ریئل اسٹیٹ ایجنٹس کی ایف بی آر  کے ساتھ رجسٹریشن لازمی قرار

اسلام آباد: حکومت نے رئیل اسٹیٹ ایجنٹس کی فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) سے رجسٹریشن لازمی قرار دے دی ہے۔

ایف بی آر سے جاری اعلامیے کے مطابق رئیل اسٹیٹ ایجنٹس کی ایف بی آر سے رجسٹریشن لازمی قرار دے دی گئی ہے جس کے بعد کوئی بھی سرکاری یا نجی ڈیویلپمنٹ اتھارٹی غیر رجسٹرڈ ایجنٹ سے بزنس نہیں کر سکے گی۔

ادھرفیڈرل بورڈ آف ریونیو نے تمام غیر محرک جائیدادوں کے مالیاتی تعین کی شرح میں 25 سے 110 فیصد تک کا اضافہ کر دیا ہے۔ ایف بی آر کی جانب سے پراپرٹی کے ویلیوایشن ریٹ میں اضافے کے بعد جائیداد کی منتقلی کی فیس میں بھی نمایاں اضافہ ہو چکا ہے۔

ایف بی آر کے مطابق مذکورہ اقدام کا بنیادی مقصد رہائشی، کمرشل پراپرٹی کے علاوہ اپارٹمنٹس اور فلیٹس کی مد میں زیادہ سے زیادہ ٹیکس اکھٹا کرنا ہے۔

اعلامیہ کے مطابق بغیر رجسٹریشن کے کسی بھی قسم کی غیر منقولہ پراپرٹی کی ٹرانسفر یا رجسٹریشن بھی نہیں ہو سکے گی۔

نوٹیفیکشن کے مطابق یہ شرط تمام ہاؤسنگ اتھارٹیز اور کارپوریٹ ہاؤسنگ سوسائٹیز پر لاگو ہوگی جبکہ اس کا اطلاق رہائشی یا کمرشل مقاصد کے لیے ڈیویلپمنٹ اسکیموں پر بھی ہوگا۔

ایف بی آر کا کہنا ہے کہ خلاف ورزی کی صورت میں ایسے تمام افراد اور کاروباری اداروں کے خلاف منی لانڈرنگ، ٹیرر فنانسنگ کے قوانین کے تحت کاروائی ہوگی۔

ایف بی آر نے کیپٹل ویلیو ٹیکس کا دائرہ کار 20 شہروں سے بڑھا کر اب 40 شہروں تک کر دیا ہے۔ ان شہروں میں ایبٹ آباد، اٹک، بہاولپور، بہاولنگر، چکوال، ڈیرہ اسماعیل خان، ڈی جی خان، فیصل آباد، گھوٹکی، گجرانوالہ، گجرات، گوادر، حافظ آباد، حیدرآباد، اسلام آباد، جھنگ، جہلم، کراچی، قصور، خوشاب، لاہور، لاڑکانہ، لسبیلہ، منڈی بہاؤالدین، مانسہرہ، مردان، میرپورخاص، ملتان، ننکانہ، نارووال، پشاور، کوئٹہ، رحیم یار خان، راولپنڈی، ساہیوال، سرگودھا، شیخوپورہ، سیالکوٹ، سکھر اور ٹوبہ ٹیک سنگھ شامل ہیں۔

مزید خبروں اور اپڈیٹس کیلئے وزٹ کیجئے گرانہ بلاگ۔

About Zeeshan Javaid

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے