ڈینگی سے بچاؤ کے لیے کونسے اقدامات ضروری؟

برسات کا موسم جہاں اپنے ساتھ بہت سی بارشیں، لوازمات اور خوشگوار موڈ لے کر آتا ہے، وہیں سیلاب سے لے کر مکھیاں، مچھر اور مختلف بیماریاں ساتھ لاتا ہے۔ جگہ، جگہ افزائش پاتے مچھر جب انسانوں پر حملہ آور ہوتے ہیں تو انہیں بخار، سر درد اور جسم درد میں مبتلا کر کے بیمار کر دیتے ہیں۔ یہی سب جان لیوا بیماری ڈینگی کی وجہ بنتا ہے۔ لیکن اگر ہم چند عملی اقدمات کے تحت ’’صفائی نصف ایمان ہے‘‘ کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں اور مکمل احتیاط برتیں تو ایسی بیماریوں کو بھرپور شکست دی جا سکتی ہے۔

 

دستانے پہنے ڈاکٹرز کے ہاتھ میں ڈٰنگی ویکسین کا انجیکشن

 

ڈینگی کا سبب بننے والے حالات

کہتے ہیں احتیاط علاج سے بہتر ہے۔ تو پھر ہم بیمار ہونے کا انتظار کیوں کریں؟ ہمیں عملی طور پر سمجھداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے ارد گرد کچھ ایسے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ جن کی بدولت ہم خود کو، اپنی فیملی کو اور آس پاس کے دیگر لوگوں کو صحت مند رکھ سکتے ہیں۔

ٹھہرا ہوا پانی

گھر میں کسی بھی جگہ، کسی بھی گملے، پودے، بالٹی یا برتن میں پانی موجود نہیں ہونا چاہیئے۔ ٹھہرا ہوا اور رکھا ہوا پانی مچھروں کی افزائشِ نسل کا باعث بنتا ہے۔ بچوں کے معاملے میں خاص احتیاط برتنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ کیونکہ اکثر اوقات بچے کھیل کود یا کھانے پینے کے دوران پانی اور دیگر اشیا ادھر ادھر پھیلا دیتے ہیں۔ علاوہ ازیں، پالتو جانور کے برتن یا اس کے آس پاس بھی ٹھہرا ہوا پانی موجود نہیں ہونا چاہیئے۔

 

گملے کے نیچے رکھی گئی ٹرے میں موجود پانی

 

صفائی کے ناقص انتظامات

گھر ہو یا دفاتر، اپنے آس پاس کے ماحول کو صاف ستھرا رکھیئے۔ کوڑا کرکٹ،گندگی اور بچا ہوا کھانا گھر میں موجود نہیں ہونا چاہیئے۔ ڈسٹ بِن یا کوڑے والی باسکٹ صاف ستھری ہو اور اوپر سے ڈھانپ کر رکھی گئی ہو۔ اور روزانہ کی بنیاد پر اسے دھویا اور صاف کیا جاتا ہو۔ علاوہ ازیں، پانی کی ٹینکیاں بھی اولین بنیادوں پر صاف کی جانی چاہیئں۔ اور انہیں مکمل طور پر ڈھانپنے کا انتظام کیا جانا چاہیئے۔

دروازے، کھڑکیاں اور پردے

مچھروں اور دیگر حشرات سے بچنے کے لیے بہتر ہے کہ گھر کے دروازوں اور کھڑکیوں کی صفائی اور دیکھ بھال پر خصوصی توجہ دی جائے۔ اگر آپ کے گھر میں مچھر پیدا کرنے والے عوامل نہیں تو باہر سے ہرگز مچھر گھر میں نہ آںے دیں۔ ایسے موسم میں ٹوٹی ہوئی کھڑکیوں، دروازوں اور ان کے ہینڈلز کی مرمت کروانا ضروری ہے۔ مچھروں اور دیگر حشرات سے بچاؤ کے لیے آپ کھڑکیوں یا دروازوں پر جالی کے پردے آویزاں کر سکتے ہیں۔

 

کمرے کی کھڑکی پہ موجود جالی کے سفید پردے

 

مچھر مار سپرے اور ادویات

مچھروں اور دیگر حشرات کے خاتمے کے لیے مارکیٹ میں مختلف طرز کے سپرے اور کیڑے مار ادویات دستیاب ہیں۔ اس کے علاوہ وہ کوائل بھی دستیاب ہیں جن کے دھوئیں کی بدولت گھر میں موجود مچھر مر جاتے ہیں۔ ان ادویات کا استعمال کارآمد ثابت ہوتا ہے۔ اور ممکنہ حد تک آپ مچھروں سے نجات حاصل کر لیتے ہیں۔ سپرے اور ادویات کے پھیلاؤ کے دوران اپنا منہ اور ناک ڈھانپ کر رکھیں۔ تاکہ زہریلے کیمیکل سانس کے ساتھ اندر نہ جانے پائیں۔

کونسی جگہیں زیادہ توجہ طلب ہیں؟

گھر، دکان، آفس اور دیگر رہائشی یا کمرشل مقامات پر تمام جگہوں کی صفائی ستھرائی اور دیکھ بھال ضروری ہے۔ چاہے وہ روزانہ کی بنیاد پر استعمال ہوں یا نہ ہوں۔ خاص طور پر گھروں اور عمارتوں میں ان کونوں کھدروں کی صفائی بے حد ضروری ہے جہاں پہ مکھیاں، مچھر یا دیگر حشرات کی افزائش ممکن ہوتی ہے۔

 

 

ڈینگی کی علامات

ڈینگی کا شکار ہونے والے افرد میں دیگر علامات ظاہر ہوتی ہیں۔

سر درد

بخار

جسم درد

ڈائریا

غنودگی

متلی

خراشیں

ڈینگی بخار کیسے ہوتا ہے؟

ڈینگی بخار ایک مادہ مچھر کی بدولت صحت مند انسان تک پہنچتا ہے۔ یہ مچھر متاثرہ شخص سے وائرس لے کر صحت مند افراد میں منتقل کرتا ہے۔ مچھر کاٹنے کے 4 سے 6 روز میں علامات ظاہر ہونا شروع ہو جاتی ہیں۔جسم میں خون کے سفید خلیے کم ہونے کے باعث مریض کی حالت گھنٹوں میں خراب ہوتی ہے اور صحت گرنا شروع ہو جاتی ہے۔ زیادہ حالت خراب ہونے کی صورت میں موت بھی واقع ہو سکتی ہے۔ لہٰذا بخار یا دیگر علامات کی صورت میں مریض کا فوری چیک اپ اور ہسپتال منتقلی ضروری ہوتا ہے۔ ڈینگی کا وہ لوگ جلد شکار ہوتے ہیں جن میں قوت مدافعت کم ہوتی ہے۔  اس وائرس کے مچھر صبح سویرے یا پھر غروبِ آفتاب کے وقت حملہ آور ہوتے ہیں۔

 

بخار میں مبتلا خاتون کے ہاتھ میں تھرما میٹر

 

اگر کسی مریض کو ڈینگی کا خدشہ ہو تو ڈاکٹرز کی جانب سے سی بی سی ٹیسٹ کا نسخہ دیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ ضرورت پڑنے پر این ایس ون، آئی جی ایم اور آئی جی جی ٹیسٹ بھی کروایا جاتا ہے۔ حکومت کی طرف سے  حال ہی میں ڈینگی سے  متعلقہ ٹیسٹوں کے نرخ بھی کم کیے گئے ہیں۔

ڈینگی کا ممکنہ علاج

ڈینگی بخار کے دوران شدید کمی کی صورت میں خون کی منتقلی کی جاتی ہے۔ پین کِلر یا درد ختم کرنے والی گولیوں یا دواؤں کا استعمال کیا جاتا ہے۔ گھریلو نسخوں میں پپیتے کے پتوں کا استعمال، پینے والے پانی میں او آر ایس کا استعمال اور صحت افزا خوراک کا استعمال ممکن بنانا ضروری ہوتا ہے۔ خاص طور وہ غذائی اشیا جن سے قوت مدافعت میں اضافہ ہو، ضرور کھانی چاہیئں۔

 

بخار میں مبتلا ایک شخص پانی کے ساتھ گولی کھاتے ہوئے

 

احتیاطی تدابیر

پورے بازو والی قمیض اور مکمل لباس زیب تن کریں۔

اگر آپ کے علاقے میں مچھر اور مکھیاں بےشمار تعداد میں پائے جاتے ہیں تو مچھر دانی کا استعمال لازم بنائیں۔

اپنے گھروں اور دفاتر میں، برتنوں، گملوں، پودوں اور کیاریوں میں پانی کھڑا نہ ہوے دیں

روم کولر اور فرج کی ٹرے میں بھی پانی جمع نہ ہونے دیں۔

اپنے گھر میں درد ختم کرنے والی ادویات (پین کِلر) رکھیں، کیونکہ وبا کے عروج پر ایسی دوائیں اکثر مارکیٹ میں آسانی سے دستیاب نہیں ہوتیں۔

 

مزید خبروں اور اپڈیٹس کیلئے وزٹ کیجئے گرانہ بلاگ۔

About Farah Rehman

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔