جدید کاروباری ماڈلز بنانے میں پرائیویٹ فنڈ انڈسٹری کا کردار اہم ہے۔ ایس ای سی پی

اسلام آباد: سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) نے پاکستان کے پرائیویٹ فنڈ انڈسٹری کے حوالے سے ایک جامع ڈائگناسٹک رپورٹ جاری کی ہے جس میں انڈسٹری کی ترقی میں حائل رکاوٹوں اور مسائل کا تفصیلی جائزہ لینے کے ساتھ ساتھ فنڈ انڈسٹری کی ترقی، روزگار کے مواقع کی فراہمی اور حکومتی محصولات میں اضافے کے لئے سفارشات بھی پیش کی گئیں ہیں۔

جائزہ رپورٹ میں فنڈ انڈسٹری جس میں پرائیویٹ ایکویٹی اور ونچر کپیٹل سمیت متبادل فنڈز شامل ہیں سیکٹر کا تفصیلی جائزہ لیا گیا ہے ۔

ڈائگناسٹک رپورٹ میں فنڈ انڈسٹری کے فروغ کے لئے شامل سفارشات میں تجویز کیا گیا ہے کہ ٹیکس کے قانون میں فنڈ انڈسٹری کی تعریف و تشریح شامل کی جائے تاکہ فنڈ انڈسٹری بھی کپیٹل گین ٹیکس کی چھوٹ سے مستفید ہو سکے۔

رپورٹ میں فنڈ کے سرمایہ کاروں میں اضافے کے لئے بھی تجاویز دی گئیں ہیں۔

جائزہ رپورٹ میں پرائیویٹ فنڈز کے قیام کو سہل بنانے کے لیے تجویز کیا گیا ہے کہ پہلے سے موجود ٹرسٹ اسٹکچر کے علاوہ لمیٹڈ لائیبیلٹی پارٹنرشپ (ایل ایل پی) کے اسٹکچر میں بھی فنڈز قائم کئے جائیں۔

رپورٹ میں فنڈز کے ٹرسٹی اور نگران کے کردار کا بھی دوبارہ سے جائزہ لیا گیا ہے۔

ایس ای سی پی کے اعداد و شمار کے مطابق گ‍شتہ مالی سال کے اختتام پر پاکستان کے پرائیویٹ ایکویٹی اور ونچر کپیٹل فنڈ کا کل حجم 10 ارب 99 کروڑ روپے ریکارڈ کیا گیا جو کہ 30 جون 2021ء کو 6 ارب 69 کروڑ روپے تھا۔

اعداد و شمار کے مطابق مذکورہ سیکٹر کے مجموعی حجم میں 64 فیصد اضافہ ہوا۔ تاہم اس عرصے میں فنڈز کی تعداد پانچ ہی رہی۔

ایس ای سی پی کے چئیرمین عامر خان نے رپورٹ میں شامل اپنے پیغام میں کہا ہے کہ پاکستان کی 60 فیصد آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے اور نوجوانوں کے کاروباری آئیڈیاز کو کمرشل کرنے کا راستہ فراہم کرنے اور ان کے جدید کاروباری ماڈلز کو فروغ دینے کے لئے پرائیویٹ فنڈ انڈسٹری اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔

ایس ای سی پی کی یہ جائزہ رپورٹ انڈسٹری کے تمام اہم شراکت داروں کی مشاورت سے مرتب کی گئی جبکہ فنڈز کے ڈائگناسٹک رپورٹ ایس ای سی پی کی ویب سائٹ پر دستیاب ہے۔

مزید خبروں اور اپڈیٹس کیلئے وزٹ کیجئے گرانہ بلاگ۔

About Zeeshan Javaid

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔