لاہور کی جدت کے لیے راوی ریور اربن ڈویلپمنٹ پراجیکٹ کا آغاز

اسلام آباد: راوی ریور اربن ڈیویلپمنٹ پراجیکٹ کا آغاز کردیا گیا ہے جس کا مقصد لاہور کو جدید شہری تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا ہے۔

46 کلومیٹر دریا کے منصوبے، کمپلیکس کے قیام اور سڑکوں کے جال سے لاہور دنیا میں ایک جدید شہر کے طور پر  سامنے آئے گا۔

صوبائی وزیرِ ہاؤسنگ اینڈ اربن ڈیویلپمنٹ میاں محمود الرشید کا کہنا ہے کہ یہ پراجیکٹ شہر اور گردونواح کے لوگوں، ماحول اور سرمایہ کاروں کے لیے فائدہ مند ثابت ہوگا۔

اُن کا کہنا تھا کہ یہ پراجیکٹ وزیرِ اعظم کے نیا پاکستان ویژن کا عکاس ہے اور اُسی کے مطابق شروع کیا گیا ہے۔ 

بقول ان کے یہ پراجیکٹ تین مرحلوں میں تعمیر کیا جائے گا۔ پہلے مرحلے میں 46 کلومیٹر طویل اور 3280 فٹ چوڑائی کے ایک دریا کے منصوبے کی تکمیل کی جائیگی، تین بیراج، چھے واٹر ویسٹ ٹریٹمنٹ پلانٹ اور ایک اربن جنگل بھی ابتدائی تین سال میں بنائے جائیں گے۔

دریا سے 271 ارب لیٹر پانی ملےگا جس سے 2045 تک لاہور کی پانی کی ضروریات پوری ہوں گی۔

منسٹر برائے ہاؤسنگ کا کہنا تھا کہ اس پراجیکٹ کے لیے کُل مختص زمین ایک لاکھ 3 ہزار 271 ایکڑ ہے جس میں ویسٹ واٹر، دریا کے پانی کے ٹریٹمنٹ پلانٹس، سڑکوں کا نیٹ ورک اور 12 نئے شہروں کا قیام ہوگا۔

اِن شہروں میں میڈیکل سٹی، ریزیڈنشل سٹی، ڈاؤن ٹاؤن، کمرشل حب اور اربن فارمز شامل ہوں گے۔

دوسرے مرحلے میں انوویشن سٹی بنائی جائے گی جو کہ 1370 ایکڑ پر قیام میں لائی جائے گی، جب کہ تیسرے مرحلے میں سپورٹس سٹی، نالج سٹی اور ایکو سٹی کا قیام 14 ہزار ایکڑ پر کیا جائے گا۔

اُن کا کہنا ہے کہ پراجیکٹ کی لاگت 2 کھرب روپے ہوگی جسے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ، جوائنٹ وینچر، گرانٹس اور پرائیویٹ فنانسنگ کے ذریعے پورا کیا جائے گا۔

حکومت کا مختص کردہ جگہ پر 6 ملین درخت لگانے کا بھی ارادہ ہے تاکہ شہر کو موسمیاتی تبدیلیوں سے محفوظ بنایا جا سکے۔

مزید خبروں اور اپڈیٹس کے لیے وزٹ کیجیے  گرانا بلاگ۔

About Maham Tahir

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔