعمیر کیا جائے جو صحیح معنوں میں قابلِ استعمال ہو۔ یعنی بہت بڑے واش رومز اور حد سے زائد بڑے کچن آپ کو ایک جمالیاتی پہلو تو دے سکتے ہیں۔ لیکن یہ صرف اور صرف جگہ کا ضیاع ہو گا۔ اس سے بہتر ہوگا کہ آپ ڈرائنگ روم کو اپنے مہمانوں کے لیے ایک کشادہ کمرے کے طور پر ڈیزائن کریں۔ تاکہ مہمانوں کی قدرے زیادہ تعداد آنے میں پریشانی کا سامنا نہ ہو۔ اسی طرح، مہمان خانے یا گیسٹ روم کو اس حد تک کشادہ تعمیر کریں کہ ایک سے زائد افراد قیام کر سکیں۔ یا پھر ایک چھوٹی فیملی کے لیے کافی ہو۔ اور آپ کو گھر کے ذاتی کمروں تک رسائی نہ دینی پڑے۔

 

سوئچ بورڈز یا برقی ساکٹ کی تنصیب

پائیدار اور مضبوط تاروں یا کیبل پر مشتمل برقی نظام کو ترتیب دینا یقیناَ ضروری ہے۔ لیکن اس کے ساتھ وہ بٹن اور بورڈز جن کو ایک بار دبانے سے ہم کسی بھی برقی چیز کو متحرک کر دیتے ہیں، مضبوط اور ٹھوس ساخت کے ہونے چاہئیں۔ بجلی کی ترسیل اور الیکٹرک سسٹم سے منسلک سامان اور آلات پر عقلمندانہ فیصلہ مستقبل میں آپ کے لیے مفید ثابت ہو گا۔

علاوہ ازیں، الیکٹرک ساکٹ یا سوئچ بورڈز نصب کرنے میں عموماَ یہ غلطیاں دیکھنے میں آتی ہیں۔ یا تو انہیں دیوار میں بہت نیچے لگایا جاتا ہے۔ جہاں بچے آسانی سے پہنچ کر کوئی بھی نقصان کر سکتے ہیں۔ اور ان کے لیے یہ جان لیوا بھی ثابت ہو سکتا ہے۔ یا پھر ساکٹ ایسی جگہ پر ہوتا ہے کہ صوفہ یا کرسی پہ بیٹھنے پر وہ سر سے چھوتا ہے جو انتہائی غیر مناسب ہے۔ اور مہمان کے بیٹھنے کی صورت میں اگر آپ اس کے سر کے پیچھے ہاتھ بڑھا کر بٹن آن کرتے ہیں، تو یہ ایک بےحد نا مناسب عمل ہے۔ مزید یہ کہ، ساکٹ اتنا اونچا بھی نہ ہو کہ ہاتھ اوپر اٹھاتے ہوئے دقت ہو۔

 

بجلی کے ساکٹ کو چھوتے ہوئے چھوٹے بچے کے دو ہاتھ

 

سیوریج سسٹم اور پائپ لائنز کی تنصیب

کسی بھی نئے تعمیر کیے جانے والے گھر میں سیوریج سسٹم اور دیگر پائپ لائنز کی تنصیب کی جاتی ہے۔ اس نظام میں کی جانے والی غلطی یہ ہوتی ہے کہ پائپ لائنز کا گزر گھر کے اندرونی حصوں میں سے کیا جاتا ہے۔ اور کسی بھی خرابی کی صورت میں اندرونی فرش اور ٹائلوں کو توڑنا پڑتا ہے۔ یہ نہ صرف خرچ میں اضافے کا باعث بنتا ہے بلکہ پورے گھر کے نظام کو مفلوج بھی بناتا ہے۔ لہٰذا، سیوریج اور دیگر پائپ لائنز کی تنصیب گھر کی بیرونی دیواروں کے ساتھ کی جانی چاہیئے۔ اسی طرح، کوشش کریں کہ گیزر کی تنصیب کچن اور باتھ روم کے قریب ہو۔ تاکہ گرم پانی کی فوری اور آسان ترسیل ممکن بنائی جا سکے۔

 

شمسی توانائی

مہنگائی کے اس دور میں سولر پینل پر مشتمل ٹیکنالوجی نے لوگوں کے دل میں اپنی جگہ بنالی ہے۔ اور اب بیشتر لوگ اس مفید ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے نظر آ رہے ہیں۔ جو بجلی کا بہترین نعم البدل ہے۔ نئے گھر کی تعمیر میں اگر آپ سولر سسٹم نصب کریں تو یقیناَ یہ ایک بہترین فیصلہ ہے۔

مزید خبروں اور اپڈیٹس کیلئے وزٹ کیجئے گرانہ بلاگ۔

About Farah Rehman

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔