معاشرے کے پسے ہوئے طبقات کی زندگیوں میں بدلاؤ اور نادار بچوں کو معیاری تعلیم کی فراہمی – تعمیر سے تعلیم – ہمارا یقین دل سے

WhatsApp Image 2022-06-06 at 3.26.38 PM

بنیادی طور پر کسی بھی کام میں کامیابی کا انحصار آپ کے پختہ ارادے اور غیر متزلزل یقین پر ہوتا ہے۔ اسی یقین مگر دل سے کے تحت پاکستان کی اعلیٰ شہرت کے حامل بلڈرز اینڈ ڈیویلپرز امارات گروپ اور ریئل اسٹیٹ مارکیٹنگ کمپنی گرانہ ڈاٹ کام نے جدت، معیار، شفافیت اور شاندار طرزِ تعمیر کے اصُولوں کو اپناتے ہوئے ریئل اسٹیٹ کی دنیا میں ایک انقلاب برپا کر دیا ہے۔

ریئل اسٹیٹ کے کاروبار میں محفوظ سرمایہ کاری کے عزم کو یقینی بناتے ہوئے امارات گروپ اور گرانہ ڈاٹ کام جہاں تعمیراتی شعبے میں کامیابی کی لازوال داستانیں رقم کر رہے ہیں وہیں کسی بھی طرح سے اپنی سماجی ذمہ داریوں سے غافل نہیں ہیں۔

اپنی سماجی ذمہ داریوں کو بطریقِ احسن سرانجام دیتے ہوئے گذشتہ کچھ عرصہ سے امارات گروپ اور گرانہ ڈاٹ کام معاشرے کے پسماندہ طبقات میں بچوں کی معیاری تعلیم اور ان طبقات کی زندگیوں میں بدلاؤ لانے کے لیے ‘تعمیر سے تعلیم’ کے نام سے ایک ترقیاتی منصوبے پر کام کر رہے ہیں۔

اس مہم کا باقاعدہ آغاز وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں واقع محرآبادی نامی کچی آبادی کے ایک اسکول میں لکڑی کے خوبصورت فرنیچر کی فراہمی سے کیا گیا۔

اس کے پیچھے صرف ایک ہی مقصد کار فرما تھا کہ انتہائی پسماندہ علاقوں میں واقع سکولوں میں زیرِ تعلیم طالب علموں کے لیے باوقار طریقے سے تعلیم کا حصول ممکن بنایا جا سکے۔

سماجی ذمہ داریوں سے متعلق اس منصوبے ‘تعمیر سے تعلیم’ کے انتظامی امُور کی سربراہ ضحٰی جاوید نے جذبہِ تعمیر کے تحت اپنی ٹیم کے ساتھ مل کر پاکستان میں پہلی بار ایک ایسا نظریہ متعارف کروایا ہے جس کے تحت ریئل اسٹیٹ منصوبوں کی تعمیر کے دوران بچ جانے والے ناقابلِ استعمال مٹیریل کو استعمال میں لاتے ہوئے پسماندہ طبقات کی زندگیوں میں بدلاؤ اور بالخصوص تعلیمی میدان میں نادار بچوں کو معیاری تعلیم کی فراہمی اور انہیں باوقار شہری بنانے میں فعال کردار ادا کیا جا سکتا ہے۔

بلاشبہ سماجی رابطوں کے مختلف پلیٹ فارمز جیسے فیس بُک، لنکڈ اِن، ٹویٹر اور انسٹا گرام پر جہاں امارات گروپ کے زیر انتظام ‘تعمیر سے تعلیم’ پراجیکٹ کے خوب چرچے ہیں وہیں اس پروگرام کی روحِ رواں ضحٰی جاوید نے بین الاقوامی سطح پر امارات گروپ کے اس اقدام کو ایک نئی پہچان دینے اور بالخصوص تعمیراتی شعبے سے منسلک کاروباری اداروں کی توجہ اس کارِخیر کی جانب مبذول کروانے کے لیے ایک بین الاقوامی ویب سائٹ چینج ڈاٹ او آر جی پر ایک پٹیشن دائر کرتے ہوئے پاکستان سمیت دنیا بھر سے اس پٹیشن کے حق میں ووٹ کی اپیل کر رکھی ہے۔

ضحٰی جاوید کی جانب سے دائر پٹیشن کے پیچھے ایک کہانی کار فرما ہے۔ ہم چاہیں گے کہ وہ کہانی آپ کے بھی گوش گزار کی جائے تاکہ آپ پسماندہ طبقات سے جڑے ان ننھے اور سچے کرداروں سمیت ایسے کئی اور بچوں کو تعلیم کی فراہمی یقینی بنانے کی اس جدوجہد میں اپنا کردار ادا کر سکیں۔ اس کا بہترین طریقہ ایک تو یہ ہے کہ آپ اوپر بتائی گئی ویب سائٹ پر جا کر اس پٹیشن کو ووٹ کریں۔

دو ننھے پھولوں کی کہانی

بلال اور زین اسلام آباد میں واقع محرآبادی نامی کچی آبادی میں واقع بیٹھک اسکول کے طالب علم ہیں۔ بیٹھک اسکول نیٹ ورک بنیادی طور پر کچی آبادیوں میں نادار بچوں کو مفت تعلیم فراہم کرتا ہے۔ بلال اور زین اُن ہزاروں بچوں میں سے ہیں جو ملک گیر اس سکول نیٹ ورک سے مستفید ہو رہے ہیں۔

بلال چوتھی جماعت کا طالب علم ہے جو مسلسل اپنی کلاس میں پہلی پوزیشن حاصل کرتا آ رہا ہے۔ جبکہ ننھا زین دوسری جماعت کا طالبِ علم ہے جو کہ شرارتی ہونے کے ساتھ ساتھ انتہائی ذہین بھی ہے۔ بلال مستقبل میں ڈاکٹر بننے کے خواب سجائے بیٹھا ہے جبکہ زین ایک بہادر فوجی سپاہی بن کر ملک و قوم کے تحفظ کا عزم کیے ہوئے ہے۔

بلال اور زین ایسے خواب دیکھنے والے واحد بچے نہیں ہیں۔ پاکستان کے پسماندہ علاقوں میں لاکھوں بچے ایسے ہیں جن کی آنکھیں ایک بہتر مستقبل کے لیے اِسی چمک کے ساتھ اپنے خوابوں کی تعبیر پر مرکُوز ہیں۔ پسماندہ علاقوں میں زیادہ تر اسکولوں کو بنیادی سہولیات جیسے فرنیچر، سٹیشنری، کتابوں کی عدم دستیابی اور بجلی کی کمی کا ہمیشہ سامنا رہتا ہے۔

تعلیم کا معیار اس قدر غیر تسلؐی بخش ہے کہ اس کی مثال کہیں نہیں ملتی۔ ضحیٰ جاوید جو کہ ‘تعمیر سے تعلیم’ پراجیکٹ کے انتظامی امُور کی سربراہ ہیں، کہتی ہیں کہ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم ان ننھی کلیوں کے خوابوں کی تعبیر میں اپنا کردار ادا کریں!

ایک بہتر مستقبل کو یقینی بنانے میں ہمارا کلیدی کردار کیا ہو سکتا ہے

پاکستان کے معروف ڈیویلپرز اینڈ بلڈرز امارات گروپ اور ریئل اسٹیٹ مارکیٹنگ کمپنی گرانہ ڈاٹ کام اس یقین کے ساتھ اس پراجیکٹ پر کام کر رہی ہیں کہ کسی بھی طرح پسماندہ علاقوں کے اسکولوں میں زیرِ تعلیم بچوں کے لیے معیاری تعلیم کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔

اِن ننھے پھولوں کے چھوٹے چھوٹے ہاتھوں میں قلم تھماتے ہوئے انہیں اپنے مستقبل کے خوابوں کو حقیقت میں بدلنے کے لیے کس طرح ان کی رہنمائی کی جائے۔

پاکستان کی نوجوان نسل کی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے مختلف دورانیے کی طویل نشستوں کے بعد متفقہ طور پر سب اس نتیجے پر پہنچے کہ کیوں نہ تعمیراتی منصوبوں کی تعمیر کے دوران بچ جانے والے غیر استعمال شدہ مٹیریل کو استعمال میں لاتے ہوئے ان اسکولوں کی بحالی کو ممکن بنایا جائے۔

چنانچہ پھر ایک دن وہ بھی آیا جب ‘تعمیر سے تعلیم’ پراجیکٹ کی ٹیم نے لکڑی کی بنی ہوئی خوبصورت رنگ برنگی کرسیوں کو اپنے ہاتھوں میں تھامے اسلام آباد کی ایک کچی بستی میں واقع بیٹھک اسکول کے دروازے پر دستک دی۔

ضحٰی جاوید بتاتی ہیں کہ ان کی ٹیم نے کرسیاں سکول کے صحن میں رکھ دیں اور اس وقت سکول کے بچوں کی آنکھوں میں خوشی کے باعث جو چمک تھی وہ اُسے کبھی نہیں بھول سکتیں۔

پراجیکٹ کے انتظامی امُور کی سربراہ کا کہنا ہے کہ جب ہم اونچی اونچی عمارتیں بناتے ہیں تو ہم ننھے پھولوں کے چھوٹے چھوٹے خوابوں کی تکمیل میں مدد کیوں نہیں کر سکتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ تعمیراتی منصوبوں کی تعمیر کے دوران بچ جانے والے تعمیراتی مٹیریل کو لینڈ فل میں ڈمپ کرنے کی بجائے ہم اُس مٹیریل کو ضرورت مند سکولوں میں فرنیچر عطیہ کرنے، پسماندہ علاقوں میں بوسیدہ رہائشی اور سکول کی عمارت کی مرمت یا کھیل کے میدانوں کی تعمیر و بحالی سمیت پسماندہ علاقوں کے اسکولوں میں وسائل کی کمی کو پورا کرنے کے لیے دوبارہ استعمال کرسکتے ہیں۔

نیشنل کنسٹرکشن ویسٹ مینجمنٹ پالیسی

تعمیر سے تعلیم منصوبے کو استحکام بخشنے اور مستقل بنیادوں پر فعال بنانے کے لیے امارات گروپ بیٹھک سکول نیٹ ورک کے ساتھ مل کر ایک پٹیشن کے تحت حکومتی ایوانوں میں آواز اٹھاتے یہ درخواست کر رہا ہے کہ ایک مربوط قومی تعمیراتی پالیسی کی تشکیل عمل میں لاتے ہوئے اس پر عمل درآمد یقینی بنانیا جائے تاکہ سماجی ذمہ داریوں کے اس کارِ خیر کو مستقل بنیادوں پر جاری رکھتے ہوئے پسماندہ علاقوں کے بچوں کو معیاری تعلیمی سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔

مجوزہ پٹیشن میں یہ اپیل کی گئی ہے کہ ایسی پالیسی ترتیب دی جائے جس کے تحت تمام تعمیراتی کمپنیوں کے لیے یہ لازم قرار دیا جائے کہ وہ اپنے تعمیراتی منصوبوں کے گرد و نواح میں واقع خستہ حال اسکولوں کی عمارت کی بحالی میں سہولیات فراہم کریں۔

ملک بھر میں تعمیراتی منصوبوں کے مقامات پر موجود اضافی غیر استعمال شدہ تعمیراتی مواد کو دوبارہ استعمال کے قابل بنانے میں پیشہ ور افراد کی صلاحیتوں کو بروئے کار لایا جائے۔

تعمیراتی فضلہ کو ٹھکانے لگانے کی نگرانی کے لیے ایک مناسب فریم ورک کو یقینی بنایا جائے۔

تعمیراتی صنعت سے اضافی تعمیراتی مواد اور دوبارہ قابلِ استعمال مٹیریل کو ایک جگہ اکٹھا کرنے کے لیے عطیہ مراکز قائم کیے جائیں۔

عطیہ کیے گئے تعمیراتی مٹیریل کو اسکولوں کے لیے مفید مصنوعات میں تبدیل کرنے کے لیے پسماندہ آبادیوں کے قریب ری سائیکلنگ کارخانے قائم کیے جائیں۔

دونوں ننھے طلبہ بلال اور زین کی جانب سے یہاں یہ اپیل کی جاتی ہے کہ تعمیر سے تعلیم مںصوبے پر عمل درآمد یقینی بنانے کے لیے دائر پٹیشن کو زیادہ سے زیادہ ووٹ کریں تاکہ حکومت سمیت ریئل اسٹیٹ کے کاروبار سے وابستہ کاروباری اداروں کی شراکت سے ایک مربوط حکمتِ عملی کے تحت نادار بچوں کو معیاری تعلیم کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔

تعمیراتی منصوبوں کی تعمیر کے دوران بچ جانے والے مٹیریل میں مندرجہ ذیل اشیاء شامل ہیں۔

کنکریٹ
لکڑی کے پینل
غیر استعمال شدہ لکڑی
پلاسٹک (فلمیں، وال کور، پی وی سی پائپ)
سیرامک ٹائلز
شیشہ
اسٹیل
چنائی (اینٹیں)
ڈرائی وال
ریت، مٹی اور بجری
سنگِ مرمر
گتے / کاغذ
لکڑی، فرش، پلائی ووڈ وغیرہ
دھاتیں (ایلومینیم، تانبا وغیرہ)

تعمیراتی شعبے کو درپیش ماحولیاتی چیلنجوں میں کمی لانے کے لیے یہ ضروری ہے کہ تعمیراتی سرگرمیوں کے دوران بچ جانے والے مٹیریل کو دوبارہ استعمال میں لاتے ہوئے مفید مصنوعات اور اشیاء کی تیاری کے لیے ایک مربوط حکمتِ عملی اپنائی جائے جو کہ وقت کی اہم ضرورت ہے۔

اب وقت آگیا ہے کہ ایک مربوط ویسٹ مینجمنٹ اور کچی آبادیوں کی اپ گریڈیشن پالیسی کے ذریعے اِن سماجی مسائل کو حل کرنے میں سرکاری اور نجی شعبوں کے کردار کو یکجا کیا جائے۔

مزید خبروں اور اپڈیٹس کیلئے وزٹ کیجئے گرانہ بلاگ۔