ورلڈ بینک کی حالیہ رپورٹ، ‘پنجاب کے ریئل اسٹیٹ سیکٹر سے 400 ارب کا ٹیکس ریوینیو اکٹھا کیا جاسکتا ہے’

22BC3111-238F-4BDA-BCCF-E26F384F728D

ورلڈ بینک نے اپنی حالیہ رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ پنجاب کے ریئل اسٹیٹ سیکٹر سے ڈیجیٹل لینڈ ریکارڈ کے ذریعے 400 ارب روپے تک کا ٹیکس ریوینیو حاصل کیا جا سکتا ہے۔

ورلڈ بینک کا کہنا ہے کہ پنجاب میں اراضی کے ڈیٹا کو ڈیجیٹل بنانے کی ضرورت ہے جس سے 400 ارب روپے تک کا ٹیکس اکٹھا کیا جا سکے گا۔

عالمی بینک کا اپنی رپورٹ میں کہنا ہے کہ پنجاب میں ہاؤسنگ یونٹس کی تعداد میں اضافہ آبادی میں اضافے کی نسبت کم ہے جس کی وجہ سے ایک خلیج جنم لے رہا ہے جس کا حل وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔

رپورٹ کے مطابق سروسز سیلز ٹیکس، غیر منقولہ پراپرٹی ٹیکس اور اسٹامپ ڈیوٹی سے سب سے زیادہ ریوینیو حاصل کیا جاسکتا ہے۔ اِن تین بڑے ذرائع میں سے دو کا تعلق براہِ راست ریئل اسٹیٹ سیکٹر سے ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ غیر منقولہ پراپرٹی ٹیکس بورڈ آف ریوینیو کے ذریعے ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن ڈیپارٹمنٹ اور اسٹامپ ڈیوٹی سے حاصل کیا جا سکتا ہے۔

عالمی بینک کا کہنا ہے کہ زمینی ریکارڈ کا بہتر نظام، پالیسی اقدامات کے لیے منظم تجزیے سے متعلق بنیادی ڈیٹا فراہم کرے گا۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ صوبائی اراضی سے متعلق ٹیکس اتھارٹیز کے درمیان ہم آہنگی کی ضرورت ہے تاکہ غیر منقولہ پراپرٹی ٹیکس اور اسٹامپ ڈیوٹی کے نظام کو بہتر بنایا جا سکے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پنجاب میں اربن ہاؤسنگ گیپ سال 2047ء تک 11.3 ملین یونٹ تک پہنچنے کی توقع ہے، جو آبادی میں اضافے، دیہی علاقوں سے نقل مکانی اور موجودہ ہاؤسنگ اسٹاک کی کمی سے تعلق رکھتا ہے۔ یاد رہے کہ پنجاب ہاؤسنگ اینڈ ٹاؤن پلاننگ ایجنسی کے زیرِ انتظام صوبے میں دو لاکھ ہاؤسنگ یونٹس تعمیر ہونے کی توقع ہے۔

رپورٹ کا کہنا ہے کہ کینٹونمنٹس اور ہاؤسنگ ڈویلپمنٹ اتھارٹیز اپنے متعلقہ دائرہ اختیار میں زمینی پلاٹ اور پراپرٹیز کا ریکارڈ قائم رکھتے ہیں اور مالکان، بینکوں اور دیگر کو لینڈ رجسٹری کی خدمات فراہم کرتے ہیں۔ تاہم نیم سرکاری اراضی کے ریکارڈ، ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن کے اربن پراپرٹی ٹیکس ریکارڈ سے ہم آہنگ نہیں ہیں۔ عالمی بینک کے مطابق کوئی بھی ادارہ پنجاب کی اراضی کے ریکارڈ کو اپ ڈیٹ نہیں کر رہا اور مختلف ایجنسیوں کے ذریعے کی جانے والی ریکارڈ کیپنگ انتہائی سطحی ہے۔

عالمی بینک نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ شہری علاقوں کی خواتین کو اراضی کی ملکیت میں شفافیت نہ ہونے، زمین سے متعلق محدود معلومات اور مختلف پابندیوں کی وجہ سے وراثت میں اراضی کے حقوق سے محروم ہونے کا سامنا ہے۔

اِن مسائل سے نمٹنے کے لئے عالمی بینک نے پنجاب اربن لینڈ سسٹمز کے لئے 150 ملین ڈالر کی فراہمی کا وعدہ کیا ہے۔

وفاقی اور صوبائی دونوں حکومتیں تسلیم کرتی ہیں کہ صوبے کے اربن لینڈ ریکارڈ کے مسائل حل نہ ہونے کی صورت میں پنجاب میں نیا پاکستان ہاؤسنگ پروگرام کے تحت اڑھائی لاکھ کم لاگت ہاؤسنگ یونٹس کی تعمیر کا ہدف حاصل کرنا ممکن نہیں ہوگا۔

تاہم عالمی بینک لینڈ ریکارڈ مینجمنٹ اینڈ انفارمیشن سسٹمز (ایل آر ایم آئی ایس) کے لیے ڈیجیٹل لینڈ ریکارڈ اور کیڈرسٹل میپنگ کے لیے 103 ملین ڈالر فراہم کرے گا۔ عالمی بینک ایک جدید لینڈ انفارمیشن سسٹم کے قیام کے لیے 35.5 ملین ڈالر الگ سے فراہم کرے گا، جو دیہی اور شہری اراضی کے ریکارڈ کو مربوط رکھنے میں معاون ہوگا۔

مزید خبروں اور اپڈیٹس کیلئے وزٹ کیجئے گرانہ بلاگ۔