گھر کی تعمیر کے لیے بینک سے قرضہ کیسے لیا جائے؟

WhatsApp Image 2022-03-15 at 3.24.27 PM

زندگی بہت سی خواہشات کا محور ہے جس میں ہر آرزو کا ایک الگ رنگ ہے۔

تمام رنگ مل کر ایک قوس قُزح کی صورت اختیار کرتے ہیں جو آسمان پر اتنی بلند ہوتی ہے کہ ہم اسے شوق سے دیکھتے رہتے ہیں اور اسے چھونے کی خواہش میں دن رات ایک کرتے ہیں۔ محنت اور لگن ہمیں بلندی تک لے جاتی ہے اور ایک دن ہم اس قوس قُزح کے قریب پہنچ جاتے ہیں۔ یہ عمل ساری زندگی جاری رہتا ہے اور ہماری خواہشات بڑھتی رہتی ہیں۔

ایک متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے افراد خوابوں اور خواہشات کا ڈھیر لیے عمر کے اس حصے میں جا پہنچتے ہیں جہاں جسمانی مضبوطی اور دل کی آرزو دم توڑنے لگتی ہے۔ ذیادہ تر لوگوں کی خواہش ہوتی ہے کہ اُن کا ذاتی گھر ہو ہے تاکہ عمر کا باقی حصہ سکون سے گزارنے کے ساتھ ساتھ اپنے بچوں کو ایک مضبوط چھت فراہم کر سکیں۔

حکومتِ وقت کی جانب سے گھر کی تعمیر کرنے کے لیے قرضہ فراہمی کی سکیم ایسے افراد کے لیے کسی معجزے سے کم نہیں۔ گزشتہ برس حکومت کی جانب سے میرا پاکستان میرا گھر سکیم کا آغاز ہوا، جس میں یہ اعلان کیا گیا کہ بیس لاکھ کے قرضے پہ گیارہ ہزار روپے قسط لی جائے گی۔ اِس سے پہلے اتنے قرض کی ادائیگی میں اتنے ریلیف کا اعلان کبھی نہیں کیا گیا تھا۔

 

کونسے بینک قرضہ فراہم کر رہے ہیں؟

نیشنل بینک اور دیگر کمرشل بینکوں کے ذریعے پانچ مرلے کے گھروں کے لیے 60 لاکھ روپے تک قرضہ لیا جا سکتا ہے۔ پانچ سے دس مرلے کے گھروں کے لیے ایک کروڑ روپے کا قرضہ دیا جا سکتا ہے، لیکن کم آمدنی والے افراد کے لیے قسط 16، 17 ہزار روپے سے شروع کی جا سکتی ہے۔ قرضے کی رقم اگر کم ہوگی تو یقینی طور پر اُس کی قسط بھی کم ہوگی۔

 

اسٹیٹ بینک کی نگرانی

کسی بھی شخص کو قرض دینے سے متعلق بینک کی واضح ہدایات یا گائیڈ لائنز ہوتی ہیں جن کی نگرانی اسٹیٹ بینک کرتا ہے۔

تنخواہ دار شخص اگر قرض حاصل کر رہا ہوتا ہے تو بینک یہ دیکھتا ہے کہ وہ نوکری کہاں کر رہا ہے اور اس کی ملازمت مستقل ہے یا نہیں۔

آپ اگر آمدن نہیں بتا سکتے تو بینکوں کو اپنے اخراجات سے آگاہ کر سکتے ہیں کہ آپ کتنا بل دے رہے ہیں یا بچوں کی فیس کتنی دے رہے ہیں۔ اِس طرح کے اخراجات سے بینک آپ کی آمدنی کا اندازہ لگا کر قرضہ دے گا۔

قرض لینے میں مسائل کا سامنا کرنے کی صورت میں اسٹیٹ بینک کی جانب سے 16 شکایتی مراکز تشکیل دیے گئے ہیں۔
پاکستان میں مشترکہ خاندانی نظام کی صورت میں گھر کے دو یا دو سے زائد افراد مل کر بھی قرضہ لے سکتے ہیں۔

 

قرض کی اقسام

آٹو لون، اسٹوڈنٹ لون، ہوم لون اور کاروباری قرض وغیرہ بڑے پیمانے پر لیے گئے قرضوں میں سے کچھ ہیں۔ اُن میں سے ہر ایک کی وضاحت ایک خاص وجہ سے کی گئی ہے اور اِس لیے وہ مدت، سود کی شرح اور واجب الادا ادائیگی سے مختلف ہو سکتے ہیں۔

گھر کے لیے قرضوں میں زمین کی خریداری، گھر کی خریداری اور ہوم ایکسٹینشن لون شامل ہیں۔ گھر کی تعمیر کے علاوہ آپ بینکوں سے کاروباری قرضہ بھی لے سکتے ہیں۔
کنزیومر لون سے مراد چھوٹے قرضے ہیں جو ایک بینک اپنے صارفین کو نیا کاروبار شروع کرنے، پہلے سے موجود کاروبار کو وسعت دینے یا کسی اور شعبے میں سرمایہ کاری کے لیے دیتے ہیں۔ اِس میں گاڑی کی خریداری، کریڈٹ کارڈ یا گھر کی تعمیر کے لیے بھی قرض کی فراہمی شامل ہے۔

نان کنزیومر لون میں پیسوں یا کیش کی صورت میں مالی معاونت نہیں کی جاتی بلکہ بینک کسی بھی کاروباری لین دین کے سلسلے میں اپنے صارف کی طرف سے ضمانت یعنی گارنٹی فراہم کرتا ہے۔

 

بینک سے قرضہ لینے کا طریقہ کار

سب سے پہلے نیشنل بینک یا کسی بھی منتخب کردہ نجی بینک تشریف لے جانے پر ایک فارم آپ کو مہیا کیا جائے گا، جسے پُر کرنے کے بعد آپ کو ضروری کوائف اور کاغذات ساتھ لگا کر اُسے جمع کروانا ہوگا۔ تقریباَ تیس دن کے عرصے میں آپ سے رابطہ کیا جائے گا۔

 

مارک اپ کیا ہے؟

مارک اپ سے مراد قرضہ استعمال کرنے کی فیس ہے جس کا ایک حصہ اسٹیٹ بینک جبکہ دوسرا قرض فراہم کرنے والے بینک کو ملتا ہے۔

 

قرض کی واپسی

اگر آپ نے نیشنل بینک آف پاکستان سے 60 لاکھ تک یا 30 لاکھ تک قرض لیا ہے تو آپ نے ہر مہینے تین ہزار روپے نیشنل بینک آف پاکستان میں جمع کروانے ہیں۔ نیشنل بینک کے مطابق آپ نے بینک سے جو رقم بطور قرض لی ہے صرف وہی آپ کو واپس کرنی ہوگی۔

مختلف بینکوں کے مطابق قرض کی واپسی کی مدت عام طور پر 6 تا 12 ماہ بعد شروع ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مختلف بینک قرض کی ادائیگی کے لیے مختلف مدت فراہم کرتے ہیں۔

 

قرضہ لینے کے لئے اہلیت کا معیار

پاکستان کی شہریت رکھنے والے امیدوار جن کے شناختی کارڈ بنے ہوئے ہیں۔

وہ تنخواہ دار لوگ جن کی عمر کی حد 23 سال سے 60 سال تک ہے۔

وہ کاروباری افراد جن کی عمر کی حد 23 سال سے 65 سال تک ہو۔

پروفیشنلز جن کی عمر کی حد 23 سال سے 65 سال تک ہے۔

 

کاغذات یا ڈاکومینٹس

پاکستانی نیشنلٹی کا پروف

بزنس پروف

سیلری سرٹیفکیٹ

بینک اسٹیٹمنٹ

 

قسطیں اور شرح سود

پہلے پانچ سال کے لیے پانچ فیصد اور اگلے پانچ سال کے لیے سات فیصد شرح سود پر قرضے دیے جا رہے ہیں۔ یہ سکیم خاص طور پر کم آمدن والے افراد یا اُن خاندانوں کے لیے ہے جو پہلے کبھی یہ بوجھ اٹھا ہی نہیں پاتے تھے۔ کمرشل بینکوں نے قرضہ لے کر گھر کی تعمیر پر ایک شرط لگا رکھی ہے جس کے مطابق پلاٹ صارف کے قبضے میں یا اس کے نام پر ہونا چاہیے۔

 

کن علاقوں میں گھر بنانے کے لیے قرضہ دستیاب نہیں؟

بینکوں کی جانب سے دیہی علاقوں یا شہر کے مضافاتی علاقوں میں گھر کی تعمیر کے لیے قرض کی فراہمی نہیں کی جا رہی۔ درخواست گزار شہری علاقے میں ہی گھر بنا سکتے ہیں۔

مزید خبروں اور اپڈیٹس کیلئے وزٹ کیجئے گرانہ بلاگ۔