پاکستانی شہریوں کی دولت کا 80 فیصد حصہ ریئل اسٹیٹ سے وابستہ ہے: عالمی بینک

اسلام آباد: عالمی بینک کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستانی شہریوں کی دولت کا 80 فیصد حصہ ریئل اسٹیٹ اور رہائشی عمارتوں میں سرمایہ کاری سے وابستہ ہے۔

رپورٹ کے مطابق عالمی بینک کا کہنا ہے کہ پاکستانی شہریوں کے پاس دولت کا ایک بڑا حصہ جمع ہے لیکن اس دولت کا 80 فیصد حصہ رہائشی عمارتوں میں سرمایہ کاری پر مشتمل ہے جبکہ ان شہریوں کی اوسط عمر 60 سے 65 سال ریکارڈ کی گئی ہے۔

عالمی بینک کی رپورٹ کے مطابق 25 سے 65 سال کی عمر کے درمیان اوسط پاکستانی شہریوں کی مجموعی دولت میں گذشتہ 60 ماہ کے دوران نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے جبکہ اس اضافے کی ایک بڑی وجہ رہائشی عمارتوں میں سرمایہ کاری ہے۔

عالمی بینک کا کہنا ہے کہ تعمیراتی شعبے اور ریئل اسٹیٹ  کے علاوہ دولت کمانے کی دیگر اقسام جیسے تجارت، زراعت اور صنعتی شعبے سمیت مالیاتی اثاثے جمود کا شکار ہیں۔

رپورٹ کے مطابق عملی زندگی کے ابتدائی ادوار میں اثاثے بنانے کا عمل سست روی کا شکار ہوتا ہے تاہم 40 سے 65 سال کی عمر کے درمیان دولت کمانے اور اثاثے بنانے کے لیے شہریوں کی تگ و دو میں غیر یقینی حد تک اضافہ دیکھا گیا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بنیادی طور پر رئیل اسٹیٹ اور اراضی کی خرید و فروخت محفوظ سرمایہ کاری کا بہترین ذریعہ ہیں جبکہ دیگر دستیاب وسائل میں کہیں نہ کہیں خدشات کا عنصر پایا جاتا ہے۔

عالمی بینک کے مطابق ہاؤسنگ کے شعبے میں شہریوں کی سرمایہ کاری اس وجہ سے بھی محفوظ تصور کی جاتی ہے کیونکہ خاندان کے دیگر افراد آسانی سے چوری یا مختص نہیں کر سکتے۔

عالمی بینک کی رپورٹ میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ پاکستان دیگر پڑوسی ممالک کے مقابلے میں مالیاتی توازن کو وسعت دینے میں سست روی کا شکار رہا ہے اور اس میں حائل رکاوٹوں کو دور کیا جانا چاہیے۔

عالمی بینک نے کہا ہے کہ حال ہی میں منظور ہونے والے ہاؤسنگ منصوبے پاکستان میں خاص طور پر کم آمدنی والے گھرانوں کی رہائشی ضروریات کو پورا کرنے میں معاون ثابت ہوں گے۔

عالمی بینک کے مطابق پاکستان میں سستی اور قابلِ رسائی رہائش کی بہت زیادہ مانگ ہے۔ اس کی آبادی 200 ملین سے زائد لوگوں پر مشتمل ہے اور یہ جنوبی ایشیا کا سب سے زیادہ شہری آبادی والا ملک ہے۔

عالمی بینک 3 تعمیراتی منصوبوں اور ان کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے مالی معاونت فراہم کرے گا۔

واضح رہے کہ عالمی بینک کا انتظامی بورڈ پاکستان میں ہاؤسنگ کے تین منصوبوں کیلئے 43 کروڑ 50 لاکھ ڈالرز کی مالی معاونت کی منظوری دے چکا ہے۔

ان منصوبوں میں پاکستان ہاؤسنگ فنانس پراجیکٹ، پنجاب اربن لینڈ سسٹم انہانسمنٹ پراجیکٹ اور پنجاب افورڈایبل ہاؤسنگ کے پروگرام شامل ہیں۔

ان تینوں منصوبوں سے بالخصوص کم آمدنی والے افراد کیلئے مکانات کیلئے قرضوں تک رسائی میں وسعت آئے گی اور شہری علاقوں میں کم آمدنی والے طبقات کیلئے مکانات کی تعمیر میں مدد ملے گی۔

ریئل اسٹیٹ سیکٹر نے گذشتہ چند دہائیوں سے پاکستان میں خاطر خواہ ترقی کی ہے۔

ایک محتاط اندازے کے مطابق پاکستان میں مذکورہ شعبے میں سرمایہ کاری کا حجم 750 ارب روپے سے تجاوز کر گیا ہے۔

ریئل اسٹیٹ کے حوالے سے ایک تاثر عام ہے کہ شاید یہ شعبہ محض پلاٹ یا گھر خریدنے اور اسے زیادہ قیمت پر فروخت کرنے تک محدود ہے جو کہ غلط ہے۔

کاروباری سرگرمیوں بالخصوص ریئل اسٹیٹ میں کامیابی کے ساتھ محفوظ سرمایہ کاری کے لیے چند بنیادی پہلوؤں کو ملحوظِ خاطر رکھنا انتہائی ضروری ہے۔

اِس سیکٹر کی عالمی سطح پر اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ سال 2020 میں عالمی ریئل اسٹیٹ مارکیٹ کا حجم 326.6 ٹریلین ڈالر تھا۔

کچھ مزید چونکا دینے والے حقائق کے مطابق گلوبل ریئل اسٹیٹ مارکیٹ کا 40 فیصد حصہ ایشیا پیسیفک ریجن کنٹرول کرتا ہے جبکہ مغربی یورپ کے پاس 24 فیصد مارکیٹ شیئر ہے۔

چین میں 1.4 ارب سے زیادہ افراد رہتے ہیں اور یہ گلوبل ریزیڈینشل مارکیٹ کا 30 فیصد حصہ اپنے پاس رکھتا ہے۔

امریکہ اس ضمن میں دوسرے نمبر پر آتا ہے جو کہ 11 فیصد حصے پر قابض ہے۔

چین، امریکہ، جاپان، جرمنی، برطانیہ، فرانس، ساؤتھ کوریا، کینیڈا، اٹلی اور آسٹریلیا تقریباً 75 فیصد گلوبل ریزیڈینشل ریئل اسٹیٹ کو کنٹرول کرتے ہیں۔

عالمی ریئل اسٹیٹ میں افریقہ کے پاس سب سے کم مارکیٹ ویلیو ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ گذشتہ چند سالوں سے پاکستان سمیت دنیا بھر میں تعمیراتی صنعت سمیت ریئل اسٹیٹ کے شعبے نے خاطر خواہ ترقی کی ہے۔ ریئل اسٹیٹ کا شعبہ اب پوری دنیا میں کسی بھی ملک کے مالیاتی اُمور اور معاشی ترقی میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔

ماضی کے ابتدائی ادوار میں ریئل اسٹیٹ کے شعبے کو عام طور پر پراپرٹی کی خرید و فروخت یا صرف گھروں کی کرایہ پر فراہمی سے جڑی کاروباری سرگرمیوں سے تعبیر کیا جاتا تھا۔ لیکن ایک طویل جدوجہد اور خود کو جدید ٹیکنالوجی، علوم اور تحقیق سے ہم آہنگ کرنے کے بعد آج مذکورہ شعبہ ایک نئی شناخت کے ساتھ دنیا بھر میں اپنی منفرد پہچان رکھتا ہے۔

ریئل اسٹیٹ شعبے کی ترقی و ترویج کی دیگر وجوہات میں سے ایک بنیادی وجہ یہ ہے کہ اس شعبے میں سرمایہ کاری کے نتیجے میں منافع کی شرح کسی بھی دوسرے کاروباری شعبے کے مقابلے میں ناقابلِ یقین حد تک زیادہ ہے۔

ایک عام مشاہدے کی بات ہے کہ پاکستان میں ریئل اسٹیٹ منصوبوں میں سرمایہ کاری کے نتیجے میں ہونے والے منافع کی شرح میں بتدریج اضافہ ملک میں غیر مستحکم سیاسی صورتحال اور مہنگائی جیسے عوامی مسائل سے مستثنٰی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سرمایہ کار نے اپنی تمام تر توجہ اس پُرکشش شعبے پر مرکوز کر لی ہے۔

رہائشی اور کمرشل منصوبوں کے بعد ریئل اسٹیٹ سے وابستہ سرمایہ کاروں نے سیاحت کے فروغ کے بعد اس شعبے میں سرمایہ کاری کا رُخ کر رکھا ہے۔

پاکستان کے شمالی علاقہ جات بلاشبہ قدرتی نظاروں، بلند و بالا برفانی چوٹیوں، بہتے جھرنوں اور سرسبز و شاداب کھلیانوں کی وجہ دنیا بھر میں اپنی مثال آپ ہیں۔

حکومت نے بھی سیاحت کے فروغ کے لیے خاطر خواہ اقدامات اٹھائے ہیں یہی وجہ ہے کہ سرمایہ کاروں نے اب شمالی علاقہ جات اور سیاحتی مقامات پر تعمیراتی منصوبوں میں سرمایہ لگانے کو ترجیح دینا شروع کر دی ہے۔اسلام آباد سے لے کر ہنزہ تک، کوئٹہ سے گوادر تک، پشاور سے طورخم اور کراچی میں سمندری پٹی سے ملحقہ سیاحتی مقامات پر ہوٹلز، ریسٹورانٹس، رہائشی و کمرشل منصوبوں پر تعمیرات کا سلسلہ تیزی سے جاری ہے۔

مزید خبروں اور اپڈیٹس کیلئے وزٹ کیجئے گرانہ بلاگ۔

About Zeeshan Javaid

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔