موسمیاتی تبدیلیوں کے تناظر میں پلاسٹک روڈ کا بڑھتا رحجان

عالمی درجہ حرارت میں اضافے اور موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث دنیا بھر میں چاروں قدرتی موسموں کے دورانیے میں کسی حد تک تبدیلی دیکھنے کو مِل رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ گذشتہ چند سالوں سے موسمِ سرما ہو یا گرما، بہار ہو یا خِزاں، یا پھر ہو مُون سُون میں بارشوں کا سیزن، یہ تمام موسم گذشتہ ایک عرصے سے اپنے مقررہ وقت سے یا تو کچھ دیر قبل یا پھر تاخیر سے شروع ہو رہے ہیں اور اس کی بنیادی وجہ عالمی درجہ حرارت میں اضافہ بتایا جاتا ہے۔

موسمیاتی تبدیلیوں کو مدِ نظر رکھتے ہوئے تعمیراتی شعبے سے وابستہ بین الاقوامی ماہرین تعمیراتی منصوبوں جیسے سڑکوں کی تعمیر کے حوالے سے جدید تحقیق کی بنیاد پر نِت نئی طرزِ تعمیر متعارف کرانے میں کوشاں ہیں۔

آج کی اس تحریر میں ہم اپنے قارئین کے ساتھ ایک انتہائی دلچسپ موضوع یعنی دنیا میں پلاسٹک سے بنی سڑکوں کے بڑھتے رحجان سے متعلق کچھ مفید معلومات پر تبادلہ خیال کریں گے۔ یہاں ایک اور خوش آئند امر جس کا ذکر کرنا ضروری ہے، وہ یہ کہ پاکستان میں بھی تجرباتی بنیادوں پر پہلی پلاسٹک روڈ متعارف کروائی جا چکی ہے۔ یہ کہاں واقع ہے؟ اس حوالے سے بھی ہم آگے چل کر بات کریں گے۔

تعمیراتی صنعت کا انقلابی اقدام یعنی پلاسٹک روڈ اصل میں ہے کیا؟

ترقی یافتہ ممالک میں پلاسٹک روڈ کی تعمیر اور اس کا استعمال کوئی اچھنبے کی بات نہیں ہے تاہم ترقی پذیر ممالک نے بھی اب تجرباتی بنیادوں پر ایسی سڑکوں کی تعمیر کا سلسلہ شروع کر دیا ہے جو کہ نہ صرف ماحول دوست بلکہ انتہائی آرام دہ اور مُون سُون کے موسم میں بارشوں کی سختی برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔

پلاسٹک سے تعمیر کردہ سڑکوں کے حوالے سے تعمیراتی ماہرین دو مختلف رائے رکھتے ہیں۔ ایک نظریہ تو یہ ہے کہ سڑک کو مکمل طور پر استعمال شدہ پلاسٹک کے مٹیریل سے تعمیر کیا جا سکتا ہے اور دوسری رائے یہ ہے کہ پلاسٹک روڈ کے تعمیراتی عمل میں استعمال شدہ پلاسٹک کے ساتھ ایسفالٹ اور کنکریٹ کی آمیزش کی جاتی ہے جو کہ پائیداری کے حوالے سے قابلِ اعتماد تصور کی جاتی ہے۔

پلاسٹک روڈ ٹیکنالوجی کا ارتقاء

پلاسٹک روڈ ٹیکنالوجی کا ارتقاء سب سے پہلے بھارتی ریاست تامل ناڈو کی تھیاگراجر کالج آف انجینئرنگ میں ہوا جہاں بھارتی سائنسدان نے ایک مفصل تحقیق کے بعد یہ نظریہ دیا کہ استعمال شدہ پلاسٹک کو استعمال میں لاتے ہوئے سڑک کی تعمیر ممکن بنائی جا سکتی ہے۔ مذکورہ سائنسدان کے مطابق پلاسٹک روڈ کی تعمیر سے نہ صرف موسمیاتی سختیوں سے بچاؤ میں مدد مِل سکتی ہے بلکہ اس نظریہ کے تحت سڑک پر چلنے یا ڈرائیو کے دوران صارفین پُرسکون اور آرام دہ سفر یقینی بنا سکتے ہیں۔

پلاسٹک روڈ کی تعمیر کا مرحلہ انتہائی آسان ہے۔ یعنی سب سے پہلے استعمال شدہ پلاسٹک جیسے بوتلیں، کَپ، شاپنگ بیگ اور دیگر مصنوعات کو اکھٹا کریں۔ اس سارے مٹیریل سے گندگی علیحدہ کرنے کے لیے اسے پانی میں اچھی طرح دھو لیں۔ پھر اس سارے مٹیریل کو چھوٹے ٹکڑوں میں تبدیل کریں اور 165 ڈگری درجہ حرارت پر اسے پگھلا کر اس کا آمیزہ تیار کر لیں۔ پھر اس آمیزے میں ایسفالٹ اور کنکریٹ کی آمیزش کرتے ہوئے اسے سڑک کی تعمیر میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔

کون سے ممالک اس ٹیکنالوجی سے استفادہ کر رہے ہیں؟

ریاست ہائے متحدہ امریکہ، بھارت، پاکستان، برطانیہ، اسٹریلیا، انڈونیشیا اور ہالینڈ سمیت دنیا کے کئی ممالک اس ٹیکنالوجی سے استفادہ کر رہے ہیں۔ بھارتی شہر چنائی دنیا کے میٹرپولیٹن شہروں میں سے واحد شہر ہے جس نے سب سے پہلے استعمال شدہ پلاسٹک کو استعمال میں لاتے ہوئے 2004 میں لگ بھگ 1000 کلومیٹر طویل پلاسٹک روڈ کی تعمیر کا آغاز کیا۔ اسی طرح بھارتی شہر پُونے، اندور اور سُورت میں بھی استعمال شدہ پلاسٹک کو استعمال کرتے ہوئے پلاسٹک روڈ تعمیر کی جا چکی ہیں۔

برطانیہ نے جنوری 2019 میں 16 لاکھ برطانوی پاؤنڈ کی لاگت سے پلاسٹک روڈ کی تعمیر کا سلسلہ شروع کیا۔ اسی طرح پاکستان نے بھی گذشتہ برس کے آخر میں اس ٹیکنالوجی سے استفادہ کیا۔ اسی طرح امریکہ نے لاس ویگاس میں 2 کروڑ 40 لاکھ امریکی ڈالر کی لاگت سے برقی قمقموں سے مزین پلاسٹک سے بنی شاہراہ کی تعمیر کی۔

پاکستان میں پلاسٹک سے بنی ہوئی سڑک آخر ہے کہاں؟

جی ہاں! پاکستان بھی اب ان ممالک کی فہرست میں شامل ہو گیا ہے جو ضائع اور استعمال شدہ پلاسٹک کو دوبارہ سے استعمال میں لاتے ہوئے تعمیر شدہ سڑک سے استفادہ کر رہے ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ آخر یہ سڑک ہے کہاں؟ پاکستان میں اس جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے تجرباتی بنیادوں پر پہلی سڑک گذشتہ برس وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں تعمیر کی گئی۔

پاکستان کی پہلی پلاسٹک روڈ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے پوش سیکٹر ایف-10  سے ملحقہ ایف نائن پارک میں تعمیر کی گئی ہے۔ پاکستان سالانہ بنیادوں پر 55 ارب پلاسٹک سے بنے شاپنگ بیگ تیار کرتا ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں 3 کروڑ ٹن سالڈ ویسٹ ہر سال ملک میں دستیاب ہوتا ہے۔

بلاشبہ پاکستان میں اتنی بڑی تعداد میں اس فالتو پلاسٹک کو ری سائیکل کرنا ممکن اور منافع بخش بھی نہیں۔ پولیمرز جیسا کہ ربڑ، تھرموسیٹس اور ایسا کچرا جس میں پلاسٹک بھی شامل ہو پر ری سائیکل کرنے والے سیکٹرز کی جانب سے آرام سے یہ لکھ دیا جاتا ہے کہ یہ دوبارہ قابل استعمال نہیں بنایا جا سکتا۔

لیکن پلاسٹک کی اشیا دنیا بھر میں خطرناک حد تک بڑھ رہی ہیں۔ کیا ہی خوب ہو کہ اگر یہ فالتو پلاسٹک اس سماج کے لیے کچھ کارآمد چیز بنا سکے۔

مزید خبروں اور اپڈیٹس کیلئے وزٹ کیجئے گرانہ بلاگ۔

About Zeeshan Javaid

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے