کیا آپ اپنے موجودہ گھر سے مطمئن ہیں؟

انسان کا گھر اُس کی شخصیت کی مکمل تصویر فراہم کرتا ہے۔ ہم ایک ایسی دنیا میں رہتے ہیں جہاں ہر شخص کو دوسرے کے بارے میں رائے قائم کرنے کی جلدی ہے۔ رائے کیسے قائم کی جائے، انسان اُس کے متعدد سہارے ڈھونڈتا ہے جس میں دوسرے کا لباس، استعمال کردہ اشیاء، بول چال اور گھر کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔ فلموں اور ڈراموں میں بہت بار آپ نے دیکھا ہوگا کہ جب بھی کوئی کسی کے گھر میں داخل ہو، تو ارد گرد چھتوں اور دیواروں پر نگاہ ضرور دوڑاتا ہے، فلم ساز اپنے کردار کا تعارف بھی اُس کے رہن کی جگہ سے کرواتا ہے، کردار مالی طور پر مستحکم ہو تو گھر اور طرح کا ہوتا ہے جبکہ کردار معاشی لہاظ سے کمزور ہو تو گھر اور طرح کا ہوتا ہے۔ آج کی تحریر گھر کے گرد گھومتی ہے۔

گھر وہاں، جہاں دل لگے ۔۔

کہتے ہیں کہ گھر وہیں ہوتا ہے جہاں انسان کا دل لگے۔ انسان جہاں رہتا ہے اور جہاں کا گھر ہو، یہ دونوں مکمل طور پر دو مختلف جگہیں ہوسکتی ہیں۔ اسی طرح سے گھر اور مکان کا فرق سمجھنا بھی ضروری ہے کہ مکان تو چھتوں اور چار دیواری سے بن جاتا ہے لیکن مکان کو گھر بنتے بہت سا وقت درکار ہوتا ہے۔ گھر وہاں کے مکین، اُن کے آپس کا میل ملاپ اور رشتوں میں ڈھلی مٹھاس کا مجموعہ ہوتا ہے اور کسی بھی مکان کو گھر کرنے میں کافی سارے عوامل کار فرما ہوتے ہیں۔

کیا آپ اپنے موجودہ مسکن سے مطمئن ہیں؟

آج کا سوال انتہائی سادہ ہے، کیا آپ اپنے موجودہ مسکن سے مطمئن ہیں یا نہیں؟ اچھا، یوں تو یہ سوال سادگی سے عبارت ہے مگر ایک لمحے کو یہ انسان کو ساکت کرنے اور ایک سوچ میں ڈالنے کیلئے کافی ہے۔ زندگی کے پرچے میں سوال مشکل بھی ہو تو لازم ضرور ہوتا ہے، لہٰذا اس کا جواب مکمل سوچ بچار کے بعد ہی دیا جاسکتا ہے۔ آپ اپنے گھر پر نگاہ دوڑائیں، آس پاس آپ کی ضرورت کی تمام اشیاء بکھری پڑی ہوگی۔ یہ اشیاء آپ کے روز مرہ کے استعمال میں ہونگی اور آپ کے طرزِ زندگی کے بارے میں کافی کچھ آشکار کرنے کو کافی ہوگی۔ آپ اپنی ذاتی زندگی میں کس قسم کے شخص ہیں، صفائی پسند ہیں یا آس پاس کی اشیاء کی طرح آپ کی شخصیت بھی بکھرنے بننے کے عمل سے روز گزرتی ہے، آپ کا گھر یہ سب بتانے کو کافی ہے۔ کہتے ہیں کہ مکان کی ویلیو پر اگر ایک چیز بہت اثر انداز ہوتی ہے تو وہ اس کی لوکیشن ہے، آپ کا گھر کہاں واقع ہے، یہ بھی آپ کے اپنے گھر سے مطمئن ہونے میں کافی رول پلے کرتا ہے۔ آپ کے گھر کے آس پاس ضروریاتِ زندگی کے لیے درکار سبھی جگہیں ہیں یا آپ کو اُن کی تلاش میں دور پار کے سفر پر نکلنا پڑتا ہے، یہ ایک ایسا پوائنٹ ہے جو غور طلب ہے۔

آس پاس کی سہولیات کا کردار

بہت سے لوگ کہتے ہیں کہ ہمیں اپنا گھر پسند تو بہت ہے مگر آس پاس کوئی پارک، کوئی مارکیٹ اور کوئی ہسپتال نہیں ہے، بہت سے لوگ کہتے ہیں کہ ہمارا دفتر ہمارے گھر سے بہت دور ہے لہٰذا ہم اپنے رہنے کی جگہ سے خوش نہیں، بہت سے لوگوں کی یہ رائے ہوتی ہے کہ ہمیں اپنا گھر پسند آجاتا مگر ہمارے علاقے میں کرائم ریٹ بہت زیادہ ہے، جرائم اور وارداتیں بہت ہوتی ہیں، بہت سے لوگوں کو یہ کہتے سنا گیا ہے کہ آس پڑوس کے لوگ اتنے اچھے اور ملنسار نہیں ہیں لہٰذا ہمیں اپنا موجودہ مسکن نہیں پسند نیز یہ کہ کافی سارے فیکٹرز ایسے ہیں جو اس جواب میں کردار ادا کرتے ہیں کہ آپ کو اپنا گھر پسند ہے یا نہیں ہے۔

گوگل کے مشورے ۔۔

اگر آپ یہ بات گوگل کریں کہ آپ موجودہ مسکن میں خوشی کیسے حاصل کرسکتے ہیں، تو گوگل آپ کو چند انتہائی مفید مشورے دیگا۔ یہ آپ سے کہے گا کہ آپ اپنے مکان کا دوسروں کا موازنہ کرنا چھوڑ دیں، دوسرے اپنے رستے پر ہیں جبکہ آپ کا راستہ اُن سے مکمل طور پر الگ ہے، دوسرا یہ کہ اپنے گھر میں صفائی ستھرائی کے عمل کو معمول بنا لیں، گندگی آپ کے ذہنی سکون کو ختم کردیتی ہے اور ایک پُر سکون مسکن ہی آپ کی خوشی کا مرکز و محور ہوتا ہے، تیسرا یہ کہ آپ اپنے گھر کو اپنی پسند کی اشیاء سے ڈیکوریٹ کریں اور وہ اشیاء جو آپ کی ذاتی تسکین کا باعث نہ بنے اُسے روزآنہ کی بنیادوں پر گھر سے بے دخل کریں۔ اپنے گھر کی ڈیکوریشن کو ہر کچھ ماہ بعد چینج کیا کریں تاکہ آپ ایک سیٹنگ سے بے کیف یکسانیت کا شکار نہ ہوں۔ انسان کو اپنے گھر کو اپنی ذات کے مطابق ہی ڈھالنا چاہیے کیونکہ آخر کو اُسی نے وہاں رہنا ہے لہٰذا کہتے ہیں کہ اپنا گھر دوسروں کی رائے کے مطابق نہیں بلکہ صرف اپنی ذات کی پسند نا پسند کے مطابق ہی بنانا چاہیے۔

مزید خبروں اور اپڈیٹس کیلئے وزٹ کیجئے گرانہ بلاگ۔

About wasib imdad

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے