عام آدمی کے لیے اب گھر کی تعمیر ایک خواب: تعمیراتی لاگت میں گذشتہ تین ماہ میں 20 فیصد اضافہ

پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ریکارڈ اضافے اور روپے کی قدر میں کمی کے باعث تعمیراتی سامانے کی قیمتوں میں گذشتہ تین ماہ کے دوران 20 فیصد سے زائد اضافہ ریکارڈ کیا گیا جس کے بعد سے عام آدمی کے لیے گھر کی تعمیر ایک مشکل عمل بن گیا ہے۔

ماہرین کے مطابق بلڈنگ میٹریل کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ کی وجہ سے تعمیراتی سرگرمیاں اور روزگار کے مواقع بری طرح متاثر ہو رہے ہیں۔

دستیاب اعداد و شمار کے مطابق سیمنٹ کی بوری کی قیمت 850 روپے سے تجاوز کر گئی ہے۔ جبکہ موجودہ صورتحال کے پیشِ نظر سیمنٹ کی قیمت آئندہ عرصے میں فی بوری 1000 روپے سے تجاویز کرنے کی پیش گوئی کی جا رہی ہے۔

اسی طرح سرئیے کی قیمت 200,000 روپے فی ٹن سے تجاوز کر گئی ہے جبکہ لکڑی، المونیم، پینٹ اوردیگر تعمیراتی سامان کی قیمتوں میں بھی مسلسل اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔

پاکستان میں تعمیراتی لاگت میں اضافے کی وجہ سے عام افراد کے ساتھ تعمیراتی شعبے میں کام کرنے والے بلڈرز اور ڈویلپرز بھی پریشان نظر آتے ہیں۔ رواں سال کے دوران تعمیراتی لاگت لاگت میں اضافے کو دیکھا جائے تو یہ 800 سے 1000 روپے فی مربع فٹ بڑھ چکی ہے۔

ایک محتاط اندازے کے مطابق پاکستان میں ایک کروڑ سے زائد نئے مکانوں کی ضرورت ہے۔

موجودہ سال کے آغاز سے لے کر اب تک اگر تعمیراتی شعبے میں بڑھنے والی لاگت کا جائزہ لیا جائے تو تعمیراتی کام میں سب سے اہم سریے اور سیمنٹ کی قیمتوں میں بے تحاشا اضافہ دیکھنے میں آیا۔

اگر سٹیل کی قیمت کو لیا جائے تو رواں سال جنوری میں ایک ٹن سریے کی قیمت میں 45000 سے 50000 روپے کا اضافہ ہو چکا ہے۔ جنوری میں 110000 سے لے کر 115000 تک دستیاب فی ٹن سریے کی قیمت اب 160000 سے تجاوز کر چکی ہے۔

اسی طرح سیمنٹ کی قیمت میں بھی فی بوری 100 روپے سے زائد کا اضافہ ہو چکا ہے۔ جنوری میں فی بوری کی قیمت ملک کے مختلف حصوں میں 540 سے 550 تک تھی جو اب 850 روپے فی بوری سے تجاوز کر چکی ہے۔ اسی طرح ٹائلوں کی قیمت میں اب تک 40 فیصد سے زائد اضافہ دیکھنے میں آیا ہے جبکہ ایلومینیم اور رنگ کی قیمت میں بھی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

ایسوسی ایشن آف بلڈرز اینڈ ڈویلپرز (آباد) کے سابق چیئرمین اور فیڈریشن آف پاکستان چمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے نائب صدر عارف یوسف کا کہنا ہے کہ اس وقت سب سے زیادہ پریشان صورت حال سریے اور سیمنٹ کی بڑھی ہوئی قیمت ہے جس میں جنوری سے لے کر آج تک مسلسل اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ سٹیل کی قیمتوں میں اضافے کی ایک وجہ حکومت کی جانب سے وصول کیا جانے والا 17.5 فیصد سیلز ٹیکس کے ساتھ اس کی درآمد پر لگنے والی ریگولیٹری ڈیوٹی ہے۔ جس نے سٹیل کی قیمت میں بے پناہ اضافہ کر دیا ہے۔ اسی طرح سیمنٹ کی قیمت میں بھی بے پناہ اضافہ کر دیا گیا ہے۔

جیوا کے مطابق تعمیراتی شعبے میں بڑھی ہوئی لاگت کا مجموعی طور پر تخمینہ لگایا جائے تو یہ 800 سے 1000 روپے فی مربع فٹ بڑھی ہے۔

موجودہ سال میں تعمیراتی شعبے میں لاگت میں اضافے کی وجہ کیا طلب میں بڑھتا رجحان ہے یا تعمیراتی سامان تیار کرنے والے شعبوں کی جانب سے کارٹیلائزیشن ہے جس کے ذریعے زیادہ منافع کمایا جا سکے؟

اس بارے میں عارف جیوا کہتے ہیں کہ بلاشبہ جب تعمیراتی شعبے کی سرگرمیوں میں اضافہ ہوا تو اس کے ساتھ اس شعبے میں میں استعمال ہونے والے سامان کی طلب میں اضافہ ہوا ہے تاہم جس طرح سے قیمتیں بڑھائی گئیں اس کی وجہ صرف مانگ میں اضافہ نہیں ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ جب چیزوں کی طلب بڑھی تو اس کا مطلب ہے کہ یہ سامان تیار کرنے والی کمپنیوں کے فروخت کا حجم بھی بڑھا اور ان کے منافع میں بھی اضافہ ہوا۔ لیکن یہاں فقط قیمتیں بڑھا کر زیادہ نفع کمایا جا رہا ہے۔

انھوں نے حکومتی ٹیکسوں کو بھی اس سلسلے میں ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے کہا کہ جب سٹیل کی درآمد پر کسٹم ڈیوٹی اور اس کے بعد سیلز ٹیکس لیا جائے گا تو قیمتیں تو بڑھنی ہی ہیں۔

جیوا نے تعمیراتی سامان تیار کرنے والی کمپنیوں کی کارٹیلائزیشن کو بھی اس سلسلے میں ذمہ دار ٹھہرایا جو زیادہ منافع کمانے کے چکر میں قیمتوں میں اضافہ کیے جا رہی ہیں۔

دوسری جانب پاکستان میں تعمیراتی شعبے میں استعمال ہونے والے سب سے اہم میٹریل سیمنٹ کی قیمت میں اضافے کو اس کی پیداواری لاگت میں اضافہ قرار دیا ہے۔ سیمنٹ کے شعبے سے وابستہ افراد کے مطابق اس میں کوئی کارٹیلائزیشن نہیں کہ جس کے ذریعے زیادہ منافع کمایا جا رہا ہے۔

مزید خبروں اور اپڈیٹس کیلئے وزٹ کیجئے گرانہ بلاگ۔

About Zeeshan Javaid

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔