نمکین سرزمین کی میٹھی سیر: دنیا میں نمک کے ذخائر کا دوسرا بڑا احاطہ، کھیوڑہ مائنز

WhatsApp Image 2022-03-08 at 20.58.59

ضلع جہلم میں واقع کھیوڑہ سالٹ مائن اسلام آباد سے تقریباً 165 کلومیٹر اور لاہور سے 245 کلومیٹر دُور ہے۔ کوہستان نمک کا یہ سلسلہ بیگن والا (جہلم) سے کالا باغ تک پھیلا ہوا ہے۔

کروڑوں سال پرانے کیمبرین عہد کے حجری آثار سنبھالے دُنیا کے دُوسرے بڑے نمک کے ذخیرے کی لمبائی 300 کلومیٹر اور چوڑائی 830 کلومیٹر تک ہے۔ یہ بائیس سو فٹ سے 4990 فٹ تک اُونچا نمک کا ایک عظیم ذخیرہ ہے جہاں ابھی تک 2 کروڑ 13 لاکھ ٹن کے ذخائر موجود ہیں۔

آج کی اس تحریر میں ہم اپنے قارئین کو اِس نمکین سرزمین کی میٹھی سیر کرانے جا رہے ہیں۔ جی ہاں! ہماری مراد کھیوڑہ مائنز سے ہی ہے جو خود میں تاریخی اہمیت کے ساتھ ساتھ خود میں قدرت کا ایک عظیم شاہکار ہے۔

نمکین سرزمین کی میٹھی سیر: دنیا میں نمک کے ذخائر کا دوسرا بڑا احاطہ، کھیوڑہ مائنز

کھیوڑہ نمک کی کانوں کا تاریخی پسِ منظر

ویسے تو پاکستان قدرت کی بے شمار نعمتوں سے مالامال ہے لیکن کھیوڑہ میں موجود نمک کی کان دنیا کی دوسری سب سے بڑی اور تاریخی مناظر پیش کرنے والی نمک کی کان ہے۔

کھیوڑہ سالٹ مائن ضلع جہلم، صوبہ پنجاب کی تحصیل پنڈ دادنخان میں واقع ہے۔ یہ جگہ اسلام آباد سے 165 کلومیٹر جبکہ لاہور سے تقریباً 245 کلومیٹر فاصلے پر ہے۔ تاریخی پسِ منظر کے مطابق کھیوڑہ میں نمک کی دریافت 320 قبلِ مسیح میں اُس وقت ہوئی، جب دریائے جہلم کے کنارے سکندراعظم اور راجہ پورس کے مابین جنگ لڑی گئی۔

سکندراعظم کے فوجیوں کے گھوڑے اس علاقے میں چرنے کے دوران پتھروں کو چاٹتے پائے گئے جس سے یہاں نمک کی موجودگی کا انکشاف ہوا۔ اُس وقت سے یہاں نمک نکالنے کا کام جاری ہے۔ یہ دنیا میں نمک کا اہم ترین ذخیرہ ہے۔ کوہستان نمک کا سلسلہ دریائے جہلم کے قریب بیگن والہ سے شروع ہوکر دریائے سندھ کالا باغ میں ختم ہوتا ہے۔ اس کی لمبائی 300 کلومیٹر، چوڑائی 830 کلومیٹر اور اونچائی 2200 سے 4990 فٹ ہے۔

کیا آپ جانتے ہیں کہ کھیوڑہ کو ارضیاتی عجائب گھر قرار دیا جا چکا ہے

کھیوڑہ نمک کی کانوں کو ارضیاتی عجائب گھر قرار دیا گیا ہے کیونکہ یہاں کروڑوں سال پرانے قبل کیمبری (پری کیمبرین) عہد سے موجودہ دور تک کے رکازات (فوسلز) موجود ہیں۔ 1849 میں انگریز انتظامیہ نے اس کان سے نمک نکالنے کا کام سائنسی بنیادوں پر شروع کیا۔

ایک معروف انگریز مائننگ انجینئر ڈاکٹر وارتھ نے 1872 ء میں نمک کے ذخائر تک براہ راست رسائی کے لیے بڑی کان کی کھدائی کروائی جو تاحال فعال ہے۔ اس وقت کھیوڑہ کی کانوں میں 17 منزلوں سے نمک نکالا جارہا ہے۔ سائنسی اصولوں کے مطابق کان سے 50 فیصد نمک نکال کر 50 فیصد بطور ستون چھوڑ دیا جاتا ہے، جو کان کی مضبوطی کو قائم رکھتا ہے۔

اس جگہ پر 20 لاکھ روپے کی لاگت سے میوزیم بنانے کا منصوبہ کافی عرصہ سے التواء کا شکار ہے۔ حکومت کی طرف سے گرانٹ ملنے میں تاخیر اس کا سبب بتایا جاتا ہے۔ 2 مارچ 2013ء کو اس کا باقاعدہ افتتاح کیا گیا تھا۔

نمکین سرزمین کی میٹھی سیر: دنیا میں نمک کے ذخائر کا دوسرا بڑا احاطہ، کھیوڑہ مائنز

کھیوڑہ نمک کی کانوں کی پیداواری صلاحیت

سن 1916ء میں یہاں کان سے باہر نمک نکالنے کے اوزاروں کو بنانے اور مرمت وغیرہ کے لیے ایک ورکشاپ (لوہار خانہ) قائم کی گئی تھی، جس کی قدیم خوبصورت عمارت عدم توجہ کے باعث خستہ حالی کا شکار ہو چکی ہے اور دیگر نوادر کھلے آسمان تلے ہونے کی وجہ سے ضائع ہو رہے ہیں۔

اس کی موجودہ پیداوار 3,70,000 ٹن سالانہ ہے یعنی یہاں پر تقریباً اگلے 60 سال کے لیے نمک موجود ہے۔ جس میں سے تقریباً 2 لاکھ ٹن سالانہ صرف آئی سی آئی کو دیا جاتا ہے۔ باقی ماندہ ملکی ضروریات پوری کرنے کے بعد بھارت سمیت دُوسرے ممالک کو بھیج دیا جاتا ہے۔

کھیوڑہ کان کا نمک دنیا میں خوردنی نمک کا دوسرا سب سے بڑا ذخیرہ ہے۔ تخمینے کے مطابق یہاں نمک کے ذخائر 8 کروڑ ٹن سے لے کر 60 کروڑ ٹن تک ہوسکتے ہیں۔ کان کے چیف مائننگ آفیسر کے مطابق برطانوی دور سے اب تک کان میں کچھ تبدیل نہیں ہوا اور نہ ہی ہونے کے امکانات ہیں۔

ان کے خیال میں کان میں کسی قسم کی سرمایہ کاری ایک فضول حرکت ہوگی کیونکہ دنیا میں راک سالٹ یا معدنی نمک کی قیمتیں نہایت کم ہوچکی ہیں۔ اس کے برعکس برطانوی دور میں معدنی نمک اس قدر اہم تھا کہ برطانوی راج نے اس پر قبضہ کرنا ضروری سمجھا۔

چیف مائننگ انجینئر کے مطابق ہائی گریڈ یا اعلیٰ معیار کے نمک کی ابھی تک مانگ ہے اور کھیوڑہ سے نکالا جانے والا نمک اسی معیار کے تحت شمار کیا جاتا ہے جس کی خام حالت میں بھی نمک کی مقدار 98 فیصد یا اس سے زیادہ ہوتی ہے۔

ایک روایت کے مطابق نمک کے یہ ذخائر تقریباً چار سو سال قبل مسیح میں اُس وقت دریافت ہوئے تھے جب سکندراعظم کی فوج اس علاقے سے گزر رہی تھی، جس کے بارے میں تفصیل اوپر درج کی جاچکی ہے۔

نمکین سرزمین کی میٹھی سیر: دنیا میں نمک کے ذخائر کا دوسرا بڑا احاطہ، کھیوڑہ مائنز

کھیوڑہ میں سیاحتی سہولیات

کھیوڑہ کی کان میں بیس بستروں والا ایک ہسپتال کا منصوبہ زیرِ تعمیر ہے جہاں دمے کے مریض آ سکیں گے اور نمک زدہ ہوا میں سانس لے سکیں گے۔ کیونکہ کہا جاتا ہے کہ یہ ہوا دمے کے مریض کے لیے انتہائی صحت بخش ہے۔

اس کے علاوہ ایک اور عمدہ بات یہ ہے کہ کان کے قریب نمک کی چٹانوں سے بنی ہوئی ایک خوبصورت مسجد بھی ہے جو کان کی سیر کو آنے والے لوگوں میں بہت مقبول ہے۔ کان کے مزدور تو شاذ و نادر ہی وہاں کام روک کر جا پاتے ہیں۔

کھیوڑہ کی کان میں کیفے ٹیریا کے علاوہ بچوں کے جھولے وغیرہ بھی موجود ہیں۔ کھیوڑہ کو نمک کا شہر بھی کہا جاتا ہے جہاں تفریح پر آنے والا ہر انسان جگہ جگہ نمک کے ڈھیر دیکھ کر ان مناظر سے آنکھوں کو راحت بخش سکتا ہے۔

علاوہ ازیں کھیوڑہ کے علاقے میں سیاحوں کے لیے ایک چھوٹی ریل نما سواری کا بھی اہتمام کر رکھا ہے جو وہاں آنے والے سیاحوں کو نمک کی کانوں میں زیر زمین سرنگوں میں سیر کی سہولت فراہم کرتی ہے۔

اس کے علاوہ وہاں کھیوڑہ کے علاقے میں داخل ہوتے ہی آپ کو جگہ جگہ نمک کے پتھروں سے بنی تزئین و آرائش کی مختلف چیزیں خریداری کے لیے دستیاب ہوتی ہیں۔ ان اشیاء میں نمک سے بنے لیمپ دنیا بھر میں مشہور ہیں۔

مزید خبروں اور اپڈیٹس کیلئے وزٹ کیجئے گرانہ بلاگ۔