گھر کی بیسمنٹ کی تعمیر میں کن باتوں کا خیال رکھنا چاہیے؟

بیسمنٹ یا تہہ خانہ گھر کا وہ حصہ ہوتا ہے جو گرمیوں میں ٹھنڈا ہونے کے باعث بھرپور راحت فراہم کرتا ہے لیکن بیسمنٹ کی تعمیر کرنے سے قبل کچھ باتوں کا خیال رکھنا نہایت لازم ہے۔ وہ اہم نکات کیا ہیں، اس بارے میں ہم آپ کو قیمتی معلومات فراہم کریں گے۔

گھر کی بیسمنٹ کی تعمیراتی لاگت گراؤنڈ فلور کی نسبت 30 سے 40 فیصد زیادہ ہوتی ہے۔ بیسمنٹ کی تعمیر سے قبل یہ دیکھنا نہایت لازم ہے کہ کیا آپ کا گھر بیسمنٹ کی تعمیر کے لیے موزوں ہے یا نہیں۔ مثال کے طور پر پرانے گھر کی بیسمنٹ کی تعمیر آپ کے گھر کے استحکام کو خطرے میں لا سکتی ہے۔ اس کے علاوہ اگر آپ اپنے پہلے سے تعمیر شدہ گھر میں بیسمنٹ کی تعمیر کروانا چاہتے ہیں تو یہ عین ممکن ہے کہ آپ کو متعلقہ حکام سے این او سی یعنی اجازت نامہ کی ضرورت بھی درپیش آئے۔

آئیے آپ کو ان نکات کے بارے میں آگاہ کرتے ہیں جو بیسمنٹ کی تعمیر سے قبل آپ کو معلوم ہونا چاہیے۔

اضافی لاگت کیوں؟

بیسمنٹ کی تعمیر میں اس کی چاروں دیواروں اور چھت کے لنٹر کی تعمیر میں اضافی لاگت آتی ہے۔ اضافی لنٹر کا مقصد گھر کو مضبوطی فراہم کرنا ہوتا ہے تاکہ گھر مستحکم رہے۔

اضافی لنٹر کے علاوہ گھر کی بیسمنٹ میں شہتیروں کا بھی استعمال کیا جاتا ہے تا کہ بیسمنٹ مضبوط رہے۔ اگر بیسمنٹ گراؤنڈ فلور سے سائز میں چھوٹی ہے تو بیسمنٹ کی چھت کے 4 کونوں پر شہتیر نصب کرنے سے یہ مضبوط رہے گی۔ اگر بیسمنٹ سائز میں گراؤنڈ فلور کے برابر ہے تو اضافی شہتیروں کی ضرورت پیش آ سکتی ہے۔

یاد رہے کہ بیسمنٹ کی تعمیری لاگت ہر پراجیکٹ کے حساب سے بدلتی رہتی ہے۔ لیکن اس پر آنے والی مزدوری کی لاگت ایک جیسی ہی رہے گی۔ اس بات کو یقینی بنانا ضروری ہے کہ اس کی تعمیر میں لنٹر اور شہتیروں کو نصب کرنے میں کوالٹی پر کسی قسم کا کوئی سمجھوتہ نہ کیا جائے۔

کھدائی کا عمل

بیسمنٹ کی تعمیر میں کھدائی کا عمل ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ گھر کی مضبوطی کو یقینی بنانے کے لیے اس کی کھدائی ہمیشہ گہری کی جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بیسمنٹ کی اونچائی ہمیشہ گراؤنڈ فلور کی نسبت زیادہ ہوا کرتی ہے۔ عمومی طور پر بیسمنٹ 20 فُٹ گہری کھودی جاتی ہے تاکہ اس کی اونچائی زیادہ ممکن بنائی جائے اور ایک مستحکم تہہ خانہ تیار ہو۔

سیپیج یا سیم سے ممکنہ بچاؤ

بیسمنٹ کی تعمیر میں درست اینٹوں کا انتخاب نہایت لازم ہے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ کسی قسم کے سیپیج یا سیم کے مسائل کا سامنا نہ ہو۔

اکثر دیکھا گیا ہے کہ تہہ خانے کی تعمیر کے دوران کچی اینٹوں کا انتخاب کیا جاتا ہے اور یہ اینٹیں لنٹر کی تعمیر کے دوران پانی جذب کر لیتی ہے جو لنٹر کی تعمیر میں استعمال ہوتا ہے۔

اس کے علاوہ ایسے گھر جو ایسی زمین پر تعمیر کیے گئے ہوں جو پہلے زرعی مقاصد کے لیے استعمال ہوتی تھی تو وہاں بھی سیپیج یا سیم کے مسائل کا سامنا ہو سکتا ہے۔

اس لیے یہ ضروری ہے کہ بیسمنٹ میں ہواداری کا مناسب نظام موجود ہو تاکہ نمی سے بچا جا سکے۔ اس مقصد کے لیے بیسمنٹ کے دونوں اطراف کھڑکیاں ہونا ضروری ہے تاکہ تازہ ہوا اور سورج کی روشنی باآسانی بیسمنٹ میں داخل ہو سکے اور اسے سیم یا سیپیج سے محفوظ رکھا جا سکے۔

تہہ خانے کی تعمیر سے قبل اس امر کو مدِنظر رکھنا نہایت ضروری ہے۔

نکاسی آب کا خاص انتظام

دورِ جدید میں گھر کی بیسمنٹ میں باتھ روم بھی موجود ہوتا ہے تاکہ تہہ خانے کو مکمل طور پر قابلِ استعمال بنایا جا سکے۔ ایسے میں نکاسی آب کو ممکن بنانے کے لیے تہہ خانے میں سیپٹک ٹینک نصب کیا جاتا ہے۔ یہ سیپٹک ٹینک اس کے ساتھ منسلک واٹر پمپ کے ذریعے بیسمنٹ کا سیوریج کا پانی گراؤنڈ فلور کے سیپٹ ٹینک تک پہنچاتا ہے۔

نکاسی آب کا یہ نظام بخوبی قابلِ عمل ہونا چاہیے تاکہ کسی بھی قسم کے سیپیج یا سیم سے بچا جا سکے۔ بیسمنٹ کے باتھ روم میں بھی ہواداری کا مناسب انتظام ہونا چاہیے۔

ہنگامی صورتحال کے لیے اضافی دروازہ

اگر آپ گرمیوں میں گھر کی ٹھنڈی بیسمنٹ میں آرام فرما ہوں اور اچانک خدانخواستہ آگ بھڑک اٹھے تو ایسی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ایک ہنگامی راستہ ہونا نہایت لازم ہے۔

اگر آپ کسی ہاؤسنگ سوسائٹی میں گھر کی تعمیر کر رہے ہوں تو جدید دور کے تقاضوں کو مدِنظر رکھتے ہوئے یہ عین ممکن ہے کہ متعلقہ حکام کی جانب سے آپ کو کہا جائے کہ گھر کی بیسمنٹ میں ہنگامی دروازے کی موجودگی یقینی بنائی جائے۔

اس کا مقصد یہ ہے کہ کسی بھی قسم کی ناگہانی صورتحال سے بچا جا سکے۔

آگ لگنے، زلزلہ، سیلاب یا دیگر قدرتی آفات کی صورت میں بیسمنٹ میں ایک عدد بڑی کھڑکی تعمیر نہایت لازم ہے تاکہ کسی بھی قسم کی انہونی صورتحال میں جانی نقصان سے بچا جا سکے۔

بیسمنٹ کی ضرورت کیوں؟

گھر کی بیسمنٹ آپ کو اضافی جگہ فراہم کرتی ہے۔ اگر آپ کا سامان زیادہ ہے، آپ کے گھر میں مہمانوں اور رشتہ داروں کا بہت زیادہ آنا جانا ہے تو سامان رکھنے اور مہمانوں کو رات قیام کروانے کے لیے بیسمنٹ کا بھرپور استعمال کیا جا سکتا ہے۔

موجودہ دور میں جہاں بجلی کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہیں اور ائیر کنڈیشنر نصب کرنا اور استعمال کرنا ایک عام آدمی کے بس کی بات نہیں، وہاں گھر میں بیسمنٹ کا ہونا کسی نعمت سے کم نہیں۔

بیسمنٹ گھر کے دیگر حصوں کی نسبت گرمیوں کے موسم میں ٹھنڈی ہوتی ہے۔ اگر آپ نے گھر کے تہہ خانے کو گھر کی دیگر منزلوں کی طرح فرنیچر سے آراستہ کر رکھا ہے تو گرمی کے موسم میں زیادہ تر وقت بیسمنٹ میں گزارنا نہ صرف بجلی کی بچت کا باعث بنے گا بلکہ آپ اس کفایت شعار طریقے سے گرمی کی شدت سے بھی محفوظ رہ سکیں گے۔

مزید خبروں اور اپڈیٹس کیلئے وزٹ کیجئے گرانہ بلاگ۔

About Rizwan Ali Shah

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔