پھلوں کے بادشاہ آم کی میٹھی اور مشہور اقسام

1b

گرمیوں کی آمد آمد ہے۔ ہر طرف گرم ہوائیں، تپتی دھوپ، حبس، گھٹن، سائے کی تلاش میں انسان، پانی کی ایک بوند کو ترستے چرند پرند اور گرمی سے ہانپتے جانور غرضیکہ ہر جاندار اس موسمِ گرما کی تپش سہتے سہتے یہ موسم گزارتا ہے۔

ایسے میں سب ٹھنڈے مشروبات، سائے دار درخت اور ہریالی کی تلاش میں ہوتے ہیں۔ لیکن کچھ لوگ موسمِ گرما کی آمد کے ساتھ ہی اس کے ساتھ آنے والی مختلف سوغاتوں کے انتظار میں ہوتے ہیں۔ اور سب سے بڑھ کر وہ پھل جسے کھانے والے صرف اِن کے ذائقوں سے لطف اندوز ہونے کے لیے گرمی کے موسم کو پسند کرتے ہیں جن میں سرِ فہرست ہے پھلوں کا بادشاہ، جی ہاں ہم بات کر رہے ہیں آم کی۔

دنیا میں آم جیسے خوش ذائقہ اور میٹھے پھل کو شاید ہی کوئی ناپسند کرتا ہو۔

آم دنیا کے چند پسندیدہ پھلوں میں سے ایک ہے۔ اس کا آبائی وطن جنوبی ایشیا اور جنوب مشرقی ایشیا ہے۔ لیکن یہ دنیا کے تمام استوائی علاقوں میں ہوتا ہے۔ برصغیر میں اس پھل کی خوب پیداوار ہے اور اسے پاکستان کا قومی پھل کہا جاتا ہے۔

 

پاکستان میں آموں کی اقسام

پاکستان میں آم کی 300 سے زائد اقسام پائی جاتی ہیں جن میں سندھڑی، ثمر بہشت، چونسہ، دوسہری، انور رٹول، لنگڑا، فجری، مالٹا، سفید چونسہ، کالا چونسہ ،گلاب خاصہ، زعفران، الماس اور سرولی شامل ہیں۔ مئی کے اوئل سے اگست کے آخر تک پاکستان میں آموں کی بہار رہتی ہے۔ آم کی برآمد سے سالانہ 1.04 ملین ڈالر زرمبادلہ حاصل کیا جاتا ہے۔

پھلوں کے بادشاہ آم کی میٹھی اور مشہور اقسام

آموں کے باغات کا شہر، ملتان

پنجاب میں اگر سرزمینِ اولیا کے شہر کا رخ کیا جائے تو ملتان کی سرحد شروع ہوتے ہی باغات کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔ جن کی مہک اور خوشبو سے موسمِ گرما میں گزرگاہیں معطر ہوتی ہیں۔ تاریخی شہر ملتان اپنے کچھ چیزوں یعنی گرد، گدا، گورستان، سوہن حلوہ اور آم کے نام سے پوری دنیا میں مشہور ہے۔

یہاں کے باغات کا آم پوری دنیا میں ایکسپورٹ کیا جاتا ہے۔ آم تاریخی شہر ملتان کی ایک منفرد پہچان ہے۔ ملتان شہر کی آندھیوں اور تیز ہواؤں کے ساتھ گرد و غُبار کے سبب یہاں اکثر آموں کے باغات میں کچے آم گر جاتے ہیں جن سے اچار، مربے اور مخلتف چٹنیاں تیار کی جاتی ہیں۔

پھلوں کے بادشاہ آم کی میٹھی اور مشہور اقسام

آموں کی مشہور قسم، انور رٹول

آموں میں شوق سے کھائے جانے والی قسم میں انور رٹول ایک مشہور قسم ہے۔ اِس آم کا نام انور الحق سے جوڑا جاتا ہے جن سے یہ منسوب ہے کہ وہ ہندوستان کے صوبے اُترپردیش کے ضلع باغپت میں انور رٹول اُگانے والے پہلے شخص تھے۔

بھارت میں یہ آم انور رتاول کہلاتا تھا لیکن اب اس کی کاشت پاکستانی علاقوں میں بھی کی جاتی ہے اور انور رٹول کے نام سے اِس کی خوب مانگ ہے۔ انور رٹول کا سائز سندھڑی کے مقابلے میں نسبتاً چھوٹا ہوتا ہے۔ اس کے گودے کا رنگ نارنجی مائل اور ذائقہ انتہائی شیریں، جب کہ اس کی تیز اور منفرد خوشبو بھی اسے آموں کی دیگر اقسام سے منفرد کرتی ہے۔

پھلوں کے بادشاہ آم کی میٹھی اور مشہور اقسام

سندھ کا مشہور آم، سندھڑی

سندھڑی آم پاکستان کے صوبہ سندھ میں کاشت کی جانے والی آم کی ایک قسم ہے۔ اسے اپنے ذائقہ کی وجہ سے آموں کی ملکہ مانا جاتا ہے۔ سندھڑی آم کی تاریخ ایک سو سال پرانی ہے۔

جس کی ابتدا 1909ء میں ہوئی جب سندھ ہارٹیکلچر ریسرچ انسٹی ٹیوٹ نے بھارت سے ساؤتھ انڈین قلمی آم کے چار پودے منگوائے تھے، تاکہ اس پر تحقیق کے بعد سندھ کی آب و ہوا کے مطابق کاشت کیا جا سکے۔ ان میں سے دو پودے دین محمد جونیجو (سابق وزیراعظم محمد خان جونیجو کے دادا) کو دیئے گئے اور بقایا دو پودے ایک دوسرے زمیندار صمد کاچھیلو کو فراہم کیے گئے۔

پھلوں کے بادشاہ آم کی میٹھی اور مشہور اقسام

اُگائے جانے والے آموں کی اقسام

کاشت کیے جانے یا اُگائے جانے والے آم کی دو اقسام ہوتی ہیں جن میں ایک کو قلمی اور دوسرے کو دیسی کہا جاتا ہے۔ قلمی آم قلموں کی مدد سے اگایا جاتا ہے جبکہ تخمی یا دیسی آم گٹھلی کی مدد سے۔

دیسی آم عام طور پر چوس کر کھایا جاتا ہے جبکہ قلمی آم کی قاشیں کاٹ کر لطف اندوز ہوا جاتا ہے۔ دیسی آم عموماً درختوں پر ہی پک جاتا ہے لیکن قلمی آم جب تیار ہوجاتا ہے تو اس کو قدرے کچی حالت میں اتار کر اور پرانے کاغذوں میں لپیٹ کر پیٹیوں میں کچھ دنوں کے لئے ہوا بند جگہ میں رکھ دیا جاتا ہے۔اس عمل کو پال لگانا کہتے ہیں۔ کچھ دنوں میں یہ آم پک کر بہترین خوشبو اور ذائقے دار ہو جاتے ہیں۔

پھلوں کے بادشاہ آم کی میٹھی اور مشہور اقسام

گرمی کی سوغات آم کے مختلف ذائقے اور رنگ

قلمی آموں میں بھورا، سندھڑی، کالا سندھڑی، بنیگن پھلی، دوسہری، الفانسو، ثمر، بہشت، طوطا ہری، سبز، انور رٹول، چونسہ، دل آرام، سرولی، ثریا، پونی، حبشی سرولی، لنگڑا، دوسی ولین، کلکٹر، سورانیکا، بادام، نیلم، بھرگڑی، سفید الماس، زہرہ، شاسندر، سیاہ مائل، زعفران، جبل پوری، جاگیردار شہنشاہ، انمول اور دیگر شامل ہیں۔ جب کہ دیسی آم میں پتاشہ، لڈو، گلاب جامن، سفید گولا، سبز گولا اور سندوری وغیرہ شامل ہیں۔

دُسہری کا چِھلکا خوبانی کی رنگت جیسا باریک اور گودے کے ساتھ چِمٹا ہوتا ہے۔ گودا گہرا زرد، نرم، ذائقےدار اور شیریں ہوتا ہے۔ سِندھڑی کا سائز بڑا، چِھلکا زرد، چکنا اور باریک گودے کے ساتھ ہوتا ہے جس کا گودا شیریں، رس دار اور گُٹھلی لمبی اور موٹی ہوتی ہے۔

چونسہ آم کا ذائقہ تو اپنی مثال آپ ہے۔ آم کی یہ قسم دنیا بھر میں شہرت رکھتی ہے چونسا کا چھلکا قدرے موٹا، مُلائم اور پیلی رنگت کا ہوتا ہے۔ اس کا گودا گہرا زرد، نہایت خوشبو دار اور شیریں ہوتا ہے۔ اِس کی گُٹھلی پتلی اور لمبی ہوتی ہے۔

انور رٹول جو سب سے مشہور قسم ہے درمیانے سائز کا ہوتا ہے۔ چِھلکا چِکنا اور سبزی مائل زرد ہوتا ہے۔ گودا بے ریشہ، زرد، نہایت شیریں اور خوشبودار ہوتا ہے۔

پھلوں کے بادشاہ آم کی میٹھی اور مشہور اقسام

آم سے بنائے جانے والے مشروب و لوازمات

آم جہاں انتہائی شوق سے کھایا جانے والا پھل ہے، وہاں اِس سے مخلتف طرح کے مشروبات بھی بنائے جاتے ہیں جن میں سرِ فہرست پَنہ ہے جو کچے آم سے بنتا ہے۔

یہ گرمی کے شدید موسم میں نہ صرف پیاس بھجانے میں کام دیتا ہے بلکہ دھوپ کی تپش میں لُو لگنے سے بھی بچاتا ہے۔ اسے بناتے ہوئے گودے میں لیموں اور چینی شامل کی جاتی ہے اور ٹھنڈا پانی یا برف ڈال کر لطف اندوز ہوا جاتا ہے۔ یہ شربت عام طور پر پنجاب کے شہروں اور دیہی علاقوں میں پسند کیا جاتا ہے کیونکہ یہ باآسانی گھر میں بنایا جا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ آموں کو دودھ کے ساتھ مِلک شیک کی صورت میں بھی بہت پسند کیا جاتا ہے۔

اچار ایک ایسی دیسی سوغات ہے جسے پاکستان میں نہ صرف شوق سے کھایا جاتا ہے بلکہ تحفے میں بھی دیا جاتا ہے اور آم کا اچار تمام اچاروں میں سب سے ذیادہ پسند کیا جاتا ہے۔ آم کو مختلف دوسری سبزیوں جیسے لہسن، گاجر، لسوڑوں اور ہری مرچوں کے ساتھ ملا کر بھی اچار تیار کیا جاتا ہے۔ مزیدار مربہ جات اور چٹنیاں بھی آم سے تیار کی جاتی ہیں۔ آم کی گھٹلی سے حکیمی اور دیسی ادویات تیار کی جاتی ہیں۔

پھلوں کے بادشاہ آم کی میٹھی اور مشہور اقسام

آم کھانے کے دلچسپ اور منفرد طریقے

آم جتنا خوش ذائقہ اور شیریں ہوتا ہے اس کے کھانے کے طریقے بھی اتنے ہی دلچسپ ہیں جو عام طور پر گھرانوں اور محفلوں میں اپنائے جاتے ہیں۔ اکثر آموں کو ٹھنڈے پانی یا برف کے ایک بڑے ٹب میں بگھو دیا جاتا ہے اور ٹھنڈا ہونے پر اسے تمام افراد دانتوں سے کاٹ کر کھاتے ہیں۔ یا پھر فینسی محفلوں میں آموں کی قاشیں کاٹ کر مہمانوں کو پیش کی جاتی ہیں۔

اس کے علاوہ کچھ جدت پسند اور نفاست پسند لوگ آموں کے چھلکے اتار کر اور کیوبز کی شکل میں ان کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے کاٹ کر نوش فرماتے ہیں۔

مزید خبروں اور اپڈیٹس کیلئے وزٹ کیجئے گرانہ بلاگ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے