کُچھ گرین کاریڈورز کے بارے میں

پاکستان کو اگر بہتر شہر دینے ہیں تو روایتی اربن پلاننگ کے نظام میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں لانا ہوں گی۔ ماحولیاتی تبدیلی کے اثرات ہمارے دروازے پر محوِ دستک ہیں اور ہم ہیں کہ اُس کو اپنے آستانے سے دور کرنے کیلئے کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کررہے۔ انگریزی کا ایک مقولہ ہے جس کا اردو ترجمہ کچھ یوں بنتا ہے کہ وقت پر لگائی گئی ایک گرہ بعد میں لگائی جانے والی نو گرہوں سے زیادہ افادیت رکھتی ہے۔ عام خیال تو یہ بھی ہے کہ ماحولیاتی تبدیلی کے اثرات اور اُن سے بچنے کو چھوٹی موٹی شجر کاری کی کاوشیں کافی نہیں پڑیں گی۔ سیدھی سی بات ہے کہ ہمیں مکمل طور پر اپنے سوچنے سمجھنے کا زاویہ بدلنے کی ضرورت ہے۔

یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ماحولیاتی تبدیلی کے اثرات ہم پر بہت گہرے ہوں گے جس کا نقصان ہمیں بھی ہوگا اور ہمارے آنے والی نسلوں کو بھی۔ ہماری آنے والی نسلوں پر یہ اثر زیادہ ہوگا اور شاید یہی سوچ ہمیں کسی سنجیدہ کوشش سے روکے ہوئے ہے کہ ہم یہ سوچتے ہیں کہ بھلا سورج کی الٹرا وائلٹ شعائیں ہمیں انفرادی طور پر کیا نقصان پہنچائیں گی اور بھلا ایسڈ رین کب ہماری ہی چھت پر برسے گی اور ذاتی طور پر ہمارا ہی کوئی نقصان کریگی۔ یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ ہمیں اپنے گھر، اپنے شہر بسانے کے طور طریقوں میں بدلاؤ لانا پڑے گا۔ اس ضمن میں شہری علاقوں میں سبز احاطوں کا قیام اور اُن گرین اسپسز تک رسائی کو آسان بنانا بہت ضروری ہے۔ شہر میں گرین کاریڈورز کا قیام انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ گرین کاریڈورز دراصل سبز شہری احاطوں کو جوڑتے ہیں اور اُن تک رسائی آسان کرتے ہیں۔ آج کی تحریر گرین کاریڈورز اور اُن کی افادیت کے بارے میں ہے۔

پاکستان میں ماحولیاتی تبدیلی کے اثرات

ماحولیاتی تبدیلی جس زور و شور سے ہم پر اثر انداز ہورہی ہے، یہ ہم سب جانتے ہیں۔ اقوامِ متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق ہماری زمین اگلی تین دہائیوں میں تقریباً 1.5 ڈگری سینٹی گریڈ تک گرم ہوجائیگی۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ چند ماہ قبل اقوامِ متحدہ ہی کی رپورٹ میں یہ عرصہ لگ بھگ 50 سال تک کا تھا۔ یہ رپورٹ یہ سمجھانے اور سمجھنے کو کافی ہے کہ ماحولیاتی تبدیلی کے آگے بند باندھنے کیلئے کس حد تک سنجیدہ اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ اقوامِ متحدہ کی ایک اور اسٹڈی ہمیں یہ بتاتی ہے کہ پاکستان دنیا کے اُن 6 ممالک میں شامل ہے کہ جن پر ماحولیاتی تبدیلی کا اثر سب سے زیادہ ہوگا۔ اسی طرح اقوامِ متحدہ کی ہی ایک اور اسٹڈی کے مطابق دنیا کی 55 فیصد آبادی شہروں میں رہتی ہے۔ سال 2050 تک دنیا کی 60 فیصد آبادی اربن سینٹرز میں مقیم ہوگی۔

سیدھی سی بات یہ ہے کہ دنیا کے بیشتر شہروں میں اب اور لوگوں کو جذب کرنے کی سکت نہیں رہی۔ ہمارے شہروں کو کسی ڈرون شاٹ سے دیکھیں، کسی بلند سطح سے اِن کا مشاہدہ کریں، یہ گھٹن زدہ لگتے ہیں، کنکریٹ کا ایک جنگل دکھائی دیتے ہیں کہ جس میں تازہ ہوا کے ایک جھونکے کو بھی اپنی جگہ نہ مل سکے۔ یوں لگتا ہے کہ یہاں ایک صحت مند، تندرست و توانا زندگی نہیں پنپ سکتی، یہ شہر تنگ ہوتے چلے جارہے ہیں اور آبادی کا تناسب ہے کہ کسی صورت کم ہونے کا نام نہیں لے رہا۔ ایسے میں ضرورت پلاننگ کی ہے۔ اور پلاننگ بھی وہ کہ جس میں بیلنس پر زور ہو، یعنی جس کے ذریعے جدید دور کے تقاضوں کا مکمل احاطہ کیا جا سکے اور جس کے ذریعے ہم یہ دیکھ سکیں کہ یہاں تک تو جو ہونا تھا، وہ ہوچکا، اب آگے کیا ہونا ہے اور کیسے ہونا ہے۔

گرین اسپیس کی ضرورت

گرین کاریڈورز دراصل اربن ایریاز کے درمیان پلانڈ اور ان پلانڈ سبز احاطوں کو کہتے ہیں۔ یہ پاتھ ویز قدرتی طور پر بنانے دیے جاتے ہیں، انہیں اپنے آپ ہی پنپنے دیا جاتا ہے، یہ ویجی ٹیشن اور درختوں سے بھرپور ہوتے ہیں۔ انہیں بائیولاجیکل کاریڈور اور وائلڈ لائف کاریڈور بھی کہا جاتا ہے۔ یہ سبزے، جنگلی حیات، چرند پرند اور ترو تازہ آب و ہوا کا مسکن ہوتے ہیں، یہ شہروں کو گھٹن سے بچاتے ہیں، یہ کنکریٹ جنگلات اور اُن شہری علاقوں میں بسنے والے لوگوں کو زندہ رہنے کیلئے آکسیجن مہیا کرتے ہیں۔ انگریزی جریدہ دی اکانومسٹ لکھتا ہے کہ گرین اسپیسز شہروں کو سینیٹی مہیا کرتے ہیں یعنی سادہ زبان میں کہا جائے تو یہ شہروں کو پاگل پن سے بچاتے ہیں اور اُن میں رہنے والوں کی ذہنی کیفیت متوازن رکھتے ہیں۔


لوگ یہاں خود کو ریفریش کرتے ہیں، چہل قدمی کرتے، کھیل کود میں مگن دکھائی دیتے ہیں۔ یہاں سے ماحولیاتی تبدیلی کا تدارک ہوتا ہے، ماحولیاتی تحفظ کی بنیاد رکھی جاتی ہے۔ یہ شہری علاقوں کو حد درجہ ضروری خوبصورتی مہیا کرتے ہیں۔ یہ آجکل کی مصروف ترین زندگی میں لوگوں کو ایک کمیونیٹی بلڈنگ کا موقع دیتے ہیں، یہاں لوگ سائکلنگ اور اسکیٹنگ کر سکتے ہیں نیز ان تمام تر سرگرمیوں میں اپنی توانائیاں خرچ کر سکتے ہیں جو کہ انٹرنیٹ کے گرد گھومتی مصنوعی زندگی کی وجہ سے ہم سے چھن گئی ہیں، دور کردی گئی ہیں۔

مزید خبروں اور اپڈیٹس کے لیے وزٹ کیجئے گرانہ بلاگ۔

About wasib imdad

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔