وفاقی دارلحکومت کی 28000 ایکڑ زمین غیر قانونی طور پر زیر قبضہ

اسلام آباد: ڈپٹی کمشنر اسلام آباد حمزہ شفقات نے سینٹ کی قائمہ کمیٹی کو بریفنگ میں بتایا ہے کہ وفاقی دارلحکومت کی 28000 ایکڑ اراضی غیر قانونی طور پر زیر قبضہ ہے۔

سینیٹر حاجی ہدایت اللہ خان کی زیرصدارت سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے ہاؤسنگ و تعمیرات کا اجلاس ہوا جس میں سیکٹر جی چودہ ون میں غیر قانونی قابضین کو ڈویلپمنٹ اور سہولیات کی فراہمی کا معاملہ زیر غور لایا گیا۔

سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے استفسار کیا کہ سیکٹر جی چودہ ون میں کون ڈویلپمنٹ کر رہا ہےجس پر ڈی سی اسلام آباد حمزہ شفقات نے کہا کہ اس سیکٹر میں مقامی اراکین قومی اسمبلی ڈی جیز کے فنڈز سے کام کر رہے ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں ڈی سی اسلام آباد نے کمیٹی کو بتایا کہ وفاقی دارلحکومت کی 28 ہزار ایکڑ زمین کا غیر قانونی قبضہ نہ چھڑوائے جانے کی متعدد وجوہات ہیں۔

کمیٹی کے رکن سینیٹر افنان اللہ خان کا کہنا تھا کہ سیکٹر ایف الیون پر لوگوں کی زمینوں پر قبضے آج تک نہیں چھڑوائے جا سکے۔

سرکاری رہائش گاہوں اور قابضین کے معاملے پر سیکرٹری ہاؤسنگ نے بتایا کہ اس وقت 33 ہزار ملازمین گھروں کیلئے ویٹنگ لسٹ میں موجود ہیں۔

گزشتہ تین سال میں 2 ہزار 800 سے زائد گھر قابضین سے خالی کرائے گئے جبکہ ان مکانوں کو جنرل ویٹنگ لسٹ کے تحت الاٹ کیاگیا۔

نیشنل کنسٹرکشن کمپنی نے بتایا کہ 1 ارب 82 کروڑ سے زائد کے سات منصوبے زیر تکمیل ہیں۔

مزید خبروں اور اپڈیٹس کیلئے وزٹ کیجئے گرانہ بلاگ۔

About Zeeshan Javaid

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے