گذشتہ مالی سال میں ایس ای سی پی نے ریئل اسٹیٹ سمیت مجموعی طور پر 26500 نئی کمپنیاں رجسٹرڈ کیں

اسلام آباد: گذشتہ مالی سال کے دوران سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن پاکستان (ایس ای سی پی) نے ریئل اسٹیٹ سمیت مجموعی طور پر 26500 نئی کمپنیاں رجسٹرڈ کیں جو کہ اب تک رجسٹرڈ ہونے والی کمپنیوں کی کُل تعداد کا 15 فیصد ہے۔

ملک میں جاری معاشی بحران، مہنگائی کی بڑھتی ہوئی لہر اور روپے کی قدر میں عدم استحکام کے باوجود کاروباری سرگرمیوں بالخصوص ریئل اسٹیٹ سیکٹر میں ترقی دیکھی گئی۔

گذشتہ مالی سال کے دوران ایس ای سی پی کے ساتھ سب سے زیادہ ریئل اسٹیٹ سیکٹر اور تعمیراتی شعبے سے وابستہ 4791 کمپنیاں رجسٹرڈ ہوئیں جو کہ معیشت کے لیے خوش اآئیند ہے۔

ایس ای سی پی کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق رجسٹرڈ کمپنیوں کی کُل تعداد 1 لاکھ 72 ہزار 206 سے تجاویز کر گئی ہے۔

ایس سی سی پی کے مطابق مذکورہ عرصے کے دوران سب سے زیادہ کمپنیاں رئیل اسٹیٹ کے شعبہ میں رجسٹر ہوئیں جبکہ انفارمیشن ٹیکنالوجی کا شعبہ دوسرے اور تجارتی شعبہ تیسرے نمبر پر رہا۔

گذشتہ مالی سال میں رجسٹر ہونے والی کمپنیوں میں 64 فیصد کمپنیاں پرائیویٹ لمیٹڈ، 33 فیصد سنگل ممبر کمپنیاں جبکہ تین فیصد کمپنیاں ایل ایل پی، غیر ملکی کمپنیاں اور غیر منافع بخش ترقیاتی ادارے رجسٹرڈ ہوئے۔

رجسٹریشن کے اس عمل میں 99 فیصد کمپنیاں آن لائن رجسٹرڈ ہوئیں۔ آن لائن سہولت کو استعمال کرتے ہوئے 1,640 کمپنیاں بیرون ملک سے رجسٹر ہوئیں۔

مذکورہ عرصے میں رجسٹرڈ ہونے والی کمپنیوں کا کُل سرمایے کا تخمینہ 42.4 ارب روپے لگایا گیا ہے۔ اس عرصے میں 672 کمپنیوں میں بیرونِ ممالک آسٹریلیا، ازربائیجان، بحرین، بنگلہ دیش، بیلجئیم، جرمنی، کینیڈا، ڈنمارک، جاپان، اٹلی، متحدہ عرب امارات، برطانیہ، امریکا، یمن، رُوس، کویت، فرانس، مصر اور دیگر ممالک سے سرمایہ کاری کی گئی۔

ایس ای سی پی کے اعداد و شمار کے مطابق رئیل سٹیٹ اور کنسٹرکشن کے شعبے میں 4,791 کمپنیاں، انفارمیشن ٹیکنالوجی میں 3,760، ٹریڈنگ کے شعبے میں 3,534 اور خدمات کے شعبے میں 2,408 کمپنیاں رجسٹرڈ ہوئیں۔

ای کامرس کے شعبے میں 1,038، تعلیم کے شعبے میں 962 ، خوراک و مشروبات میں 937، سیاحت میں 790، ٹیکسٹائل میں 701 اور مارکیٹنگ اینڈ ایڈورٹائزنگ کے شعبے میں 671 نئی کمپنیاں رجسٹرڈ ہوئیں۔

ایس ای سی پی نے کمپنیوں کی رجسٹریشن کے عمل کو سہل بنانے کے لئے اہم اصلاحات کرتے ہوئے رجسٹریشن کے عمل کو مکمل طور پر آن لائن کر دیا ہے جبکہ کمپنی کی رجسٹریشن کا سرٹیفیکیٹ بھی ڈیجیٹل کر دیا گیا ہے۔

اس سہولت کو استعمال کرتے ہوئے اب دنیا کے کسی بھی حصے سے ایس ای سی پی کے دفتر میں آئے بغیر ہی کمپنی آن لائن رجسٹرڈ کی جا سکتی ہے۔

علاوہ ازیں کمپنیوں کو رجسٹریشن کے وقت ہی صوبائی ریونیو کے محکموں سے رجسٹریشن کی سہولت فراہم کرنے کے پیشِ نظر ایس ای سی پی کی ای سروسز کو صوبائی ریوینو کے محکموں سے منسلک کر دیا گیا ہے جبکہ کمپنی کی رجسٹریشن ہوتے ہی کمپنی کو ٹیکس نمبر بھی آن لائن ہی جاری کر دیا جاتا ہے۔

رجسٹریشن کے بعد کمپنیوں کو کارپوریٹ اکاوئنٹ کھولنے میں سہولت فراہم کرنے کے لئے بینکوں کے لئے آن لائن پورٹل بھی تشکیل دیا گیا ہے۔

کاروباری افراد  اور سرمایہ کاروں کو رجسٹریشن میں معاونت کی فراہمی کے لئے ایس ای سی پی کی جانب سے واٹس ایپ ہیلپ لائن شروع کی گئی ہے جہاں فوری طور پر معاونت اور معلومات فراہم کی جاتی ہیں۔

ایس ای سی پی کی ای سروسز کی ایف بی آر اور دیگر صوبائی محکموں کے ساتھ منسلک ہونے کے باعث 25,042 کمپنیاں ایف بی آر کے ساتھ رجسٹرڈ ہوئیں جبکہ 539 کمپنیاں ای او بی آئی انسٹیٹیوٹ اور 234 کمپنیاں مختلف صوبائی ریونیو کے محکموں کے ساتھ رجسٹرڈ ہوئیں ہیں۔

مزید خبروں اور اپڈیٹس کیلئے وزٹ کیجئے گرانہ بلاگ۔

About Zeeshan Javaid

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔