سی پیک کے تحت تھر انرجی کے 330 میگاواٹ منصوبے سے بجلی کی پیداوار شروع

اسلام آباد: مُلکی توانائی کی ضروریات مقامی ذرائع سے حاصل کرنے کی طرف ایک اور سنگ میل عبور کر لیا گیا۔  تھر انرجی لمیٹڈ  کا 330 میگاواٹ کول فائرڈ پاور پروجیکٹ کامیابی سے مکمل کر لیا گیا ہے اور اس منصوبے سے باقاعدہ طور پر بجلی کی پیداوار شروع ہو گئی ہے۔

چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کا یہ پروجیکٹ حب پاور کمپنی لمیٹڈ (حبکو)، فوجی فرٹیلائزر اور چائنا مشینری انجینئرنگ کارپوریشن نے مشترکہ طور پر شروع کیا اور اسے 52 کروڑ ڈالر کی لاگت سے مکمل کیا گیا ہے۔

تھر کے شہر اسلام کوٹ میں  منصوبے کی تکمیل کی تقریب ہوئی اور سید مراد علی شاہ نے اس موقع پر کہا کہ تھر سے اب تک 990 میگا واٹ بجلی نیشنل گرڈ میں شامل کی جا چکی ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت سیمنٹ، کھاد اور دیگر صنعتی شعبوں کی توانائی کی ضروریات کے لیے تھر کے کوئلے کے استعمال کو بڑھانے کے لیے کام کر رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ تھر کے کوئلے کی بڑے پیمانے پر نقل و حمل کے لیے اس کو ریل لنک سے جوڑا جا رہا ہے جس پر سندھ حکومت وفاق کے ساتھ مل کر کام کر رہی  ہے۔

واضح رہے کہ اس منصوبے کے لیے غیر ملکی فنانسنگ کا انتظام چائنا ڈیولپمنٹ بینک کی سربراہی میں چینی سنڈیکیٹ سے کیا گیا تھا جبکہ مقامی فنانسنگ کا انتظام حبیب بینک لمیٹڈ نے سنڈیکیٹ کے ذریعے کیا۔

مذکورہ پراجیکٹ نے مئی 2018ء میں اسپانسرز کی ایکویٹی سے تعمیر شروع کی تاکہ مقامی تھر کول کے جلد سے جلد استعمال کو یقینی بنایا جا سکے۔

منصوبے کا فنانشل کلوز جنوری 2020ء میں ہوا تھا۔ چینی قرض دہندگان کی طرف سے قرض کی فراہمی میں تاخیر اور بعد میں کورونا کے وبائی مرض کی وجہ سے منصوبے کو تاخیر کا سامنا کرنا پڑا۔

حکام کے مطابق اگست کے آخر تک  مجموعی طور پر 330 میگاواٹ بجلی نیشنل گریڈ میں شامل کی جائے گی۔

مزید خبروں اور اپڈیٹس کیلئے وزٹ کیجئے گرانہ بلاگ۔

About Zeeshan Javaid

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔