موسمِ برسات میں گھر کی شفٹنگ کے لیے احتیاطی تدابیر

7th sep BI

بہت عرصے سے ایک اچھے گھر کی تلاش تھی۔ آخر کار مل گیا۔ اب جلد از جلد شفٹ ہونا ہے تاکہ نئے گھر میں سیٹ ہو کر زندگی کو معمول پر لایا جائے۔ لیکن موسمِ برسات ایک ناقابلِ اعتبار سیزن ہے۔ بارش کے آثار تک نہ ہوں، لیکن اچانک بادل آتے ہیں اور برسنا شروع ہو جاتے ہیں۔ کیسے ہو گی شفٹنگ؟

یہ ہیں وہ سوالات اور مشکلات جو موسمِ برسات میں شفٹنگ کرنے سے قبل گھر والے ایک دوسرے سے اور خود سے پوچھتے ہیں۔ پرانے گھر سے سامان اٹھا کر نئے گھر میں پہنچانے تک گویا ایک مشکل ٹاسک ہوتا ہے۔ لیکن اگر ہم اس معاملے میں کامن سینس یا تھوڑی سمجھداری سے کام لیں۔ تو یہ مشکل کام بھی آسانی سے سر انجام دی جا سکتا ہے۔

 

پیک شدہ سامان کے کچھ ڈبے، اور ساتھ رکھی چھتری

 

سامان کی پیکنگ

گھر کے تمام تر سامان کو اَن پیک کرنا اتنا مشکل نہیں جتنا پیک کرنا ہے۔ گھر کے ہر حصے میں مختلف طرز کی اشیاء کو ان کی ساخت، مضبوطی اور نزاکت کے مطابق پیک کرنا ضروری ہوتا ہے۔ موسمِ برسات ہو یا کوئی بھی سیزن، شفٹنگ کے لیے سب سے پہلا مرحلہ ہی سامان کی پیکنگ ہے۔ لیکن اگر آپ کو خدشہ ہے کہ بارش ہونے کی صورت میں سامان بھیگنے پر خراب ہو سکتا ہے، تو اس کی پیکنگ میں تھوڑی مزید احتیاط کی ضرورت ہے۔

پلاسٹک شیٹوں کا استعمال

بارش کے سیزن میں شفٹ کرنے اور سامان بھیگنے سے بچانے کے لیے تمام چیزوں کو کارٹن اور گتے کے ڈبوں میں پیک کرنے سے قبل پلاسٹک کورز یا شیٹوں سے ڈھانپ لیں۔ اور سلوشن ٹیپ کی مدد سے مضبوط کر لیں۔ مزید احتیاط کے لیے آپ ڈبوں اور بکسوں کو بھی پلاسٹک شیٹوں سے ڈھانپ سکتے ہیں۔ تاکہ بارش کی صورت میں ڈبے اور اندر موجود سامان گیلا ہونے سے بچ جائے۔

 

پلاسٹک شیٹوں سے ڈھانپا اور بندھا ہوا گھر کا سامان

 

ٹوٹنے والی اشیاء کی پیکنگ

ڈیکوریشن پیسز، وال کلاکس، فانوس اور بہت سی دیگر چیزیں ایسی ہوتی ہیں جو بہت جلد اور ہلکی سے آہٹ سے ٹوٹ سکتی ہیں۔ ایسے نازک اور قیمتی آئٹمز کو سب سے پہلے ایک موٹے کاغذ یا پھر اخبار میں لپیٹنا مناسب ہو گا۔ علاوہ ازیں، آپ اسے پلاسٹک شیٹ میں بھی لپیٹیں تاکہ ٹوٹنے کا خطرہ کم سے کم رہ جائے۔

 اس کے بعد آپ اسے ایک مضبوط کارٹن یا گتے کے ڈبے میں پیک کریں تاکہ شفٹنگ کے دوران ٹوٹنے نہ پائیں۔ یاد رہے کہ بہت سی فریجائل یعنی ٹوٹنے والی اشیاء کو ایک ساتھ نہ رکھا جائے، ورنہ یہ بھی ان کے ٹوٹنے کا سبب بن سکتا ہے۔

ڈبوں پر پیک شدہ چیزوں کے نام تحریر کریں

جیسے جیسے پیکنگ ہوتی جائے اور ڈبے بند ہوتے جائیں۔ ان پر واضح الفاظ میں اندر پیک کی جانے والی اشیاء کے نام تحریر کریں۔ تاکہ آپ کو یاد رہے کہ ایک سی چیزوں یا آئٹمز کے کتنے ڈبے ہیں۔ اور کون سے بکسوں میں نازک اشیاء ہیں۔ علاوہ ازیں، آپ کو کمروں، لاؤنج، کچن اور گھر کے دیگر حصوں کے متعلقہ سامان کے ڈبے پہچاننے میں آسانی ہوگی۔ اور آپ ہر ڈبے کو اس کے کمرے یا کچن وغیرہ میں براہِ راست پہنچا سکیں گے۔

 

گتے کے ڈبے پر فریجائل کا ٹیگ لگاتا ایک شخص

 

مون سون میں نمی جذب کرنے والی اشیاء

بارشوں اور برسات کے موسم میں ہوا میں نمی کا تناسب بڑھ جاتا ہے۔ جس کے باعث کھانے پینےکی اشیاء، کپڑے جوتے اور کارپٹ سے لے کر دیگر استعمال کی چیزوں میں بھی نمی اور موئسچر آجا تا ہے۔

کھانے پینے کی اشیاء

موسمِ برسات میں کھانے پیینے کی چیزیں آسانی سے نمی کا شکار ہو جاتی ہیں۔ تمام مصالحہ جات، دالوں اور کچن کی دیگر کھانے میں استعمال ہونے والی چیزوں کو ایئر ٹائٹ جارز یا بوتلوں میں پیک کریں۔ تاکہ ان میں نمی کے باعث کیڑے پیدا نہ ہونے پائیں۔ شفٹنگ کے علاوہ بھی اکثر تمام مصالحوں کو ساون بھادوں یا مون سون میں بند بوتلوں اور مرتبانوں میں رکھا جائے تو وہ نمی کے باعث خراب نہیں ہونے پاتے۔ لیکن شفٹنگ جیسے معاملات میں زیادہ احتیاط کی ضرورت ہے۔ کیونکہ ہمیں اس بات کا اندازہ نہیں ہو پاتا کہ سامان کی پیکنگ کتنے دن بعد کھولی جائے گی۔

 

شیشے کی بوتلوں میں پیک مصالحہ جات

 

کپڑوں اور جوتوں کی پیکنگ

بارشوں کے موسم میں پیک شدہ کپڑے نمی کے باعث بدبو کا شکار ہو جاتے ہیں۔ اور الرجی کا باعث بنتے ہیں۔ لہٰذا، ایسے لوگ جو مختلف قسم کی الرجی کا شکار ہیں انہیں خاص احتیاط کرنی چاہیئے۔ ورنہ ایسے کپڑے سخت چھینکوں اور فلُو کا باعث بنتے ہیں۔ کپڑوں کو پیک کرتے ہوئے سیلیکا جِل یا فینائل کی گولیوں کا استعمال کریں۔

اسی طرح، جوتے پیک نہ کریں بلکہ ان میں کاغذ رکھیں تاکہ ان میں بدبو پیدا نہ ہونے پائے۔

 

کپڑوں کو نمی سے بچانے کے لیے سیلیکا جیل رکھتی ایک خاتون

 

فرنیچر اور دیگر آلات کی پیکنگ

کپڑوں، جوتوں اور کھانے کی اشیا کے علاوہ فرنیچر اور دیگر سامان کو بھی پلاسٹک شیٹوں سے ڈھانپنا اور باندھنا ضروری ہے۔ تاکہ بارش میں فرنیچر اور آلات خراب نہ ہونے پائیں۔ چونکہ، لکڑی کا فرنیچر اور سامان بارش میں خراب ہو سکتا ہے اور پھول سکتا ہے۔ دھاتی سامان یا فرنیچر زنگ کا شکار ہو سکتا  ہے۔ اسی طرح، لیدر پر مبنی چیزیں داغدار ہو سکتی ہیں۔

سامان لے جانے والی گاڑی کا انتخاب

ایک گھر سے دوسرے گھر میں سامان شفٹ کرنے کے لیے اکثر ایسی گاڑیاں یا ٹرک دستیاب ہوتے ہیں جن کی چھت نہیں ہوتی۔ موسم کی مناسبت سے ایسی گاڑی کا انتخاب کریں جو چھت پر مبنی ہو۔ تاکہ برستی بارش براہِ راست سامان پر نہ پڑے۔ مزید براں، گاڑی میں سب کچھ رکھ لینے کے بعد ایک بڑی شیٹ سے تمام سامان کو ڈھانپ لیں۔ اور کوشش کریں کہ دورانِ سفر سامان کے ساتھ گھر کا کوئی فرد موجود رہے۔ تاکہ سامان ایک دوسرے سے ٹکرانے اور گاڑی میں ہی گرنے سے روکا جا سکے۔

ایک ضروری تجویز یہ ہے کہ کبھی بھی وہ گاڑی جس پر سامان لوڈ کرنا ہو گھر سے دور پارک نہیں ہونی چاہیئے۔ ورنہ ہاتھوں میں گاڑی تک پہنچنے والے سامان کے خراب ہونے کا زیادہ اندیشہ ہے۔ اسی طرح، سامان اتارتے ہوئے بھی گاڑی گھر کے گیٹ تک ہی آںی چاہیئے۔ جو سامان کی حفاظت کے لیے انتہائی ضروری ہے۔

 

شفٹنگ کے لیے گھر کے باہر موجود سامان اور ٹرک

 

نئے گھر کو نمی سے پاک بنائیں

نئے گھر میں شفٹ ہونے سے قبل اور سامان بھیجنے سے پہلے اس بات کو یقینی بنانا ضروری ہے کہ جس گھر میں آپ شفٹ ہو رہے ہیں وہ موسمِ برسات کی وجہ سے نمی اور پانی سے پاک ہو۔

اگر آپ پہلے گھر کی صفائی کر چکے ہیں تو شفٹنگ کے دن دوبارہ نئے گھر کی حالت دیکھنا اور اسے سامان وصول کرنے کے قابل بنانا نہایت ضروری ہے۔

ایسا نہ ہو کہ پرانے گھر سے صحیح سلامت آنے والا سامان نئے گھر پہنچ کر خراب ہو جائے۔

پہلے کیا شفٹ کریں

 شفٹنگ کرنی ہو اور یہ پتہ نہ ہو کہ آج بارش ہو گی یا نہیں۔ تو جس وقت آپ شفٹنگ کے لیے تیار ہوں اور سامان لے جانے والی گاڑی بھی پہنچ جائے تو موسم کا جائزہ لیں۔ اور اسی مناسبت سے سامان بھیجنے کا انتخاب کریں۔ اگر فی الوقت بارش نہیں ہو رہی تو وہ سامان گاڑی میں لوڈ کریں جو بارش میں خراب ہو سکتا ہے۔ اس طرح بھیگے بغیر اور احتیاط کے ساتھ سامان منزل تک پہنچ سکتا ہے۔

 

پیک ہوئے سامان کے ڈبے ترتیب میں رکھتی خاتون

 

سب سے پہلے کون سا سامان کھولیں

شفٹنگ کے دوران ایسے سامان پر نظررکھیں جس کا ٹوٹنے کا زیادہ اندیشہ ہے۔ ایسا سامان پہلے کھولیں جسے زیادہ دھچکے یا جھٹکے لگ چکے ہیں۔ یا پھر وہ بکس اور پیک شدہ سامان جس کی حالت دیکھ کر آپ کو سامان کے سلامت نہ رہنے کا شائبہ ہو۔

مزید خبروں اور اپڈیٹس کیلئے وزٹ کیجئے گرانہ بلاگ۔