لاہور کا شالیمار باغ مغلیہ فنِ تعمیر کی ایک لازوال داستان

WhatsApp Image 2022-03-09 at 19.02.56

شالیمار باغ کے نام سے متعلق کئی باتیں مشہور ہیں۔ تاریخ کے جھروکوں میں یہ بات زباں زدِ عام ہے کہ مغل بادشاہ شاہ جہاں نے اس باغ کا نام کچھ اور رکھا تھا تاہم لوگوں نے اسے شالیمار باغ کے نام سے پکارنا شروع کر دیا۔ تاریخ دان بتاتے ہیں کہ شروع میں اس باغ کا نام شعلہِ ماہ تھا جس کے معنی ہیں چاند کی روشنی۔ اس باغ کی خوبصورتی کی وجہ سے اسے چاند کا شعلہ کہا جاتا تھا۔ بعد ازاں اس باغ کا نام شعلہِ ماہ سے بگڑ کر شالیمار باغ کے نام سے پکارا جانے لگا۔ بعض تاریخ دانوں کے خیال میں یہ نام خود مغل بادشاہ شاہ جہاں نے تجویز کیا تھا۔

آیئے! آج آپ کو مشہور شالیمار باغ کی سیر کرواتے ہیں۔

لاہور کا شالیمار باغ مغلیہ فنِ تعمیر کی ایک لازوال داستان

مغلیہ سلطنت کی عظیم یادگار شالیمار باغ، تاریخ کے جھروکوں میں

شالیمار باغ پاکستان کے صوبہ پنجاب کے دارالخلافہ اور تاریخی شہر لاہور میں واقع ہے۔ مغل بادشاہ شاہ جہاں نے جب لاہور میں دربار لگایا تو علی مردان خان نے انہیں بتایا کہ اُس کے پاس ایک ایسا شخص موجود ہے جو نہر بنانے میں بڑی مہارت رکھتا ہے۔ شاہ جہاں نے خوش ہو کر حکم دیا کہ دریائے راوی سے ایک نہر نکال کر لاہور کے پاس سے گذاری جائے۔

شاہ جہاں پھر جب لاہور آئے تو نہر مکمل ہوچکی تھی۔ بادشاہ نے حکم دیا کہ اس نہر کے کنارے ایک وسیع و عریض اور بہت خوبصورت باغ تعمیر کیا جائے اور اس باغ میں بارہ دری، شاہی غسل خانے، فوارے اور پھل دار درخت لگائے جائیں۔ بادشاہ نے اِس کام کے لیے خلیل اللہ خان کو معاونِ خصوصی مقرر کیا۔ لہٰذا خلیل اللہ خان نے سلطنت کے کئی اور درباریوں کو ساتھ لگا کر اس باغ کی تعمیر شروع کروا دی۔

باغ کے لیے درختوں کے پودے قندھار اور کابل سے منگوائے گئے۔ شالیمار باغ جو 80 ایکڑ اراضی پر پھیلا ہوا ہے اور اس کا سنگِ بنیاد 1637ء میں رکھا گیا اور اِس باغ کی تعمیر 1641ء میں مکمل ہوئی۔

لاہور کا شالیمار باغ مغلیہ فنِ تعمیر کی ایک لازوال داستان

شالیمار باغ کا محلِ وقوع اور اس میں تعمیر کردہ شاہی یادگاریں

شالیمار باغ اندرون شہر لاہور سے تقریباً 5 کلومیٹر کی مسافت پر جی ٹی روڈ جسے جرنیلی سڑک بھی کہا جاتا تھا، باغبانپورہ کے علاقے میں واقع ہے۔ باغ میں داخلے کیلئے دو بڑے دروازے ہیں جبکہ دو کونوں میں بلند مینار ہیں۔ باغ جنوب سے مشرق کی سِمت تین خطوں پر تیار کیا گیا ہے اور یہ تینوں خطے الگ الگ باغ ہیں۔

ان کے نام فرح بخش، فیض بخش اور حیات بخش ہیں۔ یہ ایک دوسرے سے تقریباً بارہ فٹ بلندی پر ہیں۔ نیچے اترنے کیلئے خوبصورت سیڑھیاں بنی ہوئی ہیں۔ پہلے درجے پر 105، دوسرے پر 152 اور تیسرے درجے پر 153 فوارے تعمیر کیے گئے ہیں۔ یہ فوارے باغ میں موسمِ گرما میں گرمی کی شدت کو کم کرنے کیلئے لگائے گئے تھے۔ اس باغ میں سنگِ مرمر کی خوبصورت بارہ دری بنائی گئی ہیں۔ اُس زمانے کے معماروں کی مہارت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ باغ میں پانی کے بہاؤ کے نظام کو آج تک پوری طرح سمجھا ہی نہیں جا سکا۔

تاریخی باغ میں شاہی حمام اور بارہ دری مغلیہ دور کے طرزِ تعمیر کی عکاس

باغ میں تعمیر شدہ شاہی حمام کے تین حصے ہیں، ایک حصے میں دو فوارے اور دوسرے حصے میں حوض تھا۔ سنگِ مرمر سے مزین بارہ دریوں میں بیٹھ کر شاہی خاندان برسات کے موسم میں بارش کا نظارہ کیا کرتا تھا۔ چراغ رکھنے کیلئے سنگِ مرمر کے کئی طاقچے بنوائے گئے تھے۔ جب اِن میں چراغ جلائے جاتے تو حوض میں گرنے والا پانی بارش کا سماں پیدا کر دیتا تھا۔

باغ کے اُس حصے میں، جسے حیات بخش کہا جاتا ہے، سنگِ مرمر کا ایک خوبصورت تخت بنوایا گیا تھا۔ مغل بادشاہ شاہ جہاں اُس تخت پر بیٹھ کر اپنا دربار لگایا کرتے تھے۔ قریب ہی سنگِ مرمر کی ایک آبشار بنائی گئی ہے جہاں سے پانی کے نیچے کی طرف بہنے کا نظارا بڑا ہی دلکش ہوتا ہے۔

لاہور کا شالیمار باغ مغلیہ فنِ تعمیر کی ایک لازوال داستان

شالیمار باغ میں سربراہانِ مملکت کی مہمان نوازی کی روایت انگریز دور سے رائج ہے

معزز مہمانوں کو شالیمار باغ میں دعوت دینے کی رسم انگریز حکومت کے زمانے میں بھی رائج رہی۔ چنانچہ 1876ء میں شہنشاہ ایڈورڈ ہفتم جو اُس وقت پرنس آف ویلز یعنی ولی عہدِ سلطنت تھے، برصغیر کی سیاحت کے سلسلے میں لاہور آئے تو اُن کے اعزاز میں پنجاب کے گورنر نے شالیمار باغ میں رات کے وقت ایک عظیم الشان دعوت کا اہتمام کیا۔ اِس موقع پر باغ میں اس قدر چراغاں کیا گیا کہ رات کے اآخری پہر میں دن کا گمان ہونے لگا۔ 1907ء میں شاہ افغانستان امیر حبیب اللہ خان کو قیامِ لاہور کے دوران یہاں کے گورنر نے شالیمار باغ میں شاندار دعوت دی تھی۔

شہنشاہ ایران 1950ء میں جب پاکستان تشریف لائے تو شالیمار باغ کو خوب سجایا گیا۔ اِس موقع پر شالیمار باغ کا حُسن اپنے عروج پر تھا۔ اس طرح برطانیہ کی تاجدار ملکہ الزبتھ، تُرکی کے سابق صدر جلال بابا، چین کے وزیرِ اعظم چو این لائی، انڈونیشیا کے صدر ڈاکٹر احمد سوئیکارنو، امریکہ کے سابق صدر جان ایف کینیڈی، سعودی عرب کے سابق فرمانروا شاہ سعود بن عبد العزیز اور چین کے سابق صدر لیو ستاؤچی بھی پاکستان تشریف لائے تو اِن سب کا شالیمار باغ میں شاندار استقبال کیا گیا۔ اِن میں سے ہر ایک سربراہِ مملکت نے شالیمار باغ کی خوبصورتی اور لاہور کے شہریوں کی مہمان نواز کو خوب سراہا۔

لاہور کا شالیمار باغ مغلیہ فنِ تعمیر کی ایک لازوال داستان

تاریخی شہر لاہور کے ماتھے کا جھومر شالیمار باغ اور جشنِ بہاراں

شالیمار باغ اپنی خوبصورتی کی وجہ سے سیاحوں کی دلچسپی کا مرکز ہے۔ اگر آپ کو موسمِ بہار میں لاہور کی سیر کا موقع ملے تو آپ شالیمار باغ کے حُسن کے ساتھ میلہ چراغاں سے بھی لطف اندوز ہو سکتے ہیں۔

باغ کی سیر کرنے کے لیے لوگ دور دراز سے آتے ہیں۔ موسمِ بہار کے شروع میں یہاں میلہ چراغاں لگتا ہے جو پنجاب کا سب سے بڑا میلہ ہے شہر اور اردگرد کے دیہات سے لاکھوں آدمی اس میلے میں شامل ہونے کے لیے گاتے، بجاتے اور ناچتے ہوئے آتے ہیں یہاں سینکڑوں چھوٹے بڑے شامیانے لگتے ہیں جن کے اندر اور باہر لوگ اپنے اپنے رنگ میں خوشیاں مناتے ہیں۔

یہ باغ مغل بادشاہوں کی عظمت کی منہ بولتی یادگار ہے۔ 1981ء میں اقوامِ متحدہ کے ادارے یونیسکو نے شالیمار باغ کو عالمی ثقافتی ورثہ قرار دیا۔ اِس کا شمار دنیا کے خوبصورت اور عظیم الشان باغوں میں ہوتا ہے۔ یونسیکو نے ثقافتی ورثے کی بقاء اور تحفظ کے لیے پاکستان میں تعمیر شدہ مغلیہ سلطنت کی اس عظیم یادگار شالیمار باغ کے لیے سالانہ گرانٹ مختص کی ہوئی ہے۔

مزید خبروں اور اپڈیٹس کیلئے وزٹ کیجئے گرانہ بلاگ۔