بجلی کی فی یونٹ قیمت میں ماہانہ بنیادوں پر 3.50 روپے اضافہ کر دیا گیا

اسلام آباد: وفاقی کابینہ نے بجلی کی فی یونٹ قیمت میں ماہانہ بنیادوں پر 3.50 روپے کا اضافہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ رواں سال نومبر کے بعد سے بجلی کی قیمت میں کمی واقع ہونا شروع ہو جائے گی جب کہ 5 بڑے برآمدی شعبوں کو ترجیحی بنیادوں پر کم قیمت پر گیس اور بجلی فراہم کی جائے گی۔

وزارتِ توانائی حکام کا کہنا ہے کہ صنعتی فیڈرز کو 24 گھنٹے بجلی کی فراہمی جاری رہے گی جب کہ غریب صارفین پر بجلی کی قیمت میں اضافہ کا اثر نہیں پڑے گا۔

وفاقی وزیرِ توانائی خرم دستگیر نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 26 جولائی سے بجلی کی قیمت میں اضافہ 3 روپے 50 پیسے فی یونٹ اور آئندہ ماہ سے مزید 3 روپے 50 فی یونٹ ہوگا جبکہ اکتوبر میں بجلی کی قیمت 90 پیسے فی یونٹ بڑھے گی۔

انہوں نے بتایا کہ نومبر کے بعد بجلی کی قیمت میں کمی شروع ہو جائے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ تمام اقدامات بجلی کے واجبات کی وصولی اور لائن لاسز میں کمی کیلئے کیے جا رہے ہیں۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ وفاقی کابینہ نے فیصلہ کیا ہے کہ ملک میں جہاں بھی ڈیڈیکیٹڈ صنعتی فیڈرز ہیں وہاں بجلی کی فراہمی 24 گھنٹے جاری رہے گی تاہم مکس فیڈرز پر کوشش کی جائے گی کہ بجلی کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ لوگوں کے روزگار کا تسلسل جاری رکھتے ہوئے معاشی سرگرمیوں پر کم سے کم اثرات مرتب ہوں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان سمیت دنیا بھر میں ایندھن اور اجناس کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔ کابینہ نے یہ فیصلہ بھی کیا ہے کہ 5 بڑے برآمدی شعبوں کو ترجیحی بنیاد پر کم قیمت پر بجلی اور گیس کی فراہمی ممکن بنائی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ وفاقی کابینہ نے بجلی کی قیمت میں اضافہ کی منظوری کے ساتھ وزارتِ توانائی کو یہ ہدایات جاری کی ہیں کہ ایسے تمام غریب صارفین پر اس اضافے کا اثر نہ پڑے جو 1 سے 200 یونٹس تک بجلی استعمال کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ رواں ماہ کے آغاز سے 1100 میگاواٹ اضافی بجلی سسٹم میں شامل کی گئی ہے جبکہ جولائی میں بارشوں سے تربیلا بجلی گھر کی پیداوار بھی 4200 میگاواٹ تک پہنچ گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ آئندہ تین ماہ بجلی کے صارفین کے لیے مشکل ہیں لیکن نومبر کے بعد بجلی کی قیمت میں کمی شروع ہو جائے گی۔ جون کے لیے اوسط ٹیرف 21 روپے 50 پیسے فی یونٹ تھا تاہم رواں سال کے آخر تک اس میں اضافہ ہو گا اور پھر مرحلہ وار اس میں کمی واقع ہونا شروع ہو جائے گی۔

وزارتِ توانائی کے اعداد و شمار کے مطابق گردشی قرضہ 31 مارچ کو 2467 ارب روپے تھا جس میں اب 214 ارب روپے کی کمی ریکارڈ کی گئی ہے اور گذشتہ مالی سال کے اختتام پر گردشی قرضہ کم ہو کر 2253 ارب روپے رہ گیا ہے۔

وفاقی وزیر خرم دستگیر کا کہنا تھا کہ 1320 میگاواٹ کا شنگھائی الیکٹرک پاور پلانٹ ، 1320 میگاواٹ کا جامشورو پاور پلانٹ، 1200 میگاواٹ کا تریمو پاور پلانٹ اور 720 میگاواٹ کے کروٹ پن بجلی منصوبوں کی تکمیل سابق دورِ حکومت میں تاخیر کا شکار رہی۔

انہوں نے کہا کہ ملک میں نیا قانون بنایا جارہا ہے جس کے تحت حکومتوں کے درمیان کمرشل معاہدوں کے معاملات میں نظم و ضبط پیدا ہو گا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ بجلی کی پیداوار بڑھانے کیلئے آبی وسائل، شمسی توانائی، تھرکول، ہوا اور مقامی نیوکلیئر ذرائع پر انحصار کیا جائے گا۔ اس سے نا صرف ایندھن پر آنے والی لاگت میں کمی واقع ہو گی بلکہ عوام کو سستی بجلی فراہم کرنے میں بھی مدد ملے گی۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ سال 2023 کے آغاز سے جدید ڈیجیٹل میٹر نصب کیے جائیں گے تاکہ بجلی کے نقصانات میں کمی اور واجبات کی وصولی کو یقینی بنایا جا سکے۔

مزید خبروں اور اپڈیٹس کیلئے وزٹ کیجئے گرانہ بلاگ۔

About Zeeshan Javaid

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔