جولائی میں مہنگائی کی شرح 4.35 فیصد اضافے کے ساتھ 24.93 فیصد پر پہنچ گئی

اسلام آباد: ملک میں مہنگائی کا 14 سال کا ریکارڈ ٹوٹ گیا کیونکہ پہلی بار جولائی میں مہنگائی کی شرح 4.35 فیصد اضافے کے ساتھ 24.93 فیصد کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔

وفاقی ادارہ شماریات نے ماہانہ بنیادوں پر ملک میں مہنگائی سے متعلق تازہ ترین اعداد و شمار جاری کر دیے۔

وفاقی ادارہ شماریات کے اعداد و شمار کے مطابق جولائی میں مہنگائی 4.35 اضافے سے 24.93 فیصد کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔

ایک ماہ میں بجلی 39 فیصد سے زیادہ مہنگی ہوئی تو دیگر اشیاء کی قیمتوں کو بھی پَر لگ گئے۔

ایک سال میں ایندھن 94 فیصد مہنگا ہونے سے ٹرانسپورٹ کرائے 65 فیصد تک بڑھ گئے۔

سال بھر میں خوراک کے نرخ 28 فیصد تک بڑھے۔

دیہی علاقوں میں افراطِ زر اور بھی زیادہ 26.3 فیصد ریکارڈ کی گئی جبکہ مہنگائی کی شرح گزشتہ 9 ماہ سے ڈبل ڈیجِٹ پر برقرار ہے۔

پچھلے ایک مہینے میں سبزیاں 25 فیصد، دال چنا 14 فیصد، پیاز 13.65 فیصد مہنگا، آلوکے نرخ 10.87 فیصد، بیسن اور گندم کے 10 فیصد، دال ماش کے 9.75 جبکہ دال مسور اور چائے کے نرخ 9 فیصد بڑھ گئے۔

گذشتہ ایک ماہ میں چینی، ٹماٹر اور پھلوں سمیت بعض اشیاء سستی ہوئیں ۔

سالانہ اعدادوشمار کی بات کی جائے تو سال بھر میں خوراک 28.50 فیصد، بجلی 86.72 فیصد، موٹر فیول 94 فیصد، ٹرانسپورٹ کرائے 64.73 فیصد تک بڑھ گئے۔

گذشتہ مالی سال کے دوران پانی، بجلی، رہائش اور فیول چارجز 22 فیصد، صحت سہولیات کے 11 فیصد اور تعلیم کے اخراجات 10 فیصد بڑھ چکے ہیں۔

مزید خبروں اور اپڈیٹس کیلئے وزٹ کیجئے گرانہ بلاگ۔

About Zeeshan Javaid

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔